Hay Mureedun Ko To Haq Baat Gawara Lekin

حکومت

ہے مريدوں کو تو حق بات گوارا ليکن
شيخ و ملا کو بري لگتي ہے درويش کي بات

قوم کے ہاتھ سے جاتا ہے متاع کردار
بحث ميں آتا ہے جب فلسفہ ذات و صفات

گرچہ اس دير کہن کا ہے يہ دستور قديم
کہ نہيں مے کدہ و ساقي و مينا کو ثبات

قسمت بادہ مگر حق ہے اسي ملت کا
انگبيں جس کے جوانوں کو ہے تلخاب حيات

————–
رياض منزل (دولت کد ہ سرراس مسعود)بھوپال ميں لکھے گئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے