تعلیم و تربیتعلامہ اقبال شاعری

آگاہي

نظر سپہر پہ رکھتا ہے جو ستارہ شناس
نہیں ہے اپنی خودی کے مقام سے آگاہ

معانی: سپہر: آسمان ۔ ستارہ شناس: ستاروں کا علم جاننے والا ۔ خودی: اپنے آپ پہچاننا ۔ آگاہ:واقف ۔
مطلب: میں نے اہل نجوم کو دیکھا ہے کہ وہ اپنی نظریں آسمان پر جمائے رہتے ہیں ۔ اتنی دور تو وہ نظریں گاڑتے ہیں لیکن نزدیک ترین وجود یعنی اپنے وجود پر نظر نہیں ڈالتے اور اس کی معرفت حاصل کر کے اپنی حقیقت سے واقف نہیں ہوتے ۔ ستاروں کی خبر پا لینا کوئی بڑی بات نہیں ۔ آدمی کو پہلے اپنی خبر پانی چاہیے کہ میں کون ہوں ۔

خودی کو جس نے فلک سے بلند تر دیکھا
وہی ہے مملکتِ صبح و شام سے آگاہ

معانی: خودی : اپنے آپ کو پہچاننا ۔ آگاہ: واقف ۔
مطلب: جس شخص نے یہ جان لیا کہ اپنی معرفت حاصل کرنا آسمان اور ستاروں کا علم حاصل کرنے سے زیادہ اونچی بات ہے وہی شخص صبح و شام کی سلطنت سے واقف ہے ۔ یعنی صرف اسے علم ہے کہ زندگی کیا ہے، زندگی کا گردوپیش کیا ہے ۔ کائنات کیا ہے اس کے وجود کی اس میں کیا حیثیت ہے ۔

وہی نگاہ کے ناخوب و خوب سے محرم
وہی ہے دل کے حلال و حرام سے آگاہ

معانی: ناخوب و خوب: بُرا بھلا ۔ محرم: واقف ۔ حلال و حرام: جائز اور ناجائز ۔
مطلب: وہی شخص اپنی نظر کی اچھائی اور برائی سے واقف ہے جو دل کے حرام و حلال سے واقف ہے یعنی کونسی چیز دل کے لیے فائدہ مند ہے اور کونسی نقصان دہ ہے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button