علامہ اقبال شاعریمحراب گل افغان کے افکار

عشق طينت ميں فرومايہ نہيں مثل ہوس

عشق طينت ميں فرومايہ نہيں مثل ہوس
پر شہباز سے ممکن نہيں پرواز مگس
يوں بھي دستور گلستاں کو بدل سکتے ہيں
کہ نشيمن ہو عنادل پہ گراں مثل قفس
سفر آمادہ نہيں منتظر بانگ رحيل
ہے کہاں قافلہ موج کو پروائے جرس
گرچہ مکتب کا جواں زندہ نظر آتا ہے
مردہ ہے ، مانگ کے لايا ہے فرنگي سے نفس

پرورش دل کي اگر مد نظر ہے تجھ کو
مرد مومن کي نگاہ غلط انداز ہے بس

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button