خلوت

رسوا کيا اس دور کو جلوت کي ہوس نے
روشن ہے نگہ ، آئنہ دل ہے مکدر

بڑھ جاتا ہے جب ذوق نظر اپني حدوں سے
ہو جاتے ہيں افکار پراگندہ و ابتر

آغوش صدف جس کے نصيبوں ميں نہيں ہے
وہ قطرہ نيساں کبھي بنتا نہيں گوہر

خلوت ميں خودي ہوتي ہے خودگير ، و ليکن
خلوت نہيں اب دير و حرم ميں بھي ميسر

 

About محمد نظام الدین عثمان

Check Also

Is Byhas Ka Kuch Faisla Main Naheen Kar Sakta

آزادی نسواں

اس بحث کا کچھ فيصلہ ميں کر نہيں سکتا گو خوب سمجھتا ہوں کہ يہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے