چاند

اے چاند! حسن تيرا فطرت کی آبرو ہے
طوف حريم خاکی تيری قديم خو ہے
يہ داغ سا جو تيرے سينے ميں ہے نماياں
عاشق ہے تو کسی کا، يہ داغ آرزو ہے؟
ميں مضطرب زميں پر، بے تاب تو فلک پر
تجھ کو بھی جستجو ہے ، مجھ کو بھی جستجو ہے

انساں ہے شمع جس کی ، محفل وہی ہے تيری؟
ميں جس طرف رواں ہوں ، منزل وہی ہے تيری؟

تو ڈھونڈتا ہے جس کو تاروں کی خامشی ميں
پوشيدہ ہے وہ شايد غوغائے زندگی ميں
استادہ سرو ميں ہے ، سبزے ميں سو رہا ہے
بلبل ميں نغمہ زن ہے ، خاموش ہے کلی ميں
آ ! ميں تجھے دکھاؤں رخسار روشن اس کا
نہروں کے آئنے ميں شبنم کی آرسی ميں

صحرا و دشت و در ميں ، کہسار ميں وہی ہے
انساں کے دل ميں ، تيرے رخسار ميں وہی ہے

About محمد نظام الدین عثمان

Check Also

Is Byhas Ka Kuch Faisla Main Naheen Kar Sakta

آزادی نسواں

اس بحث کا کچھ فيصلہ ميں کر نہيں سکتا گو خوب سمجھتا ہوں کہ يہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے