Qoumun Ki Haayat Inky Takhyyul Pay Hy Moqoof

مہدی

قوموں کی حيات ان کے تخيل پہ ہے موقوف
يہ ذوق سکھاتا ہے ادب مرغ چمن کو
مجذوب فرنگی نے بہ انداز فرنگی
مہدی کے تخيل سے کيا زندہ وطن کو
اے وہ کہ تو مہدی کے تخيل سے ہے بيزار
نوميد نہ کر آہوئے مشکيں سے ختن کو

ہو زندہ کفن پوش تو ميت اسے سمجھيں
يا چاک کريں مردک ناداں کے کفن کو؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے