Muqabla To Zamany Ka Khoob Kerta Hun

اميد

مقابلہ تو زمانے کا خوب کرتا ہوں
اگرچہ ميں نہ سپاہي ہوں نے امير جنود
مجھے خبر نہيں يہ شاعري ہے يا کچھ اور
عطا ہوا ہے مجھے ذکر و فکر و جذب و سرود
جبين بندہ حق ميں نمود ہے جس کي
اسي جلال سے لبريز ہے ضمير وجود
يہ کافري تو نہيں ، کافري سے کم بھي نہيں
کہ مرد حق ہو گرفتار حاضر و موجود

غميں نہ ہو کہ بہت دور ہيں ابھي باقي
نئے ستاروں سے خالي نہيں سپہر کبود
——————

رياض منزل (دولت کدئہ سرراس مسعود) بھوپال ميں لکھے گئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے