Kis Darja Yahan Aam Hoi Marg e Takkhyul

مصور

کس درجہ يہاں عام ہوئي مرگ تخيل
ہندي بھي فرنگي کا مقلد ، عجمي بھي
مجھ کو تو يہي غم ہے کہ اس دور کے بہزاد
کھو بيٹھے ہيں مشرق کا سرور ازلي بھي
معلوم ہيں اے مرد ہنر تيرے کمالات
صنعت تجھے آتي ہے پراني بھي ، نئي بھي

فطرت کو دکھايا بھي ہے ، ديکھا بھي ہے تو نے
آئينہ فطرت ميں دکھا اپني خودي بھي

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے