با نگ درا - غز ليات - (حصہ اول)علامہ اقبال شاعری

ظاہرکی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی
ہو دیکھنا تو دیدہَ دل وا کرے کوئی

معانی: ظاہر کی آنکھ: ماتھے والی آنکھیں ۔ دیدہَ دل: مرا د بصیرت کی آنکھ ۔
مطلب: اقبال کہتے ہیں کہ اس عالم کون و مکاں پر نظر ڈالنے سے کچھ حاصل نہ ہو گا اس مقصد کے لیے تو لازم ہے کہ اس نگاہ سے دیکھا جائے جو باطن میں بھی اتر جاتی ہے ۔ مراد یہ کہ دنیا پر محض نگاہ غلطانداز ڈالنے کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ اسے گہری تجزیاتی نگاہ سے دیکھنا ضروری ہے ۔

منصور کو ہوا لبِ گویا پیامِ موت
اب کیا کسی کے عشق کا دعویٰ کرے کوئی

معانی: منصور: حسین بن حلاج فارس کے ایک قصبہ سے تعلق تھا ۔ انا الحق کہنے پر علمائے وقت نے ان کے خلاف فتویٰ دیا جس پر خلیفہ بغداد ، مقتدر کے حکم پر انہیں پھانسی دی گئی ۔ لبِ گویا: مراد زبان ۔ پیام موت: مراد موت کا باعث ۔ دعویٰ کرنا: مراد اظہار کرنا ۔
مطلب: منصور حلاج نے اپنی زبان سے انا الحق کا نعرہ بلند کر کے معرفت خداوندی کی انتہا کر دی لیکن یہ نعرہ جو ایک طرح سے عشق کا دعویٰ تھا اس کے لیے موت کا پیغام بن گیا ۔ سننے والوں نے اسی نعرے کی بنا پر منصور کر سولی چڑھا دیا ۔ ایسی صورت میں کسی کے عشق کا دعویٰ موت سے ہمکنار ہونے کے مترادف نہیں تو بھلا اور کیا ہے ۔

ہو دید کا جو شوق تو آنکھوں کو بند کر
ہے دیکھنا یہی کہ نہ دیکھا کرے کوئی

معانی: دید: محبوب کا دیدار ۔
مطلب: یہاں اقبال کہتے ہیں کہ حقیقت مطلق تک رسائی کی خواہش ہے تو پھر اسے ظاہری آنکھ سے دیکھنے کی بجائے باطن کی نگاہ سے دیکھو کہ اپنے مقصود کی معرفت کا یہی ایک طریقہ ہے ۔

میں انتہائے عشق ہوں تو انتہائے حُسن
دیکھے مجھے کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی

معانی: انتہائے عشق: مراد عشق کا پورا ، مکمل جذبہ رکھنے والا ۔
مطلب: اے میرے محبوب جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے تو اس کی حدیں عشق کی انتہا سے جا ملتی ہیں اور تیرے حسن کی کیفیت بھی یہی ہے ۔ اب تو یہ بتا کہ ان دو انتہاؤں کے پیش نظر دیکھنے والا مجھے دیکھے کہ تیرا نظارہ کرے ۔ اسکے لیے تو یہ صورت حال تذبذب کا باعث بن جاتی ہے ۔

عذر آفریں جرمِ محبت ہے حُسنِ دوست
محشر میں عذرِ تازہ نہ پیدا کرے کوئی

معانی: عذر آفریں : بہانے گھڑنے، تراشنے والا ۔
مطلب: رب ذوالجلال کے جلوے کا تصور یہاں اس دنیا میں میرے عشق کے جذبے میں مزید شدت پیدا کر رہا ہے لیکن خدشہ اس امر کا ہے کہ روز قیامت بھی وہ اپنی رونمائی کے ضمن میں کوئی اور عذر نہ تراش لے ہر چند کہ خدا نے اس امر کا وعدہ کر رکھا ہے ۔

چھپتی نہیں ہے یہ نگہِ شوق ہم نشیں
پھر اور کس طرح انہیں دیکھا کرے کوئی

مطلب: محبت کی نظر سے اپنے محبوب کو کتنا بھی چھپ کر دیکھا جائے یہ نظر چھپ نہیں سکتی فوراً پہچان لی جاتی ہے ۔ اس صورت میں اے میرے ہم نشیں تو ہی بتا کہ میں اور کس انداز سے اپنے محبوب کو دیکھوں کہ کسی اور پر میری محبت کا راز افشاء نہ ہو سکے ۔

اڑ بیٹھے کیا سمجھ کے بھلا طور پر کلیم
طاقت ہو دید کی تو تقاضا کرے کوئی

مطلب: یہ غزل کا انتہائی خوبصورت شعر ہے جس میں اقبال اپنے انداز میں کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ نے خدا سے کوہ طور پر جلوہ دکھانے کی ضد کیا سمجھ کر کی جب کہ ان میں اتنی قوت برداشت نہ تھی ورنہ جلوہ دیکھتے ہی بے ہوش کیوں ہوتے ۔ مراد یہ کہ جلوہَ خداوندی کا دیکھنا ہر کسی کے بس کا روگ نہیں ۔ نہ جانے حضرت موسیٰ نے اس کے لیے اصرار کیوں کیا ۔

نظارے کی یہ جنبشِ مژگاں بھی بار ہے
نرگس کی آنکھ سے تجھے دیکھا کرے کوئی

معانی: جنبشِ مژگاں : پلکوں کا جھپکنا ۔
مطلب: حسن کے نظارے کے لیے تو پلک جھپکنا بھی بار سے کم نہیں ۔ اس کے لیے لازم ہے کہ نرگس کے پھول کے مانند مسلسل ایک جانب ہی نگاہ رکھی جائے ۔ چشم نرگس کا حوالہ اسی طور پر آتا ہے ۔

کھل جائیں کیا مزے ہیں تمنائے شوق میں
دو چار دن جو میری تمنا کرے کوئی

مطلب: میرا محبوب اگر میری طرح سے دو چار دن میرے عشق میں مبتلا رہنے کی زحمت گوارا کرے تو اس پر عشق میں جو مرحلے آتے ہیں وہ اس پر منکشف ہو جائیں ۔

 
————–
 
Transition
Zahir Ki Ankh Se Na Tamasha Kare Koi
Ho Dekhna To Didah-e-Dil Wa Kare Koi
Mansoor Ko Huwa Lab-e-Goya  Payam-e-Mout
Ab Kya Kisi Ke Ishq Ka Dawa Kare Koi
Ho Deed Ka Jo Shauq To Ankhon Ko Band Kar
Hai Dekhna Yehi Ke Na Dekha Kare Koi
Main Intihaye Ishq Hun, Tu Intihaye Husn
Dekhe Mujhe Ke Tujh Ko Tamasha Kare Koi
Uzr Afreen-e-Jurm- Hai Husn-e-Dost
Mehshar Mein Uzr Taza Na Paida Kare Koi
Chupti Nahin Hai Ye Nigah-e-Shauq Hum-Nasheen
Phir Aur Kis Tarah Unhain Dekha Kare Koi
Arh Baithe Kya Samajh Ke Bhala Toor Par Kaleem
Taqqat Ho Deed Ki To Taqaza Kare Koi
Nazare Ko Ye Junbish-e-Mazgan Bhi Bar Hai
Nargis Ki Ankh Se Tujhe Dekha Kare Koi
Khul Jaen, Kya Maze Hain Tamanaye Shauq Mein
Do Char Din Jo Meri Tamanna Kare Koi
————
Translation
One should not see the Spectacle with the material eye
If one wants to see Him he should open the insight’s eye
His talking lip was death’s message to Mansur
How can anybody dare to claim Someone’s Love now
Close your eyes if you want taste for the Sight
The real Seeing is that one should not try to see Him
I am the extreme Love, Thou art the extreme Beauty
One should see me or witness Thy Spectacle
The Beloved’s Beauty is the creator of excuse for Love’s crime
One need not create a new excuse on the Day of Judgment
O Companion! It is not possible to close this zealous eye!
In what other manner should one try to witness Him
With what thought did Kaleem become insistent on the Tur?
One should request for the Sight if he has the power for the Sight
Even the eyebrow’s movement is unwelcome to the Sight
With the eye of the narcissus should one see Thee
The pleasures of the Longings of Love will be manifest
If one has Longing like me for a few days

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button