Home / علامہ اقبال شاعری / آزادی نسواں
Is Byhas Ka Kuch Faisla Main Naheen Kar Sakta

آزادی نسواں

اس بحث کا کچھ فيصلہ ميں کر نہيں سکتا
گو خوب سمجھتا ہوں کہ يہ زہر ہے ، وہ قند

کيا فائدہ ، کچھ کہہ کے بنوں اور بھي معتوب
پہلے ہي خفا مجھ سے ہيں تہذيب کے فرزند

اس راز کو عورت کي بصيرت ہي کرے فاش
مجبور ہيں ، معذور ہيں ، مردان خرد مند

کيا چيز ہے آرائش و قيمت ميں زيادہ
آزادي نسواں کہ زمرد کا گلوبند

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے