Home / علامہ اقبال شاعری / با ل جبر یل / با ل جبر یل - رباعيات / خرد واقف نہيں ہے نيک و بد سے

خرد واقف نہيں ہے نيک و بد سے

خرد واقف نہيں ہے نيک و بد سے
بڑھی جاتی ہے ظالم اپنی حد سے
خدا جانے مجھے کيا ہو گيا ہے
خرد بيزار دل سے ، دل خرد سے

———————–

Transliteration

Khirad Waqif Nahin Hai Naik-o-Bad Se
Barhi Jati Hai Zalim Apni Had Se

This reason of mine knows not good from evil;
And tries to exceed the bounds that nature fixed;

Khuda Jane Mujhe Kya Ho Gya Hau
Khirad Bezar Dil Se, Dil Khirad Se!

I know not what has happened to me of late,
My reason and my heart are ever at war.

————————–

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے