Nala Hay Bulbul Shoridah Tera Kham Abi

نالہ ہے بلبل شوريدہ ترا خام ابھي

نالہ ہے بلبل شوريدہ ترا خام ابھي
اپنے سينے ميں اسے اور ذرا تھام ابھي
پختہ ہوتي ہے اگر مصلحت انديش ہو عقل
عشق ہو مصلحت انديش تو ہے خام ابھي
بے خطر کود پڑا آتش نمردو ميں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھي
عشق فرمودئہ قاصد سے سبک گام عمل
 عقل سمجھي ہي نہيں معني پيغام ابھي
شيوئہ عشق ہے آزادي و دہر آشوبي
تو ہے زناري بت خانہء ايام ابھي
عذر پرہيز پہ کہتا ہے بگڑ کر ساقي
ہے ترے دل ميں وہي کاوش انجام ابھي
سعي پيہم ہے ترازوئے کم و کيف حيات
تيري ميزاں ہے شمار سحر و شام ابھي
ابر نيساں! يہ تنک بخشي شبنم کب تک
مرے کہسار کے لالے ہيں تہي جام ابھي
بادہ گردان عجم وہ ، عربي ميري شراب
مرے ساغر سے جھجکتے ہيں مے آشام ابھي
خبر اقبال کي لائي ہے گلستاں سے نسيم
نو گرفتار پھڑکتا ہے تہ دام ابھي

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے