Ishaq o Masti Ka Janaza Hay Takhyyul Inka

ہنروران ہند

عشق و مستي کا جنازہ ہے تخيل ان کا
ان کے انديشہ تاريک ميں قوموں کے مزار
موت کي نقش گري ان کے صنم خانوں ميں
زندگي سے ہنر ان برہمنوں کا بيزار
چشم آدم سے چھپاتے ہيں مقامات بلند
کرتے ہيں روح کو خوابيدہ ، بدن کو بيدار

ہند کے شاعر و صورت گر و افسانہ نويس
آہ ! بيچاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے