Fizaay Noor May Kerta Na Shaakh o Burg o Ber Paida

لاوالا

فضائے نور ميں کرتا نہ شاخ و برگ و بر پيدا
سفر خاکی شبستاں سے نہ کر سکتا اگر دانہ

نہاد زندگی ميں ابتدا ‘لا’ ، انتہا ‘الا’
پيام موت ہے جب ‘لا ہوا الا’ سے بيگانہ

وہ ملت روح جس کی ‘لا ‘سے آگے بڑھ نہيں سکتی
يقيں جانو، ہوا لبريز اس ملت کا پيمانہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے