زمانہ حاضر کا انسان

‘عشق ناپيد و خرد ميگزدش صورت مار’
عقل کو تابع فرمان نظر کر نہ سکا
ڈھونڈنے والا ستاروں کي گزرگاہوں کا
اپنے افکار کي دنيا ميں سفر کر نہ سکا
اپني حکمت کے خم و پيچ ميں الجھا ايسا
آج تک فيصلہ نفع و ضرر کر نہ سکا

جس نے سورج کي شعاعوں کو گرفتار کيا
زندگي کي شب تاريک سحر کر نہ سکا

About محمد نظام الدین عثمان

Check Also

Is Byhas Ka Kuch Faisla Main Naheen Kar Sakta

آزادی نسواں

اس بحث کا کچھ فيصلہ ميں کر نہيں سکتا گو خوب سمجھتا ہوں کہ يہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے