نالہ ہے بلبل شوريدہ ترا خام ابھي

نالہ ہے بلبل شوريدہ ترا خام ابھي
اپنے سينے ميں اسے اور ذرا تھام ابھي
پختہ ہوتي ہے اگر مصلحت انديش ہو عقل
عشق ہو مصلحت انديش تو ہے خام ابھي
بے خطر کود پڑا آتش نمردو ميں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھي
عشق فرمودئہ قاصد سے سبک گام عمل
 عقل سمجھي ہي نہيں معني پيغام ابھي
شيوئہ عشق ہے آزادي و دہر آشوبي
تو ہے زناري بت خانہء ايام ابھي
عذر پرہيز پہ کہتا ہے بگڑ کر ساقي
ہے ترے دل ميں وہي کاوش انجام ابھي
سعي پيہم ہے ترازوئے کم و کيف حيات
تيري ميزاں ہے شمار سحر و شام ابھي
ابر نيساں! يہ تنک بخشي شبنم کب تک
مرے کہسار کے لالے ہيں تہي جام ابھي
بادہ گردان عجم وہ ، عربي ميري شراب
مرے ساغر سے جھجکتے ہيں مے آشام ابھي
خبر اقبال کي لائي ہے گلستاں سے نسيم
نو گرفتار پھڑکتا ہے تہ دام ابھي

About محمد نظام الدین عثمان

Check Also

Is Byhas Ka Kuch Faisla Main Naheen Kar Sakta

آزادی نسواں

اس بحث کا کچھ فيصلہ ميں کر نہيں سکتا گو خوب سمجھتا ہوں کہ يہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے