بال جبریل (حصہ دوم)

فقر کے ہيں معجزات تاج و سرير و سپاہ

فقر کے ہیں معجزات تاج و سریر سپاہ
فقر ہے میروں کا میر، فقر ہے شاہوں کا شاہ

معانی: تاج و سریر: تاج اور تخت ۔ شاہوں کا شاہ: بہت بڑا بادشاہ ۔
مطلب: فقیر محض درویشی سے عبارت نہیں ہے بلکہ اس میں استغنا کا وہ پہلو بھی شامل ہے جو معجزوں کا سبب ہوتا ہے اور انہی معجزات کے تحت انسان تاج و تخت ، بادشاہی اور لشکر کا مالک بن جاتا ہے ۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو فقر محض درویشی ہی نہیں بلکہ سرداروں کا سردار اور بادشاہوں کا بادشاہ ہے ۔ یہ سب مناصب فقر کے کرشمے ہیں ۔

علم کا مقصود ہے پاکی عقل و خرد
فقر کا مقصود ہے عفت قلب و نگاہ

معانی: مقصود، مقصد، مدعا ۔ عفت: پاک دامنی ۔ پاکی عقل و خرد: عقل کی پاکبازی ۔ عفت قلب و نگاہ: دل ونظر کی پاکیزگی ۔
مطلب: فقر انسان کو ایسی معراج عطا کرتا ہے جہاں وہ سب کچھ اپنی نگاہوں سے دیکھنے کا اہل ہوتا ہے ۔ جب کہ علم سب کچھ دیکھنے دکھانے سے محروم ہے البتہ ان کے بارے میں تفصیلات ضرور فراہم کر سکتا ہے ۔ ان دونوں کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ فقر میں مست و بیخود ہو جانا عین ثواب ہے کہ اس کا تعلق عشق حقیقی سے ہوتا ہے ۔

علم فقیہ و حکیم ، فقر مسیح و کلیم
علم ہے جویائے راہ، فقر ہے دانائے راہ

معانی: فقیہ: اسلامی اصولوں کے مطابق قانون سازی کرنے والا ۔ جویائے راہ: راستہ تلاش کرنے والا ۔ دانائے راہ: راستے سے واقف ۔
مطلب: علم اور فقر دونوں ہی اگرچہ اپنے اپنے طور پر خدا کے وجود کی گواہی دیتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی دوسرا معبود حقیقی نہیں تاہم علم خالق حقیقی کو ظاہری سطح پر دیکھتا ہے لیکن فقر اپنے موجود کو باطنی سطح پر دیکھنے کا ادراک رکھتا ہے ۔ معرفت خداوندی سے دونوں ہی بہرہ ور ہیں لیکن اس تک رسائی کے لیے راہیں الگ الگ ہیں ۔

فقر مقامِ نظر، علم مقام خبر
فقر میں مستی ثواب علم میں مستی گناہ

معانی: فقر انسان کو ایسی معراج عطا کرتا ہے کہ جہاں وہ سب کچھ اپنی نگاہوں سے دیکھنے کا اہل ہوتا ہے ۔ جب کہ علم سب کچھ دیکھنے دکھانے سے محروم ہے البتہ ان کے بارے میں تفصیلات ضرور فراہم کر سکتا ہے ۔ ان دونوں کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ فقر میں مست و بیخود ہو جانا عین ثواب ہے کہ اس کا تعلق عشق حقیقی سے ہوتا ہے اس کے برعکس علم کے لیے مست و بے خود ہونا گناہ کے مترادف ہے ۔ اس لیے کہ یہ صورت حال علم کی افادیت کو زائل کر دیتی ہے ۔

