با ل جبر یل - رباعيات

وہی اصل مکان و لامکاں ہے

وہی اصلِ مکان و لامکاں ہے
مکاں کیا شے ہے اندازِ بیاں ہے

خضر کیوں کر بتائے، کیا بتائے
اگر ماہی کہے دریا کہاں ہے

مطلب: یہ ذات خداوندی ہے جو کسی ایک مقام تک محدود نہیں بلکہ ہر مقام پر اس کی موجودگی برحق ہے ۔ ویسے بھی یہ محض انداز بیاں کی بات ہے کہ کسی مقام کا تعین کر سکے ۔ اس کی مثال کچھ یوں ہے کہ اگر کوئی مچھلی جو پانی میں مستقل بودوباش رکھنے پر مجبور ہے وہ ہی اس امر کا کسی سے استفسار کرے کہ دریا کہاں ہے تو اس پر محض حیرت اور تعجب کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے اور بس ۔

—————————-

Transliteration

Wohi Asal-e-Makan-o-La Makan Hai
Makan Kya She Hai, Andaz-e-Byan Hai

He is the essence of the Space as well as the Placeless Realm—
And Space is nothing but a figure of speech:

Khizar Kyunkar Bataye, Kya Bataye
Agar Mahi Kahe Darya Kahan Hai

How could Khizer tell, and what,
If the fish were to ask, “Where is the water?”

————————–

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button