بال جبریل (حصہ دوم)علامہ اقبال شاعری

خرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکيمانہ

خرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہ
سکھائی عشق نے مجھ کو حدیثِ رندانہ

معانی: حدیثِ رندانہ: شراب نوشوں کی باتیں ۔
مطلب: یہ اشعار بھی بقول اقبال انھوں نے یورپ کے دوران قیام لکھے ہیں ۔ اس شعر میں وہ کہتے ہیں کہ اپنی عقل سے میں فلسفیانہ انداز نظر کو حاصل کیا جب کہ عشق نے وہ طور طریقے سکھائے جو رندوں کے ہوتے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ میں نے عقل اور عشق دونوں سے ہی فیض حاصل کیا ہے ۔ یعنی جوشخص صاحب ادراک ہوتا ہے وہ زندگی کے ہر پہلو سے استفادہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔

نہ بادہ ہے نہ صراحی ، نہ دورِ پیمانہ
فقط نگاہ سے رنگیں ہے بزمِ جانانہ

معانی: بزمِ جانانہ: معشوق کی محفل ۔
مطلب: ایسا بھی محبوب ہو سکتا ہے جس کی محفل شراب، صراحی اور جام کی گردش کے بغیر محض اس کی نگاہ ناز سے رنگین ہو ۔

میری نوائے پریشاں کو شاعری نہ سمجھ
کہ میں ہوں محرم رازِ درونِ میخانہ

مطلب: میرے نغمے جن منتشر خیالات سے معمور ہوں انہیں شاعری نہ سمجھو کہ میں تو کائنات کے اکثر رازوں سے واقف ہوں اور وہی رازان اشعار کے ذریعے آشکار کر رہا ہوں ۔

کلی کو دیکھ کہ ہے تشنہَ نسیمِ سحر
اسی میں ہے مرے دل کا تمام افسانہ

معانی: تشنہَ نسیمِ سحر: صبح کی ہوا کی خواہش مند ۔
مطلب: میرا دل تو ایک ایسی کلی کے مانند ہے جو پھول بننے کے عمل تک نسیم صبح کی طرح معطر ہو ۔ چنانچہ میں بھی اپنی تکمیل اسی صورت میں کر سکتا ہوں جب عشق حقیقی کا ادراک حاصل کر لوں ۔ مطلب ہے کہ کلی کی طرح میرا دل بھی محبوب کے التفات کے بغیر شگفتہ نہیں ہو سکتا ۔

کوئی بتائے مجھے یہ غیاب ہے کہ حضور
سب آشنا ہیں یہاں ایک میں ہوں بیگانہ

معانی: غیاب: پوشیدہ ۔ حضور: ظاہر ۔
مطلب: اقبال کہتے ہیں کہ کوئی مجھے اس حقیقت سے باخبر کر دے کہ دنیا میں میرے علاوہ سب لوگ ہی حقیقت شناس ہیں ۔ صرف میں ہی حقیقت سے بیگانہ ہوں ۔ نہ جانے یہ محبوب کی بارگاہ میں باریابی کا اثر ہے یا وہاں تک رسائی نہ ہونے سے محرومی کا ۔

فرنگ میں کوئی دن اور بھی ٹھہر جاؤں
مرے جنوں کو سنبھالے اگر یہ ویرانہ

مطلب: یورپ میں شاید چند دن اور قیام کر لیتا لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ یہاں ایسا ماحول موجود نہیں جس میں میرا نقطہ نظر سمجھا جا سکے ۔

مقامِ عقل سے آساں گزر گیا اقبال
مقامِ شوق میں کھویا گیا وہ فرزانہ

معانی: فرزانہ: صاحبِ عقل ۔
مطلب: نظم کے اس آخری شعر میں علامہ فرماتے ہیں کہ عقل کی منزل سے تو میں با آسانی گزر گیا لیکن مقام شوق سے گزرتے ہوئے بے شمار رکاوٹیں آئیں ۔ مراد یہ ہے کہ عقل و خرد کے مقابلے میں عشق کی منزل بڑی کٹھن ہے ۔

———————–

Translation

(Yourap Mein Likhe Gye)

Khirad Ne Mujh Ko Atta Ki Nazar Hakeemana
Sikhai Ishq Ne Mujh Ko Hadees-e-Rindana

Na Bada Hai, Na Soorahi, Na Dour-e-Pemana
Faqt Nigah Se Rangeen Hai Bazm-e-Janana

Meri Nuwa-e-Preshan Ko Shayari Na Samajh
Ke Main Hun Mehram-e-Raaz-e-Darun-e-Maikhana

Kali Ko Dekh Ke Hai Tashna-e-Naseem-e-Sehar
Issi Mein Hai Mere Dil Ka Tamam Afsana

Koi Bataye Mujhe Ye Ghayaab Hai Ke Huzoor
Sub Ashna Hain Yahan, Aik Main Hun Begana

Farang Mein Koi Din Aur Bhi Thehar Jaun
Mere Junoon Ko Sanbhale Agar Ye Werana

Maqam-e-Aqal Se Asan Guzar Gya Iqbal
Maqam-e-Shauq Mein Khoya Gya Woh Farzana

————————-

(Written in Europe)

My mind on me bestowed a thinker’s gaze,
From Love I learnt a toper’s wont and ways.

No wine, no flask, no goblet goes around,
Sweet looks to banquet lend its hue and sound.

Take not my rhymes for poet’s art,
I know the secrets of wine‐seller’s mart.
(Wine symbolically used)

Behold the bud athirst for breath of Morn,
It tells the story of my heart forlorn.

Know not, absence or presence if it be,
I am the alien here, all others free.

My stay in West I may prolong a bit,
My frenzy if this desert will admit.

The stage of mind by Iqbal soon was crost,
But in the Vale of Love this sage was lost.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button