Warning: preg_match_all(): Compilation failed: missing closing parenthesis at offset 53 in /home/u500905684/domains/urdupoetrylibrary.com/public_html/wp-content/plugins/seo-by-rank-math/includes/replace-variables/class-post-variables.php on line 543

Warning: preg_match_all(): Compilation failed: missing closing parenthesis at offset 53 in /home/u500905684/domains/urdupoetrylibrary.com/public_html/wp-content/plugins/seo-by-rank-math/includes/replace-variables/class-post-variables.php on line 543
Utho! Meri Dunya Ke Ghareebo Ko Jaga Do - Allama Iqbal Poetry
Warning: preg_match_all(): Compilation failed: missing closing parenthesis at offset 53 in /home/u500905684/domains/urdupoetrylibrary.com/public_html/wp-content/plugins/seo-by-rank-math/includes/replace-variables/class-post-variables.php on line 543
با ل جبر یل - منظو ما ت

(فرمان خدا – (فرشتوں سے

فرمانِ خدا
(فرشتوں سے)

اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخِ اُمرا کے در و دیوار ہلا دو

معانی: کاخ: محلات ۔
مطلب: اس نظم میں اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کے نام اپنا فرمان جاری کرتے ہوئے انہیں حکم دیتا ہے کہ اے فرشتو اٹھو! دنیا میں محنت کشوں اور دوسرے بے سروسامان لوگوں کے ساتھ اہل ثروت اور صاحبان اقتدار جو بدسلوکی کر رہے ہیں اس کے تدارک کے لیے اب یہ تمہاری ذمہ داری ہے کہ میری دنیا کے غریبوں میں بیداری کی لہر پیدا کر دو اور طبقہ امراء کے بلند و بالا محلات کے درودیوار ہلا کر رکھ دو کہ اس کے بغیر انصاف ممکن نہیں !

گرماوَ غلاموں کا لہو سوزِ یقیں سے
کنجشکِ فرومایہ کو شاہیں سے لڑا دو

معانی: کنجشک فرومایہ: کمزور چڑیا ۔ شاہیں : باز ۔
مطلب: اس مقصد کے لیے یہ امر ناگزیر ہے کہ جو لوگ بوجوہ دوسروں کے محکوم اور دست نگر ہیں ان کی غیرت کو اس طرح بیدار کر دو کہ ان کا لہو جوش میں آ جائے اس کے لیے یہ بھی لازم ہے کہ ان میں یقین و اعتماد پیدا کر دیا جائے اسی صورت میں یہ بے بس و ناچار لوگ ان سرمایہ داروں اور استعمار پرستوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں جو ان پر اپنا تسلط جمائے ہوئے ہیں ۔

سلطانیِ جمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقشِ کہن تم کو نظر آئے مٹا دو

معانی: یہ بھی جان لو کہ اب حالات میں بڑی تیزی کے ساتھ ردوبدل ہو رہا ہے ۔ بادشاہتیں اور سرمایہ دارانہ نظام ختم ہوتے جا رہے ہیں ۔ ان کے بدلے اب عوام کے اقتدار کا دور نزدیک آ رہا ہے ۔ ظاہر ہے کہ اب انہیں کے ہاتھ میں کل اختیارات ہوں گے اس لیے تم پر لازم ہے کہ ماضی کے جو بھی نقوش تمہیں نظر آئیں ان کو مٹا ڈالو تا کہ اس کے بعد ایک نئی دنیا نئے نظام کے ساتھ آباد کی جا سکے ۔

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی
اس کھیت کے ہر خوشہَ گندم کو جلا دو

معانی: خوشہَ گندم: گندم کا دانے والا گچھا ۔
مطلب: اے فرشتو! اس امر کو بھی پیش نظر رکھو کہ کسانوں کو جس کھیت سے اس کی تمام تر محنت مشقت کے باوجود روزی اور معاوضہ میسر نہ ہو اور اس کی تمام پیداوار زمیندار ہڑپ کر جاتا ہو اس کے اقدام سے قبل ہی اس کھیتی کی ایک ایک خوشہ گندم کو جلا کر راکھ کر دو کہ اگر محنت کش کسان کو پیٹ بھرنے اور تن ڈھانپنے کے لیے یہاں سے معاوضہ نہیں ملتا تو پھر زمیندار کو بھی لوٹ کھسوٹ کا حق حاصل نہیں ۔

کیوں خالق و مخلوق میں حائل رہیں پردے
پیرانِ کلیسا کو کلیسا سے اٹھا دو

مطلب: سوال یہ ہے کہ میرے اور میری مخلوق کے درمیان پادریوں اور دوسرے مذہبی پیشواؤں نے جو بے جواز پردے حائل کر دیے ہیں اس کا تدارک اسی طرح سے ممکن ہے کہ ان پادریوں اور مذہبی پیشواؤں کو ان عبادت گاہوں سے اٹھا کر باہر پھینک دو اور وہاں ان کی اجارہ داری کا خاتمہ کر دو ۔ مراد یہ ہے کہ مذہبی پیشواؤں نے عوام میں جو اپنی دکانداری چمکا رکھی ہے کہ ان کے توسط کے بغیر مجھ تک ان کی رسائی نہیں ہو سکتی اس تاثر کو ختم کرنا ضروری ہے ۔

حق را بسجودے، صنماں را بطوافے
بہتر ہے چراغِ حرم و دیر بجھا دو

معانی:حق را بسجود ے صنماں راب بطوافے: وہ لوگ جو خدا کو ایک سجدے اور بتوں کو ایک طواف سے راضی کرتے ہیں ۔ حرم: مسجد ۔ دیر: مندر ۔
مطلب: میں دیکھ رہا ہوں کہ مسجدوں اور بت خانوں کی صورت حال یہ ہو گئی ہے کہ دکھاوے کے لیے مسجد میں گئے اور نمائشی سجدے کر لیے یہی حال ان لوگوں کا ہے جو بت پرست ہیں کہ کبھی کبھار بتوں کی پرستش کر لی اور بس ۔ یہ سب لوگ ہی مذہب اور عقیدے کو ایک کھیل سے زیادہ اور کچھ نہیں سمجھتے ۔ چنانچہ اس صورت حال سے یہ کہیں زیادہ بہتر ہے کہ مساجد اور بت کدوں کو ختم کر کے رکھ دو کہ ان اداروں میں بے راہ روی کے باعث لوگ اپنے مذہب اور عقیدوں سے بیزار ہو کر رہ گئے ہیں ۔

میں ناخوش و بیزار ہوں مرمر کی سلوں سے
میرے لیے مٹی کا حرم اور بنا دو

معانی : مرمر کی سلوں : سنگ مرمر کی سیلیں ، چٹانیں ۔ مٹی کا حرم: مٹی کا عبادت خانہ ۔
مطلب: اے فرشتو! یاد رکھو کی عبادت گاہوں میں جو قیمتی پتھر آویزاں کیے گئے ہیں اورقیمتی اشیاء سے ان کی تزئین کی گئی ہے میں ان سے شدید طور پر بیزار اور ناخوش ہوں ۔ ان سے بہتر یہ ہے کہ میری عبادت کے لیے تو سادہ سا مٹی کا حرم تعمیر کر دو ۔ مرا د یہ ہے کہ عبادت گاہوں کی آرائش و تزئین تو بے معنی شے ہے ۔ اصل مسئلہ یہ ہے لوگوں میں عشق حقیقی کی لگن پیدا کی جائے ۔ تصنع اور ظاہر داری تو خلوص و وفا کی ازلی دشمن ہیں ۔

تہذیبِ نوی کارگہِ شیشہ گراں ہے
آدابِ جنوں شاعرِ مشرق کو سکھا دو

معانی: تہذیب نوی: نئی تہذیب ۔ کارگہِ شیشہ گراں : شیشوں کا کارخانہ ۔ شاعرِ مشرق: مشرقی ملکوں کے شاعر ۔
مطلب: اے فرشتو! یہ بھی سن لو کہ جدید تہذیب جو اس وقت پورے انسانی معاشرہ کا احاطہ کیے ہوئے ہے شیشہ سازوں کے کارخانوں کی مانند ہے جہاں ہر طرف شیشے آویزاں ہوتے ہیں لیکن کسی شے کی معمولی ضرب سے ہی چکنا چور ہو جاتے ہیں ۔ ایسی ناپائیدار تہذیب کو ختم کرنا ضروری ہے کہ جس میں عدم مساوات اور اقتصادی ناہمواریاں عام ہیں ۔ اس کے خاتمے کے لیے لازم ہے کہ شاعر مشرق کو آداب جنوں سکھا دو کہ وہ اپنے تخلیقی فن کے ذریعے عوام کو مروجہ تہذیب کی بے اعتدالیوں اور خرابیوں سے آگاہ کر سکے کہ یہی طریق کار اس تہذیب کو ختم کرنے کے لیے ناگزیر ہے ۔ اور جب تک یہ تہذیب ختم نہ ہو گی اور نیا نظام اس کی جگہ نہ لے گا عالمی سطح پر امن قائم نہیں ہو سکتا اور نا ہی لوگوں کو مسرت و خوشحالی حاصل ہو سکتی ہے ۔

———————-

Transliteration

Farman-e-Khuda

(Farishton Se)
Utho! Meri Dunya Ke Ghareebo Ko Jaga Do
Kakh-e-Umra Ke Dar-o-Diwar Hila Do
Garmao Ghulamon Ka Lahoo Souz-e-Yaqeen Se
Kunjishik-e-Firomaya Ko Shaheen Se Lara Do
Sultani Jamhoor Ka Ata Hai Zamana
Jo Naqsh-e-Kuhan Tum Ko Nazar Aye, Mita Do
Jis Khait Se Dehqan Ko Mayassar Nahin Rozi
Uss Khait Ke Har Khausha-e-Gandum Ko Jala Do
Kyun Khaliq-o-Makhlooq  Mein Hayal Rahain Parde
Peeran-e-Kalisa Ko Kalisa Se Utha Do
Haq Ra Ba-Sujoode, Sanamaan Ra Ba-Tawafe
Behter Hai Charagh-e-Haram-o-Dair Bujha Do
Main Na Khush-o-Bezar Hun Mar Mar Ki Silon Se
Mere Liye Mitti Ka Haram Aur Bana Do
Tehzeeb-e-Nawi Kargah-e-Shisha Garan Hai
Adaab-e-Junoon Shayar-e-Mashriq Ko Sikha Do!
———————–
GOD’S COMMAND
(To His Angels)
Rise, and from their slumber wake the poor ones of My world!
Shake the walls and windows of the mansions of the great!
Kindle with the fire of faith the slow blood of the slaves!
Make the fearful sparrow bold to meet the falcon’s hate!
Close the hour approaches of the kingdom of the poor—
Every imprint of the past find and annihilate!
Find the field whose harvest is no peasant’s daily bread—
Garner in the furnace every ripening ear of wheat!
Banish from the house of God the mumbling priest whose prayers
Like a veil creation from Created separate!
God by man’s prostrations, by man’s vows idols cheated—
Quench at once My shrine and their fane the sacred light!
Rear for me another temple, build its walls with mud—
Wearied of their columned marbles, sickened is My sight!
All their fine new world a workshop filled with brittle glass—
Go! My poet of the East to madness dedicate.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button