Home / اردو شاعری / Urdu Poetry

Urdu Poetry

آپ کی مہک ان ہواؤں میں ہے
کچھ اپنا اپنا سا نکھرا ان فضاؤں میں ہے
خوشیاں چومے آپکے قدم ہمیشہ
یہی آرزو ان دعاؤں میں ہے

کہو تو دو لفظ
مانگو تو بندگی
سوچو تو گہرا ساگر
ڈوبو تو زندگی
کرو تو آسان
نبھاؤ تو مشکل
بکھرے تو سارا زمانہ
سمیٹو تو صرف تم

میرے ہمسفر تو حساب دے، میں ہوں بے زباں تو جواب دے
پل بھر میں پورا جو ہو اِس کے، میرے آنسؤں کو وہ خواب دے
تیرا لمس ہو میری زندگی جس سے کھیلوں صرف تیرے واسطے
جو کبھی نہ وقت خزاں رہے، میرے باغباں وہ شباب دے
کہیں جگنؤں کی قطار ہو، کہیں تتلیوں کی بہار ہو
تیرے گرم سانسوں سے بج اٹھے، میری جان مجھے وہ رباب دے
میری جان اک تیرے واسطے ناگزیر ہے نہ خجاب ہے
جو چھپا لے سارے جہاں سے، میرے ہمسفر وہ حجاب دے
میرے کان جس کو سنا کریں میری آنکھ میں جو رہا کرے
میرے روح جس کو پڑھا کرے مجھے یس طرح کی کتاب دے
تیرے پیار سے نہ یہ جی بھرے، تیری پیاس یون ہی جواں رہے
میرے ہم دم! مجھے پیار دے، مجھے قربتوں کا عذاب دے۔۔۔۔

وابستہ تیری حیات سے میری حیات ہے
قاصر ہوں تیری دید سے یہ اور بات ہے

عروج تجھے اللہ کچھ ایسا عطا کرے
کہ رشک تیری قسمت پہ آفتاب کرے
ہر موڑ پہ ہوں فرشتوں کے لشکر ساتھ ساتھ
ہر موڑ پہ تیری حفاظت اللہ کرے

تیرے دامن میں خوشیوں کی کلیاں مہکیں
تیرے جیون میں سدا ٹہری بہار رہے
تو جو ہنس دے تو بکھر جائیں زمین پر موتی
ہاں جو چپ ہو تو لک بھی اداس رہے

شب سیاہ میں چراغ نظر تیری آنکھیں
راہ حیات میں رخت سفر تیری آنکھیں
طلوع ہو تیری پلکوں کے ساۓ میں ہر صبح
جھکتی رہیں میری ہر شام پہ تیری آنکھیں
خدا کرے کہ میں بس جاؤں تیری آنکھیں میں
کئے رہیں میری آنکھیں میں گھر تیری آنکھیں
میری نگاہ میں رہ کر بھی جانے کیوں آخر
میری نگاہ سے نہیں بے خبر تیری آنکھیں
خدا کرے رہیں ہمیشہ میری ہمسفر تیری آنکھیں

اس کو دیکھوں تو يوں نظر مہکے
جس طرح پھول شاخ پہ مہکے
اپنے ہمراہ خوشبوئیں لے کر
جب وہ آۓ تو رہ گزر مہکے
اسکو محسوس بھی اگر کر لوں
شام مہکے میری سحر مہکے
یہ عنایت ہے اس کے خوابوں کی
میرا بستر جو رات بھر مہکے
وہ چلے میرے ساتھ ساھ اگر
میری زندگی کا ہر سفر مہکے

یہ دل تو کہتا ہے زمانے سے چھپا لوں تم کو
دل کی دھڑکن کی طرح دل میں بسا لوں تم کو
کو ئی احساس جدائی نہ رہنے پائے
اس طرح میری جان خود میں سما لوں تم کو
تم جو کبھی روٹھے مجھ سے میرے دل کے مالک
ساری دنیا سے خفا ہو کر منا لوں تم کو

آرزو ہے کہ وفا بن کے تیرے ساتھ رہوں
دھڑکتے دل کی صدا بن کے تیرے ساتھ رہوں
میرے ہونٹوں سے جسے کوئی چھین نہ سکے
زندگی کی وہ دعا بن کے تیرے ساتھ رہوں

