بانگ درا (حصہ سوم)علامہ اقبال شاعری

حضور رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وسلم) ميں

گراں جو مجھ پہ يہ ہنگامہ زمانہ ہوا
جہاں سے باندھ کے رخت سفر روانہ ہوا
قيود شام وسحر ميں بسر تو کی ليکن
نظام کہنہ عالم سے آشنا نہ ہوا
فرشتے بزم رسالت ميں لے گئے مجھ کو
حضور آيہ رحمت ميں لے گئے مجھ کو
کہا حضور نے ، اے عندليب باغ حجاز!
کلی کلی ہے تری گرمی نوا سے گداز
ہميشہ سرخوش جام ولا ہے دل تيرا
فتادگی ہے تری غيرت سجود نياز
اڑا جو پستی دنيا سے تو سوئے گردوں
سکھائی تجھ کو ملائک نے رفعت پرواز
نکل کے باغ جہاں سے برنگ بو آيا
ہمارے واسطے کيا تحفہ لے کے تو آيا؟
”حضور! دہر ميں آسودگی نہيں ملتی
تلاش جس کی ہے وہ زندگی نہيں ملتی
ہزاروں لالہ و گل ہيں رياض ہستی ميں
وفا کی جس ميں ہو بو’ وہ کلی نہيں ملتی
مگر ميں نذر کو اک آبگينہ لايا ہوں
جو چيز اس ميں ہے’ جنت ميں بھی نہيں ملتی
جھلکتی ہے تری امت کی آبرو اس ميں
طرابلس کے شہيدوں کا ہے لہو اس ميں

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button