علامہ اقبال شاعریبانگ درا (حصہ سوم)

چاند

 

میرے ویرانے سے کوسوں دُور ہے تیرا وطن
ہے مگر دریائے دل تیری کشش سے موجزن

معانی: کوسوں دور: یعنی ہزاروں میل دور ۔ تیرا وطن: مراد چاند کی آسمانی منزل ۔
مطلب: اس نظم میں اقبال چاند سے یوں مکالمہ کرتے ہیں کہ اے چاند! ہر چند کہ تیری آماجگاہ میرے وطن سے بہت دور ہے اس کے باوجود میرے دل میں ہر لمحے تیری کشش موجزن رہتی ہے ۔

قصد کس محفل کا ہے آتا ہے کس محفل سے تو
زرد رُو شاید ہوا رنجِ رہِ منزل سے تو

معانی: قصد: ارادہ ۔ زردرُو: پیلے چہرے والا ۔ رنجِ رہِ منزل: ٹھکانے کے راستے میں پہنچنے والی تکلیف ۔
مطلب: ذرا مجھے اتنا بتا دے کہ تو کس مقام سے آتا ہے اور وہ کون سی جگہ ہے جہاں جا کر قیام کرے گا ۔ تیرے چہرے پر جو زردی پھیلی ہوئی ہے یوں لگتا ہے کہ زیادہ مسافت طے کرنے کے ضمن میں اس کی تھکن سے تیرا چہرہ زرد ہو کر رہ گیا ہے ۔

آفرینش میں سراپا نور تو، ظلمت ہوں میں
اس سیہ روزی پہ لیکن تیرا ہم قسمت ہوں میں

معانی: آفرینش: پیدائش، جسمانی لحاظ سے ۔ سراپا نور: مکمل روشنی ۔ سیہ روزی: تاریک دن والا ہونا ۔
مطلب: تخلیقی سطح پر بے شک تیرا وجود سراپا نور ہے اس کے برعکس میری ذات اندھیرے کی مانند ہے لیکن جہاں تک بدبختی کا تعلق ہے ہم دونوں میں کافی یکسانیت پائی جاتی ہے کہ دونوں کے مقدر میں جلنے کے سوا اور کیا ہے ۔

آہ! میں جلتا ہوں سوزِ اشتیاقِ دید سے
تو سراپا سوز داغِ منتِ خورشید سے

معانی: اشتیاقِ دید: شوقِ دیدار ۔ سراپا سوزِ داغ: تمام داغ کی جلن ۔ منت خورشید: سورج کا احسان ۔
مطلب: میں اپنے محبوب کے ہجر میں اور تو اس لیے کبیدہ خاطر رہتا ہے کہ روشنی حاصل کرنے کے لیے تجھے سورج کا شرمندہَ احسان بننا پڑتا ہے ۔

ایک حلقے پر اگر قائم تری رفتار ہے
میری گردش بھی مثالِ گردشِ پرکار ہے

معانی: حلقے: چکر ۔ گردش: گھومنا ۔ گردش پرکار: پرکار کاگھومنا ۔
مطلب: بے شک اے چاند! یہ درست ہے کہ جس طرح تیرا سفر ایک دائرے کی طرح محدود ہے تو میری حرکت بھی پرکار کے مانند ہے کہ ایک مقام سے چل کر ادھر اُدھر گھومنے کے بعد پھر اسی مقام پر واپس آ جاتا ہوں ۔ تو اگر کائنات میں سرگرداں ہے تو میں بھی حیرتوں میں ڈوبا ہوا ہوں ۔

زندگی کی رہ میں سرگرداں ہے تو، حیراں ہوں میں
تو فروزاں محفلِ ہستی میں ہے، سوزاں ہوں میں

معانی: سرگرداں : آوارہ ۔ محفلِ ہستی: زندگی کی محفل ۔ سوزاں : جلتا ہے ۔
مطلب: تو اگر اس کائنات میں سرگرداں ہے تو میں بھی حیرتوں میں ڈوبا ہوا ہوں ۔ یہ درست ہے کہ تو اس کائنات میں روشن رہتا ہے جب کہ میں بھی آتش عشق سے جلتا رہتا ہوں ۔

میں رہِ منزل میں ہوں ، تو بھی رہِ منزل میں ہے
تیری محفل میں جو خاموشی ہے، میرے دل میں ہے

معانی: رہِ منزل میں : منزل کی راہ میں ۔
مطلب: بدقسمتی یہ ہے کہ طویل مسافتوں کے باوجود تو بھی راستے میں سرگرداں ہے اور یہی کیفیت میری بھی ہے ۔ فرق یہ ہے کہ تو اس صورت حال پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے ۔

تو طلب خو ہے تو میرا بھی یہی دستور ہے
چاندنی ہے نور تیرا، عشق میرا نور ہے

معانی: طلب خو: مانگنے کی عادت ۔ دستور: طریقہ ۔
مطلب: اے چاند! جان لے کہ اگر تو کسی کو چاہتا ہے تو خود میری کیفیت بھی کچھ ایسی ہی ہے ۔ اگر روشنی تیرا نور ہے تو میرا عشق بھی نور کے مانند ہے ۔

انجمن ہے ایک میری بھی جہاں رہتا ہوں میں
بزم میں اپنی اگر یکتا ہے تو، تنہا ہوں میں

معانی: بزم: محفل ۔ یکتا: اکیلا ۔
مطلب: میں جس دنیا میں رہائش پذیر ہوں وہاں میرے گرد وپیش انجمن آرائی کے لیے ہزار ہا انسان موجود ہیں ۔ مگر بے شمار ستاروں میں گھرا ہونے کے باوجود جس طرح تو بھی خود کو تنہا اور بے مثال محسوس کرتا ہے کچھ ایسی ہی کیفیت میری بھی ہے ۔

مہر کا پرتو ترے حق میں ہے پیغامِ اجل
محو کر دیتا ہے مجھ کو جلوہَ حُسنِ ازل

معانی: مہر: سورج ۔ پرتو: سایہ، روشنی ۔ اجل: موت ۔ حُسن ازل: کائنات کا حسن یعنی نورِ الہٰی ۔
مطلب: آفتاب کا طلوع ہونا جس طرح تیرے لیے موت کی مانند ہے اسی طرح خالق کائنات کا جلوہ مجھے اپنے وجود سے غافل کر دیتا ہے ۔

پھر بھی اے ماہِ مبیں ! میں اور ہوں تو اور ہے
درد جس پہلو میں اٹھتا ہے وہ پہلو اور ہے

معانی: ماہِ مبین: چمکتا چاند ۔
مطلب: اے چاند! تجھ میں اور مجھ میں اگرچہ بہت سی باتیں اور خصوصیات مشترک حیثیت کی حامل ہیں اس کے باوجود عملی سطح پر تو کچھ اور شے ہے اور میں کچھ اور شے ہوں ۔ یعنی تجھ میں اور مجھ میں بڑا فرق ہے اس لیے کہ جو پہلو درد کا حامل ہو اس سے تو واقف نہیں جب کہ میں پوری طرح آشنا ہوں ۔

گرچہ میں ظلمت سراپا ہوں ، سراپا نُور تُو
سیکڑوں منزل ہے ذوقِ آگہی سے دور تُو

معانی: ظلمت: اندھیرا ۔ سراپا: سر سے پاؤں تک، سارے کا سارا ۔ ذوقِ آگہی: جاننے کا شوق ۔
مطلب: اور یہ بھی جان لے کہ بے شک میں سراپا تاریکی کے مانند ہوں اور تیرا وجود نور اور روشنی کا حامل ہے اس کے باوجود یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ تو اپنی حقیقت سے بیگانہ ہے جب کہ میں اس کا پورا پورا شعور رکھتا ہوں ۔

جو مری ہستی کا مقصد ہے، مجھے معلوم ہے
یہ چمک وہ ہے، جبیں جس سے تری محروم ہے

معانی: ہستی: وجود ۔ مقصد: ارادہ ۔ جبیں : پیشانی ۔ محروم ہے: خالی ہے ۔
مطلب: میں تجھ پر یوں بھی فضیلت رکھتا ہوں کہ مجھے اپنی تخلیق کے مقصد کا پوری طرح سے علم ہے میری انفرادیت یہی ہے جس سے تجھے محروم رکھا گیا ہے ۔

 

————

 

Transliteration

 

Chand

Mere Weerane Se Kouson Door  Hai Tera Watan
Hai Magar Darya’ay Dil Teri Kashish Se Moujzan

Qasad Kis Mehfil Ka Hai Hai? Ata Hai Kis Mehfil Se Tu
Zard Ru Shayad Huwa Ranj-e-Reh-e-Manzil Se Tu

Afreenish Mein Sarapa Noor Tu, Zulmat Hun Main
Iss Seh Rozi Pe Lekin Tera Hum Qismat Hun Main

Ah, Main Jalta Hun Souz-e-Ishtiaq-e-Deed Se
Tu Sarapa Souz Dagh-e-Minnat-e-Khursheed Se

Aik Halqe Par Agar Qaeem Teri Rafter Hai
Meri Gardish Bhi Misal-e-Gardish-e-Parkaar Hai

Zindagi Ki Rah Mein Sargardan Hai Tu, Heeran Hun Main
Tu Farozan Mehfil-e-Hasti Mein Hai, Souzan Hun Main

Main Rah-e-Manzil Mein Hun, Tu Bhi Rah-e-Manzil Mein Hai
Teri Mehfil Mein Jo Khamoshi Hai, Mere Dil Mein Hai

Tu Talab Khu Hai To Mera Bhi Yehi Dastoor Hai
Chandani Hai Noor Tera, Ishq Mera Noor Hai

Anjuman Hai Aik Meri Bhi Jahan Rehta Hun Main
Bazm Mein Apni Agar Yakta Hai Tu, Tanha Hun Main

Mehr Ka Partou Tere Haq Mein Hai Pegham-e-Ajal
Mehv Kar Deta Hai Mujh Ko Jalwa-e-Husn-e-Azal

Phir Bhi Ae Mah-e-Mubeen! Main Aur Hun Tu Aur Hai
Dard Jis Pehlu Mein Uthta Ho, Woh Pehlu Aur Hai

 

Garcha Main Zulmat Sarapa Hun, Sarapa Noor Tu
Saikron Manzil Hai Zauq-e-Aghi Se Door Tu

Jo Meri Hasti Ka Maqsad Hai, Mujhe Maloom Hai
Ye Chamak Woh Hai,Jabeen Jis Se Teri Mehroom Hai

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button