تعلیم و تربیتعلامہ اقبال شاعری

مدرسہ

عصر حاضر ملک الموت ہے تیرا جس نے
قبض کی روح تری دے کے تجھے فکرِ معاش

معانی: مدرسہ: مراد ہے جدید طرز کا مغرب زدہ مدرسہ ۔ عصر حاضر: موجودہ زمانہ جس پر فرنگی تہذیب و تمدن کے اثرات ہیں ۔ ملک الموت: موت کا فرشتہ ۔ فکر معاش: روزی کی فکر ۔
مطلب: اقبال اس شعر میں موجود دور کی مغربی اثرات رکھنے والی درسگاہوں کے طالب علموں خصوصاً مسلمان طالب علموں کو خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ موجودہ دور تمہارے لیے موت کا فرشتہ ہے جس نے تمہاری اصل دینی روح کو قبض کر کے تم پر دینی اور انسانی موت پیدا کر دی ہے اور یہ موت کیا ہے روزی کمانے کا فکر ہے ۔ زمانہ جدید کے مدارس طالب علموں کی روحانی اور انسانی تربیت کی بجائے انہیں روزی کمانے کی فکر میں لگائے ہوئے ہیں حالانکہ مقصد تعلیم کچھ اور ہے ۔

دل لرزتا ہے حریفانہ کشاکش سے ترا
زندگی موت ہے کھو دیتی ہے جب ذوقِ خراش

معانی: حریفانہ کشاکش: مقابلے کی کھینچا تانی ۔ ذوقِ خراش: تکالیف اٹھانے کا ذوق، لذت ۔
مطلب: تعلیم، دور حاضر میں طالب علم کو صرف روزی کمانے کی فکر میں لگائے رکھتی ہے اور علم کا جو اصل مقصد ہے اس سے بے گانہ رکھتی ہے ۔ اس لیے موجودہ مدرسوں میں پڑھنے والا طالب علم زندگی میں مقابلے کی کھینچا تانی سے گھبراتا ہے اور اس میں زندگی کی تکالیف اٹھانے کی کوئی سکت باقی نہیں رہتی ۔ جس کے نتیجے میں اس کی زندگی ، زندگی نہیں رہتی ۔ جس کے نتیجے میں اس کی زندگی ، زندگی نہیں رہتی موت بن جاتی ہے ۔ ایسی زندگی جس میں زندگی کے اصل مقاصد کے حصول کی کوئی کوشش نہیں ہوتی بلکہ صرف اتنی فکر ہوتی ہے کہ پڑھ کر کس طرح کہیں ملازمت یا روزگار مل سکتا ہے ۔

اس جنوں سے تجھے تعلیم نے بیگانہ کیا
جو یہ کہتا تھا خرد سے کہ بہانے نہ تراش

معانی: جنون: انتہائی عشق ۔ خرد: عقل ۔ بہانے تراشنا: بہانے بنانا ۔
مطلب: اے دورِ جدید کے مدرسوں کے طالب علم موجودہ تعلیم نے تجھے عشق کی انتہا سے اور جذبات کی فراوانی سے بالکل خالی کر دیا ہے ۔ وہ عشق جو کبھی عقل کو یہ کہا کرتا تھا کہ تو خواہ مخواہ کے بہانے بنا کر زندگی کی اصل حقیقت سے دور نہ ہو آج وہ جذبہ عشق تجھ میں نہیں رہا جس کی بنا پر تیری عقل نے مادر پدر آزادی حاصل کر کے تجھے اپنے آپ سے بیگانہ کر دیا ہے ۔

فیضِ فطرت نے تجھے دیدہَ شاہیں بخشا
جس میں رکھ دی ہے غلامی نے نگاہِ خفّاش

معانی: فیض: نفع پہنچانے کا علم ۔ فطرت: قدرت ۔ دیدہَ شاہیں : شاہیں کی آنکھیں ۔ نگاہِ خفاش: چمگادڑ کی نظر جو رات کو دیکھتی ہے اور دن میں اندھی ہوتی ہے ۔
مطلب: قدرت نے تو اپنی نفع بخشنے والی طاقت کے ذریعے اے جدید دور کے طالب علم (خصوصاً مسلمان طالب علم) تجھے شہباز کی آنکھیں بخشی تھیں لیکن انگریز کی سیاسی غلامی اور تعلیمی و نصابی سازش نے تیری نظر کو چمگادڑ کی نظر بنا دیا ہے جس میں دن کی روشنی میں دیکھنے کی صلاحیت نہیں ہوتی ۔ مراد یہ ہے کہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی تعلیم جدید نے تجھے اپنے دینی اور اسلامی سازوسامان سے بے گانہ کر دیا ہے اس قدر بیگانہ کہ اب تجھے اپنے اس نقصان کا احساس تک بھی نہیں ہے ۔

مدرسے نے تری آنکھوں سے چھپایا جن کو
خلوتِ کوہ و بیاباں میں وہ اسرار ہیں فاش

معانی: خلوتِ کوہ و بیابا ں : پہاڑوں اور جنگلوں کی تنہائی ۔ اسرار: سر کی جمع، بھید ۔ فاش: کھلے ۔
مطلب: اے دور حاضر کے طالب علم جو بھید قدرت نے پہاڑوں اور جنگلوں کی تنہائیوں میں کھول رکھے ہیں تیرے جدید مدرسے نے ان کو تیری آنکھوں سے چھپا رکھا ہے ۔ مراد یہ ہے کہ تعلیم حاضر نے طالب علموں کو قدرت اور فطرت اور ان کے تقاضوں سے بہت دور کر دیا ہے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button