با نگ درا - غز ليات - (حصہ سوم)علامہ اقبال شاعری

اے باد صبا! کملي والے سے جا کہيو پيغام مرا

اے بادِ صبا کملی والے سے جا کہیو پیغام مرا
قبضے سے اُمت بے چاری کے، دیں بھی گیا، دنیا بھی گئی

معانی: کملی والا: رسول اللہ ﷺ ۔ دیں قبضے سے جانا: یعنی مسلمانوں کا مذہب سے دور ہونا ۔ دنیا قبضے سے جانا: آزادی سے محروم ہو جانا ۔
مطلب: اے بادِ صبا آنحضرت کو جن کو کملی والے سے موسوم کیا جاتا ہے ازراہ کرم یہ پیغام پہنچا دینا کہ حضور کی امت کے ہاتھوں دین تو خیر گیا ہے اب دنیا بھی چلی گئی یعنی امت مسلمہ کی بے عملی کے سبب اس پر ہر شعبے میں زوال کی کیفیت ہے ۔

یہ موجِ پریشاں خاطر کو پیغام لبِ ساحل نے دیا
ہے دُور وصالِ بحر ابھی، تو دریا میں گھبرا بھی گئی

معا نی: موج: لہر ۔ پریشاں خاطر: جس کا دل بے چینی کا شکار ہو ۔ وصال: ملاپ ۔ بحر: سمندر ۔
مطلب: دریا میں جو ایک موج مضطرب تھی اس کو ساحل نے یہ پیغام دیا کہ ابھی سمندر تو بہت دور ہے اور تو اس معمولی سے دریا میں ہی پریشانی سے ہم کنار ہو رہی ہے ۔ مراد یہ ہے کہ انسان آزمائش کی ابتدائی گھڑی میں ہی پریشان ہو جائے تو پھر وہ منزل تک کیسے پہنچ سکے گا ۔

عزت ہے محبت کی قائم اے قیس! حجابِ محمل سے
محمل جو گیا، عزت بھی گئی ، غیرت بھی گئی ، لیلا بھی گئی

معانی: قیس: مجنوں ۔ حجابِ محمل: کجاوے کا پردہ، لیلیٰ کا پردے میں بیٹھنا ۔
مطلب: اے قیس! تیری محبت کا بھرم محض اس لیے قائم ہے کہ حسن پردہ نشیں ہے اور اگر یہ پردہ ہی نہ رہا تو پھر تیری عزت و غیرت اور لیلیٰ کا ٹھکانا کہا ہوگا ۔ مراد یہ ہے کہ عشق میں جو کشش ہوتی ہے وہ محض حجاب کے سبب ہی ہوتی ہے ۔ اگر یہ حجاب ختم ہو کر رہ جائے تو پھر عشق کی تمام تر کشش بھی ختم ہو جاتی ہے ۔

کی ترک تگ و دو قطرے نے، تو آبروئے گوہر بھی ملی
آوارگیِ فطرت بھی گئی، اور کشمکشِ دریا بھی گئی

معانی: ترک کرنا: چھوڑ دینا ۔ تگ و دو: بھاگ دوڑ، جدوجہد ۔ آبروئے گوہر: موتی کی عزت، یعنی موتی بنا ۔ آوارگی: بے مقصد ادھر اُدھر گھومناپھرنا ۔ کشمکشِ :کھینچا تانی ۔
مطلب: پانی کا قطرہ اپنی تمام تر جدوجہد کے بعد جب ایک مقام پر ساکن ہو گیا تو گوہر آبدار بننا اس کا مقدر ہوا ایک معمولی سا بلبلہ جدوجہد کے بعد بلند مرتبے پر فائز ہو گیا ۔ چنانچہ نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ اس کی فطرت میں آوارگی کا جو عنصر موجود تھا وہ بھی ختم ہو گیا اور دریا کے ساتھ جو کشمکش تھی وہ بھی اختتام کو پہنچی ۔

نکلی تو لبِ اقبال سے ہے، کیا جانیے کس کی ہے یہ صدا
پیغامِ سکوں پہنچا بھی گئی، دل محفل کا تڑپا بھی گئی

معانی: صدا: آواز، شاعری
مطلب: ہر چند کہ اقبال کے لبوں سے یہ امید افزا صدا بلند ہوئی ہے ۔ تاہم نہ جانے اس کا محرک کون ہے ۔ پھر بھی یہ صدا محفل کو تڑپا گئی اور سننے والے بھی پرسکون ہو گئے

Translation

O zephyr! Convey my message to the one wrapped in a blanket
The poor Ummah has lost both din and material resources

The river bank gave this message to the restless wave
Union with the ocean is still far and you have already lost patience in the river

O Qais! Love’s honor is made durable with litter’s curtain
If a litter is lost, glory, honor as well as Lailah is lost!

Though the drop got pearl’s dignity by abandoning the struggle
It lost a taste for wandering and struggling in the river

Though this voice has emerged from Iqbal’s lips its source is unknown
The assembly got hope’s message as well as became restless for activism

Transition

Ae Bad-e-Saba! Kamli Wale (S.A.W.) Se Ja Kehiyo Pegham Mera
Qabze Se Ummat Bechari Ke Deen Bhi Gya, Dunya Bhi Gyi

Ye Mouj-e-Pareeshan Khatar Ko Pegham Lab-e-Sahil Ne Diya
Hai Door Wisaal-e-Behar Abhi, Tu Darya Mein Ghabra Bhi Gyi!

Izzat Hai Mohabbat Ki Qaeem Ae Qais! Hijab-e-Mehmil Se
Mehmil Jo Gya Izzat Bhi Gyi, Ghairat Bhi Gyi, Laila Bhi Gyi

Ki Tark Tag-o-Dou Qatre Ne To Abruye Gohar Bhi Mili
Awargi-e-Fitrat Bhi Gyi Aur Kashmakash-e-Darya Bhi Gyi

Nikli To Lab-e-Iqbal Se Hai, Kya Janiye Kis Ki Hai Ye Sada
Pegham-e-Sukoon Pohancha Bhi Gyi, Dil Mehfil Ka Tarpa Bhi Gyi

Related Articles

One Comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button