علم کا موجود اور، فقر کا موجود اور
اشھد ان لا الہ ، اشھد ان لا الہ

معانی: اشھد ان لا الہ: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔
مطلب: علم اور فقر دونوں ہی اگرچہ اپنے اپنے طور پر خدا کے وجود کی گواہی دیتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی دوسرا معبود حقیقی نہیں تاہم علم خالق حقیقی کو ظاہر ی دیکھتا ہے لیکن فقر اپنے موجود کو باطنی سطح پر دیکھنے کا ادراک رکھتا ہے ۔ معرفت خداوندی سے دونوں ہی بہرہ ور ہیں لیکن اس تک رسائی کے لیے راہیں الگ الگ ہیں ۔

چڑھتی ہے جب فقر کی سان پہ تیغ خودی
ایک سپاہی کی ضرب کرتی ہے کار سپاہ

مطلب: فقر کے ساتھ جب خودی کا جذبہ بھی شامل ہو جائے تو یہ ارتباط اتنی بڑی قوت بن جاتا ہے کہ دونوں اوصاف اگر ایک ہی سپاہی میں یک جا ہو جائیں تو وہ پورے لشکر سے عہد برآ ہونے کی صلاحیت کا مالک بن جاتا ہے ۔

دل اگر اس خاک میں زندہ و بیدار ہو
تیری نگہ توڑ دے آئنہ مہر و ماہ

معانی: آئنہ مہر و ماہ: سورج اور چاند کا آئنہ ۔
مطلب: نظم کے آخری شعر میں اقبال فرماتے ہیں کہ اگر اس کرہ ارض کے کسی باشندے کا دل بیدار عشق حقیقی سے معمور ہو تو وہ چاند اور سورج کے آئینے کو توڑ کر رکھ دیتا ہے ۔ علامہ نے ان اشعار میں علم، فقر اور دل کی مثلث وضع کی ہے اس سے ان تینوں کے اوصاف واضح ہوتے ہیں اور سب س بلند مرتبہ دل کے حصے میں آتا ہے ۔

————————-

Translation

Faqr Ke Hain Muajazaat Taaj-o-Sareer-o-Sipah
Faqr Hai Meeron Ka Meer, Faqr Hai Shahon Ka Shah

Ilm Ka Maqsood Hai Paki-e-Aqal-o-Khirad
Faqr Ka Maqsood Hai Iffat-e-Qalb-o-Nigah

Ilm Faqeer-o-Hakeem, Faqr Maseeh-o-Kaleem
Ilm Hai Jooya’ay Rah, Faqr Hai Danye Rah

Faqr Maqam-e-Nazar, Ilm Maqam-e-Khabar
Faqr Mein Masti Sawab, Ilm Mein Masti Gunah

Ilm Ka ‘Mojood’ Aur, Faqar Ka ‘Mojood’ Aur
ASHADU ALLA ILAHA, ASHADU ALLA ILAHA !

Charhti Hai Jab Faqr Ki Saan Pe Taeg-e-Khudi
Aik Sipahi Ki Zarb Karti Hai Kaar-e-Sipah

Dil Agar Iss Khak Mein Zinda-o-Baidar Ho
Teri Nigah Torh De Aaeena-e-Mehar-o-Mah

————————————–

The crown, the throne, and mighty arms by faqr are wrought these wonders all:
In short, it is the chief of chiefs and king of other kings withal.

By means of learning mind and brain, no doubt, become refined and pure:
Faqr makes the heart and gaze of man from earthly filth and dross secure.

Scholar and sage knowledge makes, but Christ and Moses by faqr are wrought:
To faqr the road is fully known, of road the scholar knows not aught.

The state of seeing faqr bestows, but knowledge makes on new rely:
Rapture in faqr is virtue great, whereas in knowledge sin so high.

One God there is that knowledge owns to other God faqr lays a claim:
No god but He, I do proclaim, No god but He, I do proclaim.

On the whetting stone of faqr, when sword of Self gets sharp and bright,
A single stroke by warrior bold can out an army big to flight.

Within your clay, if there exist a heart alive and wide awake,
The glass of sun and moon as well one look of yours forthwith can break.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button