Jahan Taza Ki Afkaar Taza Say Hay Namood

تخليق

جہان تازہ کي افکار تازہ سے ہے نمود
کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہيں جہاں پيدا

خودي ميں ڈوبنے والوں کے عزم و ہمت نے
اس آبجو سے کيے بحر بے کراں پيدا

وہي زمانے کي گردش پہ غالب آتا ہے
جو ہر نفس سے کرے عمر جاوداں پيدا

خودي کي موت سے مشرق کي سر زمينوں ميں
ہوا نہ کوئي خدائي کا رازداں پيدا

ہوائے دشت سے بوئے رفاقت آتي ہے
عجب نہيں ہے کہ ہوں ميرے ہم عناں پيدا

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے