ارمغان حجاز - رباعیاتعلامہ اقبال شاعری

دگرگوںعالم شام و سحر کر

(Armaghan-e-Hijaz-11)

Digargoon Alam-e-Sham-o-Sahar Kar

(دگرگوں عالم شام و سحر کر)

Upset this world of morn and eve

 

دِگرگوں عالمِ شام و سحر کر
جہانِ خشک و تر زیر و زبر کر

معانی: دگر گوں : بدل دینا ۔ عالم شام و سحر: صبح اور شام کا جہان مراد دنیا ۔ جہان خشک و تر: خشکی اور تری کا جہان ۔ زیر و زبر: الٹ پلٹ ۔
مطلب: خدا سے دعا کرتے ہوئے علامہ کہتے ہیں کہ یہ جہان جس میں کافرانہ ، غیر اسلامی اور غیر اخلاقی ماحول پیدا ہو چکا ہے اس قابل ہے کہ اسے تباہ و برباد کر دیا جائے ۔ اے خدا تو اس جہان کو بدل دے ور اس کی جگہ ایک نیا جہان پیدا کر جو شیطانی اثرات سے پاک ہو ۔ زمین پر خشکی اور تری ہر جگہ تجھ سے بیزاری کی وجہ سے فساد پیدا ہو چکا ہے اور آدمی اپنے اس مقصد کو جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا تھا بھول گیا ہے اس لیے اس جہان کو زیر و زبر (الٹ پلٹ) کر دے ۔

————–

رہے تیری خدائی داغ سے پاک
مرے بے ذوق سجدوں سے حذر کر

معانی: خدائی: خدا ہونا ۔ داغ سے پاک رہے: الزام سے پاک ۔ بے ذوق سجدے: بے کیف سجدے ۔ حذر کر : بچ ، پرہیز کر ۔
مطلب : ایک ایسا جہان پھر سے پیدا کر جس میں تیری حکمرانی ہو اور جس میں آدمی اپنی تخلیق کے مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے زندگی بسر کر رہا ہو ۔ اے خدا اس دور میں مسلمان جس کے پاس تیرا آخری پیغام ہے اور جس کی ذمہ داری لوگوں کو ظلمت سے نکال کر نور میں لانا ہے خود ظلمت میں بھٹک رہا ہے ۔ آج کا مسلمان تیری عبادت کرتا، تیری نماز پڑھتا اور تجھے سجدے کرتا ہوا تو ضرور دکھائی دیتا ہے لیکن اس کے سجدوں میں وہ سوز، وہ کیف اور سرور وہ مستی اور وہ خلوص نہیں ہے جس کی بنا پر وہ غیر اللہ کے سامنے جھکنے سے پرہیز کرتا تھا ۔

————–

Transliteration

Digargoon Alam-E-Shaam-O-Sahar Kar
Jahan-E-Khusk-O-Tar Zayr-O-Zabar Kar

Upset this world of morn and eve,
Of these wetlands, of those dry leave.

Rahe Teri Khudai Daagh Se Pak
Mere Bezauq Sajdon Se Hazzar Kar

May your Godhead remain free of blemish all
In my insipid prostrations do not believe!

————–

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button