یہ یاد ہی تو یاد ہے کہ ہر یاد میں تو یاد ہے
جس یاد میں تو یاد نہیں وہ بھی کوئی یاد ہے
یہ جو یاد یاد کا ہے سلسلہ، اس سلسلہ یاد میں
اے میری زندگی! فقط تو ہی تو یاد ہے

نظروں سے دل میں اتر جانے کا فن رکھتے ہو
تم نظروں سے اپنا بنانے کا فن رکھتے ھو
کچھ لوگ جیت کے بھی ہار جاتے ہیں
تم یار کر بھی جیت جانے کا فن رکھتے ہو

کاش سچ یہ میرا سپنا ہو جائے
سب سے پیارا دوست اپنا ہو جائے
خدا ہماری دوستی سلامت رکھے
ورنہ لفظ دوستی ہی فنا ہو جائے

ضبط کی آخری حدوں کو سر کر جانا
زندگی غم کی سہی ہنس کر بسر کر جانا
اونچے محل بنانے سے کہیں بہتر ہے
کسی کے دل میں ذرا سا گھر کر جانا

حسن پر اپنے جمال رکھنا
نگاہ پر اپنی کمال رکھنا
دینا چاہتے ہو اگر خوشیاں ہمیں
تو خوش رہنا اور اپنا خیال رکھنا

تیری امید تیرا انتظار کرتے ہیں
آج تو صنم ہم یہ اقرار کرتے ہیں
تم پر تو سارا جہان بھی کر دیں نثار
جان من ہم تو صرف تم سے پیارکرتے ہیں

وعدے پہ وہ اعتبار نہیں کرتے
ہم محبت سر بازار نہیں کرتے
ڈرتا ہے دل انکی رسوائی سے
اور وہ سوچتے ہیں ہم پیار نہیں کرتے

رفاقتوں کے سلسلے نہ توٹ جائیں کہیں
کبھی کبھی ملنے کا سلسلہ رکھنا
مانا کہ اور لوگ بھی ہیں قریب تیرے
مگر میری ذات کو اوروں سے جدا رکھنا

تم کو معلوم بھی شاید یہ کبھی ہو کہ نا ہو
میری راتیں تیری یادوں سے سجی رہتی ہیں
میری سانسیں تیری خوشبو میں بسی رہتی ہیں
میری آنکھوں میں تیرا سپنا سجا رہتا ہے
ہاں میرے دل میں تیرا عکس بسا رہتا ہے
کچھ اسطرح میرے دل کے پاس ہو تم
جیسے قریب شہ رگ کے خدا رہتا ہے

کرو گے یاد تو ہر بات یاد آئے گی
گزرتے وقت کی ہر صدا تڑپائے گی
تلاش کرو گے ہم سے بہتر ہمسفر کوئی
نگاہ دور تلک جا کر لوٹ آئے گی

ہمارے حافظے کی ایک زمانہ داد دیتا ہے
مگر تم یاد آو تو زمانہ بھول جاتے ہیں ہم

اداس خود کو کبھی ہونے مت دینا
آنکھوں کو اپنی کبھی رونے مت دینا
بہت ہی خاص ہو تم میرے لئے اے صنم
اس اک خیال کو خود سے جدا ہونے مت دینا

نہ گجرے کی دھار
نہ موتیوں کے ہار
نہ کوئی پیا سنگھار
تم پھر بھی کتنی سندر ہو
اڑے خوشبو، جب چلے تو
بولے تو بجے ستار
تیرا انگ سچا سونا
مسکان سچے موتی
یہ دل گاِئے ایک پکار
تم کتنی سندر ہو۔۔۔

سارے جہاں کی خوشیاں اس کا نصیب کر دے
ہنستا رہے سدا وہ اسے خوش نصیب کر دے
کبھی دل نہ اسکا ٹوٹے، کبھی وہ چوٹ نہ کھائے
اسکو وفا کے یا رب! اتنا قریب کر دے
اسکے لبوں پہ سدا ہوں پھیلی مسکراہٹیں
قسمت میں اس کی ہنسنا میرے حبیب کر دے
چل کر جہاں بھی جائے پھولوں کے راستے ہوں
منزل ہر خوشی کی اسکے نزدیک کر دے

میری چاہت ہے پھولوں میں خوشبو کی طرح
تو میرے پاس ہے دل میں دھڑکن کی طرح
اپنی محبت کے جذبات کو میں کیسے کروں بیاں
کہیں دل بکھر نہ جائے ریت کے ذروں کی طرح
کاش تو جان جائے میری محبت کی شدت کو کبھی
تو میرے پاس آئے سمندر میں لہروں کی طرح

کچھ خواب ہیں جنکو لکھنا ہے
حسین تعبیر کی صورت دینی ہے
کچھ لوگ ہیں غم زدہ دل والے
جنھیں اپنی محبت دینی ہے
اے عمر رواں! ذرا آہستہ چل
ابھی خاصا قرض چکانا ہے
کچھ پھول ہیں جنکو چننا ہے
اور ہار کی صورت دینی ہے
کچھ اپنی نیند باقی ہے جسے
بانٹنا ہے کچھ پیاروں میں
ان کو بھی تو راحت دینی ہے.

مجھے اس بات کا غم نہیں کہ بدل گیا زمانہ
مری زندگی ہے تم سے، کہیں تم بدل نہ جانا.

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی
کوئی تازہ ہوا سی چلی ہے ابھی
وقت اچھا آنے والا ہے اے صنم
غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی.

تمام عمر تجھے میرا پیار ملے
خدا کرے کہ خوشی بار بار ملے
یہ دعا ہے رہیں پھول تیری راہوں میں
قدم قدم پہ تجھے موسم بہار ملے.

تیری یادیں تیری باتیں تیرے سپنے دیکھوں پل پل
عشق جنوں کی حد تک پہنچا، اب شاید ہو جاوًں پاگل
اتنی وحشت پھیل گئی ہے، جن رستوں سے بھی گزروں میں
گونج اٹھتے ہیں سناٹے اور دیر تک رہتی ہے ہلچل
چپکے چپکے بارش میں ہم لوگوں کی نظروں سے چھپ کر
جی بھر کے اب رو لیتے ہیں، جب بھی ٹوٹ کے برسے بادل.

پھول، خوشبو اور نظارے
چاند ستارے سارے کے سارے
لگتے ہیں مجھ کو بھی پیارے
جب بھی تم ہو ساتھ ہمارے.

جب تصور میرا چپکے سے تجھے چھو آئے
اپنی ہر سانس سے مجھکو تیری خوشبو آئے
پیار نے ہم میں کوئی فرق نہ چھوڑا باقی
جھیل میں عکس تو میرا ہو، نظر تو آئے.

بسا ہے کون تیرے دل میں گل بدن اے آفاق؎
کہ بو گلاب کی آئی ہے تیرے پسینے سے .

جو سب دیتے ہیں وہ ہم نہیں دیں گے
پیار جب بھی دینگے کم نہیں دیں گے
یقین نہ ہو تو کبھی آزما لینا اے دلبر
زندگی میں آپکو ہم کوئی غم نہیں دیں گے .

تم کسی طرح نہ میری آزمائش کر سکو گے
وفا سے زیادہ اور کیا فرمائش کر سکو گے
پیار ہے میرا اتنا جتنا سمندر میں پانی
پانی کے قطروں کی کیا پیمائش کر سکو گے.

اے زندگی! مجھ سے یہ دغا نہ کر
میں اسکے بنا جیوں یہ دعا نہ کر
کوئی دیکھے اسے تو ہوتی ہے چبھن
اے ہوا! تو بھی اب اسے چھوا نہ کر.

آنکھوں سے میری اس لئے لالی نہیں جاتی
یادوں سے کوئی رات جو خالی نہیں جاتی
مانگے جو تو، وہ تیری جھولی میں ڈال دوں
تیری تو کوئی بات بھی ٹالی نہیں جاتی.

چپکے سے چاند کی روشنی آپ کی ہو جائے
دھیرے سے ہوا کا جھونکہ آپکو کچھ کہ جائے
دل سے جو چاہتے ہو وہ مانگ لو ﷲ سے
ہم دعا کرینگے آپ کی ہر دعا پوری ہو جائے.

مسکان تیرے ہونٹوں سے کبھی جائے نہ
آنسو تیری پلکوں پہ کبھی آئے نہ
پورا ہو جائے ہر خواب تیرا اور جو
پورا نہ ہو وہ خواب کبھی آئے نہ.

لہو میں رنگ کی صورت بسا ہے خیال تیرا
میں کس طرح تیری یادوں سے فاصلہ رکھوں
غرض نہیں مجھے کسی بھی شخص سے
میں صرف تیرے لئے سب سے واسطہ رکھوں.

رنگ رنگ میں تیری یاد سمائے تو کیا کروں
دل سے تیرا خیال نہ جائے تو کیا کروں
دیوانی ہوں میں ایسی کہ جاگوں تمام رات
مجھے میرا نصیب جگائے تو کیا کروں۔

یا ﷲ! میرے جسم میں جب تک جان رہے
تجھ پہ صدقے اور تیرے محبوب پہ قربان رہے
میں رہوں یا نہ رہوں لیکن یہ دعا ہے دل کی
دین محمدﷺ رہے اور عزت قرآن رہے۔

یہ کس نے کہا تم کوچ کرو، باتیں نہ بناؤ جی
یہ شہر تمہارا اپنا ہے، اسے چھوڑ نہ جاؤ جی
جتنے بھی یہاں کے باسی ہیں سب تم سے پیار کریں
کیا ان سے بھی منہ پھیرو گے؟ یہ ظلم نہ ڈھاؤ جی
کیا سوچ کر تم نے سینچی تھی یہ کیاری چاہت کی
تم جن کو ہنسانے آئے تھے، ان کو نہ رلاؤ جی
کچھ سال تو کیا، آخری سانس تک رکھوں گی کھلا دروازہ
کب لوٹ کر تم گھر آؤ گے، اپنی سجنی کو بتاؤ نا جی۔

ہجر کی آگ میں سلگو تو برا لگتا ہے
تم میرے پیار کو ترسو تو برا لگتا ہے
اک تمنا ہے فقط مجھ پہ مہربان رہو
تم کسی اور کو دیکھو تو برا لگتا ہے
میری روح ترستی ہے خوشبو کو تیری
تم کہیں اور جا کے مہکو تو برا لگتا ہے
آرزو ہے، تمہیں ہر پل اپنے قریب دیکھوں
تم میرے پاس سے اٹھو تو برا لگتا ہے
میں اٹھا سکتا ہوں جب سب ناز تمہارے
تم اگر ناز نہ کرو تو برا لگتا ہے۔

دل دھڑکن کے بناء
جسم روح کے بناء
انسان محبت کے بناء
حسن تعریف کے بناء
پھول خوشبو کے بناء
اور کوئی آپکے بناء
بہت اداس ہے۔۔۔

پیار سے بڑی کوئی مجبوری نہیں ہوتی
کمی اپنوں کی کبھی پوری نہیں ہوتی
دلوں کا جدا ہونا الگ بات ہے
نظروں سے جدا ہونا کوئی دوری نہیں ہوتی

دوست دوست نہیں دل کی دعا ہوتا ہے
محسوس تب ہوتا ہے جب جدا ہوتا ہے
بناء دوست کے جینا سزا ہوتا ہے اور
دوست اچھا ہو تو رب کی عطا ہوتا ہے۔

تو چمکتا چاند تیری روشنی اچھی لگی
تو میرا اپنا ہے تیری دوستی اچھی لگی
تجھ سے پہلے تو نہیں تھا زندگی کا کچھ پتا
تو ملا تو تجھ سے مل کے زندگی اچھی لگی۔

ہر شام در و دیوار سجایا کرتے ہیں
ہر خواب میں تیرا دیدار کیا کرتے ہیں
دیوانے ہیں تو دیوانے ہی سہی ہم تیرے
جو ہر وقت تیرے ملنے کا انتظار کرتے ہیں۔

باغوں میں پھول کھلتے رہینگے
رات کو دیئے جلتے رہینگے
دعا ہے آپ خوش رہیں ہمیشہ
زندگی رہی تو ہم ملتے رہینگے.

کہیں اندھیرا تو کہیں شام ہو گی
میری ہر خوشی آپکے نام ہو گی
کچھ مانگ کے تو دیکھو اے دوست
آپ سے وفا کرتے یہ زندگی تمام ہو گی.

اے ﷲ! آج نظروں کو کچھ ایسی بینائی دے
جدھر دیکھوں میں، ادھر وہی دکھائی دے
کاش کہ ایسی مہربانی ہو جائے ہوا میں
اسکو پکاروں میں اور اسی کو سنائی دے.

کیا کہوں تم کو؟
خواب کہوں تو بکھر جائے گا
دل کہوں تو ٹوٹ جائے گا
ساون کہوں تو برس جائے گا
دریا کہوں تو بہہ جائے گا
آنسو کہوں تو نکل جائے گا
چاند کہوں تو ڈھل جائے گا
تو پھر کیوں نہ آپکو زندگی کہوں
کم از کم موت سے پہلے تو
آپ کا ساتھ نہ چھوٹ پائے گا.

ہر بات سے انکار نہیں ہوتا
ہر راستے پر انتظار نہیں ہوتا
یوں تو اور لوگ بھی آپ کو چاہتے ہوں گے
مگر سب کی چاہت میں ہم جیسا پیار نہیں ہوتا۔

اتر کر دیکھو میری دوستی کی گہرائی میں
سوچنا میرے بارے میں رات کی گہرائی میں
اگر ہو جائے آپ کو میری دوستی کا احساس
ملے گا میرا عکس تمہیں اپنی پرچھائی میں۔

ہنستے رہیں آپ سدا ہزاروں کے بیج میں
کھلتے ہیں جیسے پھول بہاروں کے بیج میں
روشن رہیں آپ دنیا میں ایسے
جیسے چاند ہے چمکتا ستاروں کے بیج میں۔

دل جیت لو، وہ ہنر ہم بھی رکھتے ہیں
قتل کر دے وہ نظر ہم بھی رکھتے ہیں
وعدہ کیا ہے کسی سے مسکرانے کا
ورنہ آنکھوں میں سمندر ہم بھی رکھتے ہیں۔

ہم چپ رہتے ہیں کہیں کوئی خفا نہ ہو جائے
بھولے سے ہم سے کوئی خطا نہ ہو جائے
بڑی مشکل سے کوئی دوست ملا ہے
ڈر لگتا ہے وہ ہم سے کہیں جدا نہ ہو جائے۔

تم تمنا کرو جن حسین لمحوں کی
وہ لمحے تمہارے قدموں میں ہوں
خدا تمکو وہ سب کچھ حقیقت میں دے
جو سوچا تم نے اپنے سپنوں میں ہو۔

جینے کی نئی ادا دی ہے
خوش رہنے کی اس نے دعا دی ہے
اے خدا! اسے سارا جہان دینا
جس نے اپنے دل میں ہمیں جگہ دی ہے۔

کاش کہ اک شخص میری تقدیر ہو جائے
میں اس کا آئینہ، وہ میری تصویر ہو جائے
بھلے ٹوٹ جائے سارے جگ سے ناتا میرا
مگر اس کی یاد کا ہر لمحہ میری جاگیر ہو جائے۔

تیرے خیال کو دل سے کبھی جدا نہ کروں
تیرے بغیر تو میں سانس بھی نہ لیا کروں
جو تو ملا تو مجھے مشورہ دیا دل نے
کہ اب خدا سے کوئی اور التجا نہ کروں۔

نہ روٹھ میری جان، زمانہ روٹھ جائے گا
تیرے روٹھ جانے سے میرا دل ٹوٹ جائے گا۔

جو ہم نہ ہوں گے تو کون منائے گا تمہیں
یہ بری بات ہے ہر بات پہ روٹھا نہ کرو۔

جیسا دل ہو ویسا منظر ہوتا ہے
موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے۔

نکل رہی ہے میرے دل کی دھڑکنوں سے یہ دعا
کہ ہر خوشی کو خود ہی تیرا انتظار رہے۔

سلامت رہے تیری عادت مسکرانے کی
تیرا دل سمیٹ لے ہر خوشی زمانے کی۔

چہرے پہ خوشی آ جاتی ہے، آنکھوں میں سرور آ جاتا ہے
جب تم ہمیں اپنا کہتے ہو، آنکھوں میں غرور آ جاتا ہے۔

جفا جو عشق میں ہو وہ جفا ہی نہیں
غم نہ ہو تو زندگی میں مزہ ہی نہیں۔

جو چاہو ضرور کرو مگر تو صرف پیار نہ کرو
اگر کرو بھی پیار تو پھر کبھی بے وفائی نہ کرو۔

عشق میں مرنا، عشق میں جینا
اگر ہمت نہ ہو تو عشق نہ کرنا۔

محبت معنی و الفاظ میں لائی نہیں جاتی
یہ وہ حقیقت ہے جو سمجھائی نہیں جاتی۔

ہم پھولوں کے سوداگر ہیں، سودا سچّا کرتے ہیں
جو دوست ہی پھولوں جیسا ہو ہم بن مول بک جاتے ہیں۔

حق پرستی کا جو ہاتھوں میں علم رکھتے ہیں
زخم کھانے کو وہ سینوں میں بھی دم رکھتے ہیں۔

یہ کہہ کر دل نے میرے حوصلے بڑھائے ہیں
غموں کی دھوپ کے آگے خوشی کے سائے ہیں۔

نہ جی بھر کہ دیکھا نہ جی بھر کہ بات کی
بڑی آرزو تھی تجھ سے ملاقات کی۔

فانوس بن کے جس کی حفاظت ہوا کر
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے۔

بارشوں کے موسم میں دوستی اچھی نہیں
کچا تیرا مکان ہے، کچھ تو خیال کر۔

ہر لفظ کتابوں میں تیرا عکس لئے ہے
اک پھول سا چہرہ مجھے پڑھنے نہیں دیتا۔

وہ دل ہی کیا جو تیرے ملنے کی دعا نہ کرے
میں تجھ سے دور ہو کر زندہ رہوں خدا نہ کرے
یہ ٹھیک ہے کہ کوئی کسی کے لیئے مرتا نہیں
لیکن خدا کسی کو کسی سے جدا نہ کرے
رہے گا میرا پیار تیرے ساتھ زندگی بن کر
یہ اور بات ہے کہ میری زندگی وفا نہ کرے
سنا ہے اُس کو محبت دعائیں دیتی ہے
جو دل پہ تو چوٹ کھائے مگر گلہ نہ کرے۔

پھر تم ملو، پھر بات ہو گی
بڑی دل بھری چاندنی رات ہو گی
گھڑی دو گھڑی بیٹھ کر مسکرا دو
پھر نہ جانے کب ملاقات ہو گی۔

راہوں میں نہ بیٹھو، ہوائیں تنگ کریں گی
بچھڑے ہوئے لوگوں کی صدائیں تنگ کریں گی
مت ٹوٹ کر چاہو کسی کو آغازِ سفر میں
گر بچھڑ گیا تو اک اک ادا تنگ کرے گی۔

کسی کو دل کا افسانہ سنانا ہی نہیں آتا
بھرم اپنا کسی صورت گنوانا ہی نہیں آتا
بڑی عجیب طبیعت ہے زمانے میں میری
کوئی اگر خفا ہو جائے مجھ سے تو منانا ہی نہیں آتا

نہ ہو جذبات میں گرمی تو رہا کیا
عبادت کیا، محبت کیا، وفا کیا
تم اپنے ہو تو لب پہ شکوہ آیا
کیا جاتا ہے غیروں سے گلہ کیا۔

کرو کرو ستم ہم گلہ نہیں کرتے
یقینََا خزاں میں پھول کھلا نہیں کرتے
ملاؤ ہمیں خاک میں مگر اتنا یاد رکھنا
ہم جیسے لوگ دوبارہ ملا نہیں کرتے۔

دھوپ میں جو چھاؤں کی طرح ہو
اک ایسا ہمسفر مہرباں چاہتے ہیں
ہر سمت کھلیں الفتوں محبتوں کے پھول
چاہتوں کا ایسا اک جہاں چاہتے ہیں۔

سبھی لوگ تو کبھی بھی اچھے نہیں رہتے
جن سے سچ سیکھا ہو وہ بھی سچے نہیں رہتے
کیوں ایسا ہے کہ اعتبار کی ٹوٹی دہلیزوں پر
جو بہت ہوں اپنے، اپنے نہیں رہتے۔

دریا سمجھ رہے تھے جسے وہ سراب تھا
ظاہر ہوا کہ تشنہ لبی بھی اک عذاب تھا
کس کرب میں یا الہٰی! گزری ہے زندگی
لمحہ بھی میرے واسطے، یومِ حساب تھا۔

کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا تیرا
کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرہ تیرا
ہم بھی وہیں موجود تھے ہم سے بھی سب پوچھا کئے
ہم ہنس دیئے، ہم چپ رہے، منظور تھا پردہ تیرا
کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا تیرا
ہر شخص تیرا نام لے ہر شخص دیوانہ تیرا۔

میری باتوں سے تجھکو ملتا ہے سکوں میرے یار
تیرے لیئے لفظوں کا انبار لگا دیں گے
میرے دیدار سے تجھکو ملتا ہے سکوں میرے یار
تیرے لیئے شام و سحر سنگھار کرتے رہیں گے۔

کیا ہے جادو ان ہواؤں میں
میں چلوں پیار کی راہوں میں
اب تو یہی ہے دعا رب سے
میں ہمیشہ رہوں تیری نگاہوں میں۔

گیسو، رخسار، نگاہیں، ادائیں
دل چاہے لے لوں تیری بلائیں
چمک، لہک، مہک، چہک
خدا نے دی ہیں تجھے یہ رعنائیں۔

کہیں سے اس حسین آواز کی خوشبو پکارے گی
تو ان کے ساتھ بدلے گا دل برباد کا موسم
نہ کوئی غم خزاں کا ہے نہ خواہش بہاروں کی
ہمارے ساتھ ہے فقط کسی کی یاد کا موسم۔

آپ سے بات نہ ہو تو آپ کی فکر کرتے ہیں
ہر وقت اپنے آپ سے، آپ کا ذکر کرتے ہیں
آپ جیسا ہمسفر تو قسمت سے ملتا ہے
اس لیئے ہر پل رب کا شکر کرتے ہیں۔

یادوں کے اس بھنور میں اک پل میرا بھی ہو
پھولوں کے اس چمن میں اک گل میرا بھی ہو
خدا کرے کہ جب آپ یاد کرو اپنوں کو
تو ان اپنوں میں اک نام میرا بھی ہو۔

دل چاہتا ہے تم سے پیاری سی بات ہو
خاموش تارے ہوں، لمبی سی رات ہو
پھر ان تاروں سے رات بھر یہی گقتگو رہے
تم ہی تو میری زندگی ہو میری کائنات ہو۔

شاید تمہیں بھی چین نہ آئے میرے بغیر
شاید یہ بات تم بھی گوارہ نہ کر سکو
کیا جانے پھر ستم بھی میسر ہو یا نہ ہو
کیا جانے یہ کرم بھی کرو یا نہ کر سکو
ممکن ہے جہاں کو میری یاد بھول جائے
پر ﷲ کرے کہ تم کبھی ایسا نہ کر سکو
میرے ِسوا کسی کی نہ ہو تم کو جستجو
میرے ِسوا کاش، کسی کی تمنا نہ کر سکو۔

محبت میں کبھی ایسے مقام بھی آیا کرتے ہیں
مجبوری میں کچھ ہم کچھ وہ مجبور ہوا کرتے ہیں
ملے آرام کب، کہاں اور کیسے، مقام عشق میں
ضد میں ہم بھی، وہ بھی، اکثر ضد کیا کرتے ہیں
دیتے ہیں غم دنیا والے، سہے بن گزر بھی نہیں
بے قراری میں کچھ ہم کچھ وہ بے قرار ہوا کرتے ہیں۔

آخری سانس تک تجھے یاد رکھیں گے
تیری ہر بات پر اعتبار کریں گے
تجھے آنے کے لیئے تو نہیں کہیں گے
پھر بھی تیرے آنے کا انتظار کریں گے۔

مسکراہٹ آپ کے خیال سے آتی ہے
دل کو راحت آپکی یاد سے ملتی ہے
دور مت ہویئیے گا کبھی اس دل سے
یہ دھڑکن آپکے احساس سے چلتی ہے۔

نہ کاغذ ساتھ دیتا ہے نہ قلم ساتھ دیتی ہے
اک سانس باقی ہے جو تیرا نام لیتی ہے۔

میلوں کے فاصلے ہوں مگر دل قریب ہوں
ملنا نصیب میں ہو فقط یہ دعا کریں۔

آغوش کے پھول کھلیں آپکی زندگی کی راہوں میں
کبھی غم کے آنسو نہ آئیں آپ کی ان نگاہوں میں۔

دیارِ نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو
کوئی تو ہو جو میری وحشتوں کا ساتھی ہو
میں اس سے جھوٹ بھی بولوں، وہ مجھ سے سچ بولے
میرے مزاج کے سب ہی موسموں کا ساتھی ہو
وہ میرے نام کی نسبت سے معتبر ٹھہرے
گلی گلی میری رسوائیوں کا ساتھی ہو
میں اس کے ساتھ نہ آؤں مگر وہ میرے ساتھ رہے
میرے سرور اور میری محفلوں کا ساتھی ہو
وہ خواب دیکھے تو دیکھے میرے حوالے سے
میرے خیال کے سب منظروں کا ساتھی ہو۔

تیرے لمس کا احساس ایسا رچا ہے دل میں
کہ اپنے ہی بدن سے آنے لگی ہے خوشبو تیری۔

تو خوش رہے دنیا کی ہر خوشی ہے تیری
تو سلامت رہے بس اک یہ دعا ہے میری۔

تیرا ہی نقش ابھرتا رہا ہاتھوں کی لکیروں پر
اٹھائے ہاتھ جو میں نے، کبھی دعا کی لیئے۔

یادوں میں تیری ہم رہیں یہ احساس رکھنا
نظروں سے دور سہی دل کے پاس رکھنا
ہم یہ تو نہیں کہتے کہ ہر پل ساتھ رہو
دور ہی سہی مگر پل پل یاد رکھنا۔

وقت جب دوستی کی داستان سنائے گا
ہمیں بھی کوِئی چہرہ خوب ستائے گا
بھول جائیں گے زندگی کے ہر غم کو
جب آپکے ساتھ گزرا، ہر پل یاد آئے گا۔

آنسو تیرے، تو آنکھیں میری ہوں
دل تیرا دھڑکے تو دھڑکن میری ہو
خدا کرے ہماری دوستی اتنی گہری ہو
سانسیں تیری رکیں تو موت ہماری ہو۔

تری دید جسکو نصیب ہے وہ نصیب قابلِ دید ہے
تری یاد میری زندگی، ترا دیکھنا میری عید ہے۔

جو مل کر ہیں ملتے، وہ یاد بہت آتے ہیں
جو ملتے رہتے ہیں وہ دل میں سما جاتے ہیں۔

یہ نہ سمجھ کہ بچھڑی تو بھول گئی تجھے
تیری دوستی کی خوشبو میرے ہاتھوں میں آج بھی ہے
محبت سے بڑھ کر تم سے مجھے عقیدت ہے دوست
یوں مقام تیرا بلند، دوستوں میں آج بھی ہے
تو وہ ہے جو برسوں کی تلاش کا حاصل ہے
تمہیں سوچنا میری یادوں میں آج بھی ہے
یہ اور بات ہے کہ مجبوریوں نے نبھانے نہ دی دوستی
ورنہ سچائی میری وفاؤں میں آج بھی ہے۔

دل کے دروازے پر دستک سی ہو اگر
اور تمہیں نیند نہ آئے تو مجھے خط لکھنا
سنا ہے کہ خط سے ہوتی ہے ملاقات آدھی
گر جو ملنے کی تمنّا جاگے تو مجھے خط لکھنا۔

آنسووں سے خط لکھتی ہوں سیاہی نہ سمجھنا
محبت ابھی باقی ہے جدائی نہ سمجھنا۔

پھول بن کر مسکرانا زندگی ہے
مسکرا کر غم بھولانا زندگی ہے
مل کر لوگ خوش ہوتے ہیں تو کیا ہوا
بنا ملے رشتے نبھانا زندگی ہے۔

اے ہوا! اس سے کہنا
نہ دل میں ملال رکھے
ہمیشہ اپنا خیال رکھے
وہ سارے غم مجھ کو دے دے
اپنی تمام خوشیاں سنبھال رکھے۔

تڑپاتی ہے، ترساتی ہے، دیوانہ سا کر جاتی ہے
یادوں سے کہہ دو یاد کیوں آتی ہے، یاد کیوں آتی ہے۔

About محمد نظام الدین عثمان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے