Umer Hazir Malik ul Moot Hay Tera, Jis Nay

مدرسہ

عصر حاضر ملک الموت ہے تيرا ، جس نے
قبض کی روح تری دے کے تجھے فکر معاش
دل لرزتا ہے حريفانہ کشاکش سے ترا
زندگی موت ہے، کھو ديتی ہے جب ذوق خراش
اس جنوں سے تجھے تعليم نے بيگانہ کيا
جو يہ کہتا تھا خرد سے کہ بہانے نہ تراش
فيض فطرت نے تجھے ديدہ شاہيں بخشا
جس ميں رکھ دی ہے غلامی نے نگاہ خفاش

مدرسے نے تری آنکھوں سے چھپايا جن کو
خلوت کوہ و بياباں ميں وہ اسرار ہيں فاش

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے