اسلام اور مسلمانعلامہ اقبال شاعری

توحيد

زندہ قوت تھی جہاں میں یہی توحید کبھی
آج کیا ہے فقط اک مسئلہَ علمِ کلام

معانی: توحید: وحدتِ الہٰی ۔ علم کلام: فلسفے کی رُو سے کی جانے والی گفتگو ۔
مطلب: حق و باطل یا کفر اور اسلام کے درمیان جو تمیزی چیزیں ہیں ان میں توحید (خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا) بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے ۔ ایک وقت تھا کہ توحید مسلمان کا اصل سرمایہ تھا اور اس کی ساری زندگی اسی محور کے گرد گھومتی تھی لیکن یہی توحید جو مسلمان کے لیے ایک زندہ، حقیقی اور پائیدار طاقت کی حیثیت رکھتی تھی آج صرف ایک علم کلام کے مسئلہ کے طور پر باقی رہ گئی ہے ۔ اس پر عملی، دلیلی اور منطقی باتیں تو بہت کی جاتی ہیں لیکن عملاً مسلمانوں میں یہ قوت ناپید نظر آتی ہے ۔

روشن اس ضو سے اگر ظلمتِ کردار نہ ہو
خود مسلماں سے ہے پوشیدہ مسلماں کا مقام

معانی: ظلمتِ کردار: کردار کا اندھیرا ۔
مطلب: اقبال اس شعر میں کہتے ہیں کہ جب تک توحید کی اس زندہ قوت کی روشنی سے مسلمان کے عمل اور سیرت کی تاریکی میں تابندگی پیدا نہ ہو یعنی جب تک مسلمان توحید پر عملاً کاربند نہ ہو اس کا اپنا مقام اس سے چھپا ہوا رہے گا ۔

میں نے اے میرِ سپہ تیری سپہ دیکھی ہے
قل ھو اللہ کی شمشیر سے خالی ہے نیام

معانی: میرِ سپہ: سپہ سالار ۔ سپہ: فوج ۔ قل ھو اللہ کی شمشیر: قرآن کی تلوار ۔ نیام: تلوار کا غلاف ۔
مطلب: اقبال اس شعر میں مسلمانوں کے رہنماؤں خصوصاً مذہبی رہنماؤں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس لشکر کے تم امیر اور سپہ سالار ہو میں نے اس سپاہ کو دیکھا ہے ۔ اس میں ایک ایک سپاہی کی میان توحید کی تلوار سے خالی ہے ۔ اقبال کا مقصود یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں اگر توحید کی دولت نایاب ہے تو اس کے ذمہ دار اصل میں وہ خلوتی صوفیاء اور جلوتی علماء ہیں جو نہ خود توحید پر عامل ہیں اور نہ اپنی قوم کو انھوں نے اس کی روح سے آشنا کرا یا ہے ۔

آہ! اس راز سے واقف ہے نہ مُلّا نہ فقیہ
وحدت افکار کی بے وحدتِ کردار ہے خام

معانی: ملا: مولوی ۔ فقیہ: شرعی مسئلوں کو جانے والا ۔ وحدتِ افکار: سوچوں کا ایک ہونا ۔ بے وحدت: اتحاد کے بغیر ۔ کردار: چال چلن، عمل ۔
مطلب: اقبال کے اس شعر کے شروع میں لفظ آہ اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں اس بات کا بڑا افسوس ہے کہ آج کے مسلمانوں کے علماء اور فقہا اس بھید سے بالکل ناواقف ہیں کہ عمل اور سیرت کی یکسانیت خیالات کی وحدت یگانگت کے بغیر ناپختہ ہے ۔ آج کے پیشہ ور دینی رہنما توحید کی باتیں تو بہت کرتے ہیں لیکن ان کا اپنا کردار اس سے بالکل مختلف ہے جس کی وجہ سے مسلمان قوم میں بھی خیالات و اعمال کی یگانگت موجود نہیں بلکہ ہر طرف منافقت نظر آتی ہے ۔

قوم کیا چیز ہے قوموں کی امامت کیا ہے
اس کو کیا سمجھیں یہ بے چارے دو رکعت کے امام

معانی: امامت: رہبری ۔ دو رکعت: یعنی عبادت، نماز ۔ امام: نماز پڑھانے والے ۔
مطلب : ایسے پیشہ ور اور خود غرض علماءء فقیہ اور امام جن کی باتیں علامہ نے مذکورہ بالا شعروں میں کی ہیں جب مسجد میں نماز کی چند رکعتیں صحیح طور پر نہیں پڑھا سکتے وہ پوری قوم کی رہنمائی کیسے کر سکتے ہیں ۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ آج کے مسجدی امام اکثر نا اہل ، پیشہ ور اور فسادی ہوتے ہیں اور ان میں اپنے مقتدیوں میں اتحاد عمل و افکار پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی ایسے امام پوری قوم کی امامت کیسے کر سکتے ہیں اور اس کی واحد وجہ ان کی توحید نا آشنائی ہے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button