Home / علامہ اقبال شاعری / با ل جبر یل / بال جبریل (حصہ دوم)

بال جبریل (حصہ دوم)

Bal-i Jibril (Gabriel’s Wing) continues from Bang-i Dara. Some of the verses had been written when Iqbal visited Britain, Italy, Egypt, Palestine, France, Spain and Afghanistan.

The work contains 15 ghazals addressed to God and 61 ghazals and 22 quatrains dealing the ego, faith, love, knowledge, the intellect and freedom. The poet recalls the past glory of Muslims as he deals with contemporary political problems.

انداز بياں گرچہ بہت شوخ نہيں ہے

قطعہ انداز بياں گرچہ بہت شوخ نہيں ہے انداز بياں گرچہ بہت شوخ نہيں ہے شايد کہ اتر جائے ترے دل ميں مری بات يا وسعت افلاک ميں تکبير مسلسل يا خاک کے آغوش ميں تسبيح و مناجات وہ مذہب مردان خود آگاہ و خدا مست يہ مذہب ملا و …

Read More »

کمال جوش جنوں ميں رہا ميں گرم طواف

کمال جوش جنوں ميں رہا ميں گرم طواف خدا کا شکر ، سلامت رہا حرم کا غلاف يہ اتفاق مبارک ہو مومنوں کے ليے کہ يک زباں ہيں فقيہان شہر ميرے خلاف تڑپ رہا ہے فلاطوں ميان غيب و حضور ازل سے اہل خرد کا مقام ہے اعراف ترے ضمير …

Read More »

ہے ياد مجھے نکتہ سلمان خوش آہنگ

ہے ياد مجھے نکتہ سلمان خوش آہنگ دنيا نہيں مردان جفاکش کے ليے تنگ چيتے کا جگر چاہيے ، شاہيں کا تجسس جی سکتے ہيں بے روشنی دانش و فرہنگ کر بلبل و طاؤس کی تقليد سے توبہ بلبل فقط آواز ہے ، طاؤس فقط رنگ سلمان: مسعود سور سليمان …

Read More »

تھا جہاں مدرسہ شيری و شاہنشاہی

تھا جہاں مدرسہ شيری و شاہنشاہی آج ان خانقہوں ميں ہے فقط روباہی نظر آئی نہ مجھے قافلہ سالاروں ميں وہ شبانی کہ ہے تمہيد کليم اللہی لذت نغمہ کہاں مرغ خوش الحاں کے ليے آہ ، اس باغ ميں کرتا ہے نفس کوتاہی ايک سرمستی و حيرت ہے سراپا …

Read More »

مری نوا سے ہوئے زندہ عارف و عامی

مری نوا سے ہوئے زندہ عارف و عامی ديا ہے ميں نے انھيں ذوق آتش آشامی حرم کے پاس کوئی اعجمی ہے زمزمہ سنج کہ تار تار ہوئے جامہ ہائے احرامی حقيقت ابدی ہے مقام شبيری بدلتے رہتے ہيں انداز کوفی و شامی مجھے يہ ڈر ہے مقامر ہيں پختہ …

Read More »

گرم فغاں ہے جرس ، اٹھ کہ گيا قافلہ

گرم فغاں ہے جرس ، اٹھ کہ گيا قافلہ وائے وہ رہرو کہ ہے منتظر راحلہ ! تيری طبيعت ہے اور ، تيرا زمانہ ہے اور تيرے موافق نہيں خانقہی سلسلہ دل ہو غلام خرد يا کہ امام خرد سالک رہ ، ہوشيار! سخت ہے يہ مرحلہ اس کی خودی …

Read More »

نے مہرہ باقی ، نے مہرہ بازی

نے مہرہ باقی ، نے مہرہ بازی جيتا ہے رومی ، ہارا ہے رازی روشن ہے جام جمشيد اب تک شاہی نہيں ہے بے شيشہ بازی دل ہے مسلماں ميرا نہ تيرا تو بھی نمازی ، ميں بھی نمازی! ميں جانتا ہوں انجام اس کا جس معرکے ميں ملا ہوں …

Read More »

کی حق سے فرشتوں نے اقبال کی غمازی

کی حق سے فرشتوں نے اقبال کی غمازی گستاخ ہے ، کرتا ہے فطرت کی حنا بندی خاکی ہے مگر اس کے انداز ہيں افلاکی رومی ہے نہ شامی ہے ، کاشی نہ سمرقندی سکھلائی فرشتوں کو آدم کی تڑپ اس نے آدم کو سکھاتا ہے آداب خداوندی ——————— Translation …

Read More »

فطرت نے نہ بخشا مجھے انديشہ چالاک

فطرت نے نہ بخشا مجھے انديشہ چالاک رکھتی ہے مگر طاقت پرواز مری خاک وہ خاک کہ ہے جس کا جنوں صيقل ادراک وہ خاک کہ جبريل کی ہے جس سے قبا چاک وہ خاک کہ پروائے نشيمن نہيں رکھتی چنتی نہيں پہنائے چمن سے خس و خاشاک اس خاک …

Read More »

يوں ہاتھ نہيں آتا وہ گوہر يک دانہ

يوں ہاتھ نہيں آتا وہ گوہر يک دانہ يک رنگی و آزادی اے ہمت مردانہ يا سنجر و طغرل کا آئين جہاں گيری يا مرد قلندر کے انداز ملوکانہ يا حيرت فارابی يا تاب و تب رومی يا فکر حکيمانہ يا جذب کليمانہ يا عقل کی روباہی يا عشق يد …

Read More »

ہوا نہ زور سے اس کے کوئی گريباں چاک

ہوا نہ زور سے اس کے کوئی گريباں چاک اگرچہ مغربيوں کا جنوں بھی تھا چالاک مئے يقيں سے ضمير حيات ہے پرسوز نصيب مدرسہ يا رب يہ آب آتش ناک عروج آدم خاکی کے منتظر ہيں تمام يہ کہکشاں ، يہ ستارے ، يہ نيلگوں افلاک يہی زمانہ حاضر …

Read More »

رہا نہ حلقہ صوفی ميں سوز مشتاقی

رہا نہ حلقہ صوفی ميں سوز مشتاقی فسانہ ہائے کرامات رہ گئے باقی خراب کوشک سلطان و خانقاہ فقير فغاں کہ تخت و مصلی کمال زراقی کرے گی داور محشر کو شرمسار اک روز کتاب صوفی و ملا کی سادہ اوراقی نہ چينی و عربی وہ ، نہ رومی و …

Read More »

مکتبوں ميں کہيں رعنائی افکار بھی ہے؟

مکتبوں ميں کہيں رعنائی افکار بھی ہے؟ خانقاہوں ميں کہيں لذت اسرار بھی ہے؟ منزل راہرواں دور بھی ، دشوار بھی ہے کوئی اس قافلے ميں قافلہ سالار بھی ہے؟ بڑھ کے خيبر سے ہے يہ معرکہ دين و وطن اس زمانے ميں کوئی حيدر کرار بھی ہے؟ علم کی …

Read More »

خودی ہو علم سے محکم تو غيرت جبريل

خودی ہو علم سے محکم تو غيرت جبريل اگر ہو عشق سے محکم تو صور اسرافيل عذاب دانش حاضر سے باخبر ہوں ميں کہ ميں اس آگ ميں ڈالا گيا ہوں مثل خليل فريب خوردہ منزل ہے کارواں ورنہ زيادہ راحت منزل سے ہے نشاط رحيل نظر نہيں تو مرے …

Read More »

ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عيش جہاں کا دوام

فرانس ميں    لکھے گئے ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عيش جہاں کا دوام ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عيش جہاں کا دوام وائے تمنائے خام ، وائے تمنائے خام! پير حرم نے کہا سن کے مری روئداد پختہ ہے تيری فغاں ، اب نہ اسے دل ميں تھام تھا ارنی گو کليم …

Read More »

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہيں

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہيں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہيں تہی ، زندگی سے نہيں يہ فضائيں يہاں سينکڑوں کارواں اور بھی ہيں قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر چمن اور بھی آشياں اور بھی ہيں اگر کھو گيا اک نشيمن تو کيا غم …

Read More »

يہ پيران کليسا و حرم ، اے وائے مجبوری

يہ پيران کليسا و حرم ، اے وائے مجبوری صلہ ان کی کدوی کاوش کا ہے سينوں کی بے نوری يقيں پيدا کر اے ناداں! يقيں سے ہاتھ آتی ہے وہ درويشی ، کہ جس کے سامنے جھکتی ہے فغفوری کبھی حيرت ، کبھی مستی ، کبھی آہ سحرگاہی بدلتا …

Read More »

فطرت کو خرد کے روبرو کر

Fitrat Ko Khird Ke Ru-Ba-Ru Kar

فطرت کو خرد کے روبرو کر تسخير مقام رنگ و بو کر تو اپنی خودی کو کھو چکا ہے کھوئی ہوئی شے کی جستجو کر تاروں کی فضا ہے بيکرانہ تو بھی يہ مقام آرزو کر عرياں ہيں ترے چمن کی حوريں چاک گل و لالہ کو رفو کر بے …

Read More »

نہ ہو طغيان مشتاقی تو ميں رہتا نہيں باقی

Na Ho Tughyan-e-Mushtaqi To Main Rehta Nahin Baqi

نہ ہو طغيان مشتاقی تو ميں رہتا نہيں باقی کہ ميری زندگی کيا ہے ، يہی طغيان مشتاقی مجھے فطرت نوا پر پے بہ پے مجبور کرتی ہے ابھی محفل ميں ہے شايد کوئی درد آشنا باقی وہ آتش آج بھی تيرا نشيمن پھونک سکتی ہے طلب صادق نہ ہو …

Read More »

مجھے آہ و فغان نيم شب کا پھر پيام آيا

Mujhe Aah-o-Faghan-e-Neem Shab Ka Phir Peyam Aya

مجھے آہ و فغان نيم شب کا پھر پيام آيا تھم اے رہرو کہ شايد پھر کوئی مشکل مقام آيا ذرا تقدير کی گہرائيوں ميں ڈوب جا تو بھی کہ اس جنگاہ سے ميں بن کے تيغ بے نيام آيا يہ مصرع لکھ ديا کس شوخ نے محراب مسجد پر …

Read More »

جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی

Jab Ishq Sikhata Hai Adab-e-Khud Agaahi

جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی کھلتے ہيں غلاموں پر اسرار شہنشاہی عطار ہو ، رومی ہو ، رازی ہو ، غزالی ہو کچھ ہاتھ نہيں آتا بے آہ سحر گاہی نوميد نہ ہو ان سے اے رہبر فرزانہ! کم کوش تو ہيں ليکن بے ذوق نہيں راہی اے …

Read More »

خردمندوں سے کيا پوچھوں کہ ميری ابتدا کيا ہے

Khird-Mandon Se Kya Puchon Ke Meri Ibtida Kya Hai

خردمندوں سے کيا پوچھوں کہ ميری ابتدا کيا ہے کہ ميں اس فکر ميں رہتا ہوں ، ميری انتہا کيا ہے خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدير سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے ، بتا تيری رضا کيا ہے مقام گفتگو کيا ہے اگر ميں کيميا گرہوں …

Read More »

اعجاز ہے کسی کا يا گردش زمانہ

Ejaz Hai Kisi Ka Ya Gardish-e-Zamana!

اعجاز ہے کسی کا يا گردش زمانہ ٹوٹا ہے ايشيا ميں سحر فرنگيانہ تعمير آشياں سے ميں نے يہ راز پايا اہل نوا کے حق ميں بجلی ہے آشيانہ يہ بندگی خدائی ، وہ بندگی گدائی يا بندہ خدا بن يا بندہ زمانہ غافل نہ ہو خودی سے ، کر …

Read More »

ہر چيز ہے محو خود نمائی .

Har Cheez Hai Mehw-e-Khudnumai

ہر چيز ہے محو خود نمائی ہر ذرہ شہيد کبريائی بے ذوق نمود زندگی ، موت تعمير خودی ميں ہے خدائی رائی زور خودی سے پربت پربت ضعف خودی سے رائی تارے آوارہ و کم آميز تقدير وجود ہے جدائی يہ پچھلے پہر کا زرد رو چاند بے راز و …

Read More »

ہر شے مسافر ، ہر چيز راہی

Har Shay Musafir, Har Cheez Rahi

ہر شے مسافر ، ہر چيز راہی کيا چاند تارے ، کيا مرغ و ماہی تو مرد ميداں ، تو مير لشکر نوری حضوری تيرے سپاہی کچھ قدر اپنی تو نے نہ جانی يہ بے سوادی ، يہ کم نگاہی دنيائے دوں کی کب تک غلامی يا راہبی کر يا …

Read More »

افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر

Aflak Se Ata Hai Nalon Ka Jawab Akhir

افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر کرتے ہيں خطاب آخر ، اٹھتے ہيں حجاب آخر احوال محبت ميں کچھ فرق نہيں ايسا سوز و تب و تاب اول ، سوزو تب و تاب آخر ميں تجھ کو بتاتا ہوں ، تقدير امم کيا ہے شمشير و سناں اول …

Read More »

خرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکيمانہ

Khirad Ne Mujh Ko Atta Ki Nazar Hakeemana

خرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکيمانہ سکھائی عشق نے مجھ کو حديث رندانہ نہ بادہ ہے ، نہ صراحی ، نہ دور پيمانہ فقط نگاہ سے رنگيں ہے بزم جانانہ مری نوائے پريشاں کو شاعری نہ سمجھ کہ ميں ہوں محرم راز درون ميخانہ کلی کو ديکھ کہ …

Read More »

تو اے اسير مکاں! لامکاں سے دور نہيں

Tu Ae Aseer-E-Makan! La-Makan Se Door Nahin

تو اے اسير مکاں! لامکاں سے دور نہيں وہ جلوہ گاہ ترے خاک داں سے دور نہيں وہ مرغزار کہ بيم خزاں نہيں جس ميں غميں نہ ہو کہ ترے آشياں سے دور نہيں يہ ہے خلاصہ علم قلندری کہ حيات خدنگ جستہ ہے ليکن کماں سے دور نہيں فضا …

Read More »

نگاہ فقر ميں شان سکندری کيا ہے

Nigah-e-Faqr Mein Shan-e-Sikandari Kya Hai

نگاہ فقر ميں شان سکندری کيا ہے خراج کی جو گدا ہو ، وہ قيصری کيا ہے! بتوں سے تجھ کو اميديں ، خدا سے نوميدی مجھے بتا تو سہی اور کافری کيا ہے! فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنھيں خبر نہيں روش بندہ پروری کيا …

Read More »

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہيں

Khird Ke Paas Khabar Ke Siwa Kuch Aur Nahin

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہيں ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہيں ہر اک مقام سے آگے مقام ہے تيرا حيات ذوق سفر کے سوا کچھ اور نہيں گراں بہا ہے تو حفظ خودی سے ہے ورنہ گہر ميں آب گہر کے سوا کچھ اور …

Read More »

تری نگاہ فرومايہ ، ہاتھ ہے کوتاہ

Teri Nigah Firomaya, Hath Hai Kotah

تری نگاہ فرومايہ ، ہاتھ ہے کوتاہ ترا گنہ کہ نخيل بلند کا ہے گناہ گلا تو گھونٹ ديا اہل مدرسہ نے ترا کہاں سے آئے صدا ‘لا الہ الا اللہ’ خودی ميں گم ہے خدائی ، تلاش کر غافل يہی ہے تيرے ليے اب صلاح کار کی راہ حديث …

Read More »

يہ پيام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی

Ye Peyam De Gyi Hai Mujhe Bad-e-Subahgahi

يہ پيام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی کہ خودی کے عارفوں کا ہے مقام پادشاہی تری زندگی اسی سے ، تری آبرو اسی سے جو رہی خودی تو شاہی ، نہ رہی تو روسياہی نہ ديا نشان منزل مجھے اے حکيم تو نے مجھے کيا گلہ ہو تجھ …

Read More »

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہيں

Khudi Woh Behar Hai Jis Ka Koi Kinara Nahin

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہيں تو آبجو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہيں طلسم گنبد گردوں کو توڑ سکتے ہيں زجاج کی يہ عمارت ہے ، سنگ خارہ نہيں خودی ميں ڈوبتے ہيں پھر ابھر بھی آتے ہيں مگر يہ حوصلہ مرد ہيچ کارہ نہيں ترے …

Read More »

کمال ترک نہيں آب و گل سے مہجوری

Kamal-E-Tark Nahin Aab-O-Gil Se Mehjoori

کمال ترک نہيں آب و گل سے مہجوری کمال ترک ہے تسخير خاکی و نوری ميں ايسے فقر سے اے اہل حلقہ باز آيا تمھارا فقر ہے بے دولتی و رنجوری نہ فقر کے ليے موزوں ، نہ سلطنت کے ليے وہ قوم جس نے گنوايا متاع تيموری سنے نہ …

Read More »

يہ دير کہن کيا ہے ، انبار خس و خاشاک

Ye Dair-E-Kuhan Kya Hai, Anbaar-E-Khas-O-Khashaak

يہ دير کہن کيا ہے ، انبار خس و خاشاک مشکل ہے گزر اس ميں بے نالہ آتش ناک نخچير محبت کا قصہ نہيں طولانی لطف خلش پيکاں ، آسودگی فتراک کھويا گيا جو مطلب ہفتاد و دو ملت ميں سمجھے گا نہ تو جب تک بے رنگ نہ ہو …

Read More »

زمستانی ہوا ميں گرچہ تھی شمشير کی تيزی

Zmastani Hawa Mein Garcha Thi Shamsheer Ki Taizi

زمستانی ہوا ميں گرچہ تھی شمشير کی تيزی نہ چھوٹے مجھ سے لندن ميں بھی آداب سحر خيزی کہيں سرمايہ محفل تھی ميری گرم گفتاری کہيں سب کو پريشاں کر گئی ميری کم آميزی زمام کار اگر مزدور کے ہاتھوں ميں ہو پھر کيا! طريق کوہکن ميں بھی وہی حيلے …

Read More »

مير سپاہ ناسزا ، لشکرياں شکستہ صف

Mir-e-Sipah Na Saza, Lashkariyan Shakista Saf

مير سپاہ ناسزا ، لشکرياں شکستہ صف آہ! وہ تير نيم کش جس کا نہ ہو کوئی ہدف تيرے محيط ميں کہيں گوہر زندگی نہيں ڈھونڈ چکا ميں موج موج ، ديکھ چکا صدف صدف عشق بتاں سے ہاتھ اٹھا ، اپنی خودی ميں ڈوب جا نقش و نگار دير …

Read More »

خودی کی شوخی و تندی ميں کبر و ناز نہيں

Khudi Ki Shokhi-O-Tundi Mein Kubr-O-Naaz Nahin

خودی کی شوخی و تندی ميں کبر و ناز نہيں جو ناز ہو بھی تو بے لذت نياز نہيں نگاہ عشق دل زندہ کی تلاش ميں ہے شکار مردہ سزاوار شاہباز نہيں مری نوا ميں نہيں ہے ادائے محبوبی کہ بانگ صور سرافيل دل نواز نہيں سوال مے نہ کروں …

Read More »

دل بيدار فاروقی ، دل بيدار کراری

Dil Baidar Farooqi, Dil Baidar Karari

دل بيدار فاروقی ، دل بيدار کراری مس آدم کے حق ميں کيميا ہے دل کی بيداری دل بيدار پيدا کر کہ دل خوابيدہ ہے جب تک نہ تيری ضرب ہے کاری ، نہ ميری ضرب ہے کاری مشام تيز سے ملتا ہے صحرا ميں نشاں اس کا ظن و …

Read More »

يہ حوريان فرنگی ، دل و نظر کا حجاب

Ye Hooriyan-E-Farangi, Dil-O-Nazar Ka Hijab

يہ حوريان فرنگی ، دل و نظر کا حجاب بہشت مغربياں ، جلوہ ہائے پا بہ رکاب دل و نظر کا سفينہ سنبھال کر لے جا مہ و ستارہ ہيں بحر وجود ميں گرداب جہان صوت و صدا ميں سما نہيں سکتی لطيفہ ازلی ہے فغان چنگ و رباب سکھا …

Read More »