ابتدا (ضرب کلیم)علامہ اقبال شاعری

تمہید

نہ دیر میں نہ حرم میں خودی کی بیداری
کہ خاوراں میں ہے قوموں کی روحِ تریاکی

معانی: تمہید: آغاز ۔ دیر: گرجا، مندر ۔ حرم: مسجد، اسلامی عبادت گاہ ۔ خاوراں : مشرقی دنیا ۔ روح کی تریاکی: وہ دوا جو مرض کے لیے بہت کارگر ہو یعنی قوم میں زندگی کے آثار ۔
مطلب: اس شعر میں علامہ کہتے ہیں کہ میں نے سرزمین مشرق ساری دیکھی ہے اور مشرقی اقوام کے حالات کا مطالعہ کیا ہے ۔ یہاں نہ مندر میں ، نہ کعبے میں کہیں بھی افراد و اقوام کی خودی بیدار نہیں ہے ۔ مراد یہ ہے کہ صرف مسلمانوں میں ہی نہیں غیر مسلموں میں بھی خودی کی بیداری مفقود ہے ۔ علامہ کہتے ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کہ مشرق کی ان قوموں نے افیون کھول کر پی لی ہو یعنی ان میں آگے بڑھنے کی آرزو ختم ہو چکی ہے ۔

اگر نہ سہل ہوں تجھ پر ز میں کے ہنگامے
بُری ہے مستیِ اندیشہ ہائے افلاکی

معانی: سہل: آسان ۔ ہنگامے: شوروغل ۔ مستی: مدہوشی ۔ اندیشہ ہائے افلاکی: آسمانی خیالات یا فکر میں کھویا رہنا ۔
مطلب: یہاں علامہ نے پتے کی بات یہ کی ہے کہ دنیا ہنگاموں کا گھر ہے جب تک آدمی دنیا کے ان ہنگاموں کو آسان نہ بنا لے اس کے افلاکی فکر و خیالات کی مدہوشی بُری ہے ۔ مراد یہ ہے دنیا میں جو ترقی یافتہ نہ ہو جائے اس کے لیے آسمانوں پر اڑنے کی فکر کی مستی کرنا بُری چیز ہے ۔ اپنے ادب و شعر اور اپنے فنون لطیفہ میں اور اپنی زندگی کے دوسرے شعبوں میں خیالی اڑان میں مست رہنا اور دنیا کے ہنگاموں پر قابو پانے کے عمل سے بیگانہ رہنا کسی قوم کے لیے بھی مفید نہیں ہے ۔

تری نجات غمِ مرگ سے نہیں ممکن
کہ تو خودی کو سمجھتا ہے پیکرِ خاکی

معانی: نجات: چھٹکارا ۔ مرگ: موت ۔ پیکرِ خاکی: مٹی کا جسم، یعنی فانی اور بے حقیقت ۔
مطلب: عام طور پر غلام قو میں موت کے غم میں مبتلا رہتی ہیں اور زندگی کو قربان کر کے آزادی حاصل کرنے کی قوت سے محروم ہوتی ہیں ۔ یہاں اقبال خبردار کرتے ہیں کہ اے غلام اقوام کے لوگو! یہ موت کا غم تمہیں غلامی سے اور مصائب زندگی سے نجات نہیں دلا سکتا کیونکہ خودی کوئی جسمانی پیکر کا نام نہیں ۔ یہ تو ایک اندرونی اور باطنی اور روحانی کیفیت کا نام ہے جو موت کے ساتھ بھی نہیں مرتی ۔ تیرا مرض یہی ہے کہ تو خودی کو خاکی پیکر یعنی مٹی کا بدن سمجھتا ہے ۔

زمانہ اپنے حوادث چھپا نہیں سکتا
ترا حجاب ہے قلب و نظر کی ناپاکی

معانی: حوادث: حادثات، واقعات ۔ حجاب: پردہ ۔ قلب و نظر کی ناپاکی: دل اور نگاہ کا ناپاک ہونا ۔
مطلب: زمانے میں جو کچھ ہو رہا ہے جتنے حادثات پیش آ رہے ہیں وہ ظاہر ہیں ۔ تجھ سے محض اس لیے چھپے ہوئے ہیں کہ تیرا دل اور تیری نظر ناپاک ہے ۔ یعنی ان میں حادثات زمانہ کو دیکھنے، پرکھنے اور ان سے عہدہ برآ ہونے کی صلاحیت نہیں ہے ۔ اے مخاطب پہلے اپنے دل کو اپنی نظر کو صاف اور پاک بنا پھر جا کر تجھے زمانہ کے سارے حادثات کی اور ان پر قابو حاصل کرنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے گی ۔

عطا ہوا خس و خاشاکِ ایشیا مجھ کو
کہ میرے شعلے میں ہے سرکشی و بے باکی

معانی: خس: گھاس کا تنکا ۔ خاشاک: کوڑا کرکٹ ۔ سرکشی: نافرمانی ۔ بے باکی: بے خوفی ۔
مطلب: خالق کائنات نے مجھے بے خوف اور بے باک شعلے عطا کر کے مجھ پر یہ ذمہ داری ڈال دی ہے کہ میں اقوام ایشیا کو جو اس وقت گھاس پھوس کی مانند ہیں ان شعلوں سے جلا کر ان میں حرارت پیدا کر دوں اور ان کی مردہ رگوں میں جان ڈال دوں ۔

(۲)

ترا گناہ ہے اقبال مجلس آرائی
اگرچہ تو ہے مثالِ زمانہ کم پیوند

معانی: مجلس آرائی: مجلس جمانا ۔ پیوند: کم ملنے والا ۔
مطلب: اے اقبال اگرچہ تو لوگوں میں کم میل جول رکھتا ہے لیکن یہ جو تو اپنے ہاں مجلس آراستہ کرتا ہے اور دوسروں تک اپنا پیغام پہنچاتا ہے یہ تیرا گناہ کیا کم ہے ۔

جو کوکنار کے خوگر تھے ان غریبوں کو
تری نوا نے دیا ذوقِ جذبہ ہائے بلند

معانی: کوکنار: گوشے میں بیٹھنے والے ۔ تری نوا: آواز ۔ جذبہ ہائے بلند: اونچے درجے کے جذبے ۔
مطلب: جو لوگ پوست پی کر اونگھتے رہتے تھے اے اقبال تیری نوا نے ان بے چاروں میں بلند جذبوں کا ذوق پیدا کر دیا ۔ مراد یہ ہے کہ تیری شاعری سے سوئے ہوئے لوگ بیدار ہو گئے ۔

تڑپ رہے ہیں فضا ہائے نیلگوں کے لیے
وہ پرشکستہ کہ صحنِ سرا میں تھے خورسند

معانی: فضائے ہائے نیلگوں : آسمان کی سیر ۔ پرشکستہ: ٹوٹے ہوئے پر والا پرندہ ۔ سرا: گھر ۔ خورسند: خوش ۔
مطلب: وہ پرندے جو گھروں کے صحنوں میں خوش تھے، ٹوٹے ہوئے پروں کے باوجود اب وہ آسمان کی نیلی فضاؤں میں اڑنے کے لیے بے تاب ہیں ۔ مراد یہ ہے کہ اے اقبال تیری شاعری نے ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھ رہنے والوں میں اور غلامی پر قناعت کرنے والوں میں غلامی کی زنجیریں توڑ کر ترقی کی منازل طے کرنے کا جذبہ پیدا کر دیا ہے ۔

تری سزا ہے نوائے سحر سے محرومی
مقامِ شوق و سرور و نظر سے محرومی

معانی: نوائے سحر: صبح کی آواز ۔ مقامِ شوق: شوق کا مقام یعنی یادِ الہٰی ۔ سرور: خوشی ۔ نظر: شناخت والی نظر ۔ محرومی: خالی رہ جانا ۔
مطلب: اے اقبال تیرے اس گناہ کی سزا جو تو اپنی نوا سے مردہ قوموں کو زندہ کر رہا ہے تیرے بدخواہ یہ دینا چاہتے ہیں کہ تجھے نوائے سحر یعنی صبح کی عاشقانہ فریاد تیرے شوق و عشق سے تجھے محروم کر دیا جائے جو تو نے پسی ہوئی قوموں کو اٹھانے اور بیدار کرنے کے لیے ان پر رکھی ہوئی ہے ۔

 ——————

Transliteration

Tamheed
(1)
Na Dair Mein Na Haram Mein Khudi Ki Baidari
Ke Khawaran Mein Hai Qoumon Ki Rooh Taryaki

Agar Na Sehal Hon Tujh Par Zameen Ke Hangame
Buri Hai Masti-e-Andaisa Haye Aflaki

Teri Nijat Gham-e-Marg Se Nahin Mumkin
Ke Tu Khudi Ko Samajhta Hai Paikar-e-Khaki

Zamana Apne Hawadas Chupa Nahin Sakta
Tera Hijab Hai Qalb-o-Nazar Ki Na-Paki

Atta Huwa Khs-o-Khashak-e-Asia Mujh Ko
Ke Mere Shaole Mein Hai Sarkashi-o-Bebaki!

(2)
Tera Gunah Hai Iqbal! Majlis Arayi
Agarche Tu Hai Misal-e-Zamana Kam Pewand

Jo Ko Kinar Ke Khugar The, In Ghareebon Ko
Teri Nawa Ne Dia Zauq-e-Jazba Haye Buland

Tarap Rahe Hain Faza Haye Neelgoon Ke LiyeWoh
Par Shakista Ke Sehan Sara Mein The Khorsand

Teri Saza Hai Nawa-e-Sehar Se Mehroomi
Maqam-e-Shauq-o-Suroor-o-Nazar Se Mehroomi

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button