رموز بے خودی

در ملامت نرم گفتار آن کریم

در ملامت نرم گفتار آن کریم

من رهین خجلت و امید و بیم

ترجمہ

اس کریم ہستی کی ملامت میں بھی نرمی تھی، اور میں شرمندگی، امید اور خوف کے درمیان بندھا ہوا تھا۔

تشریح

یہ شعر اس پوری نصیحت کے مزاج کو بہت خوب صورتی سے واضح کرتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ اس کریم ہستی کی ملامت میں بھی نرمی تھی، اور میں خجلت، امید اور بیم کے درمیان گرفتار تھا۔ یہاں “آن کریم” کی طرف اشارہ رسول اکرم کی طرف ہے، جن کی نسبت میں سخت سوال بھی آتا ہے مگر اس کی روح میں رحمت باقی رہتی ہے۔ یہی نبوی ادب کا کمال ہے کہ ملامت بھی ہو تو اس میں تحقیر نہیں ہوتی، تنبیہ ہو تو اس میں رحمت باقی رہتی ہے، سوال ہو تو اس میں اصلاح کا دروازہ بند نہیں کیا جاتا۔

اسی نرمی کی وجہ سے شاعر کے دل میں تین کیفیتیں بیک وقت پیدا ہوتی ہیں: خجلت، امید اور بیم۔ اگر ملامت محض قہر ہوتی تو شاید صرف خوف پیدا ہوتا، اور اگر محض نرمی ہوتی تو شاید سنجیدگی کم رہتی۔ مگر نبوی مزاج میں دونوں جمع ہیں۔ اسی لیے انسان نہ بے پروا رہ سکتا ہے، نہ مایوس ہوتا ہے۔ وہ کانپتا بھی ہے اور سنبھلنے کی امید بھی رکھتا ہے۔ اقبال کے نزدیک اصل تربیت یہی ہے: ایسا اخلاقی ماحول جہاں خطا محسوس بھی ہو اور اصلاح ممکن بھی رہے۔

ملامت میں نرمی:

یہ فقرہ اسلامی تربیت کے ایک بنیادی اصول کو بیان کرتا ہے۔ سچی ملامت انسان کو توڑتی نہیں، جگاتی ہے۔ اگر ملامت میں نفرت، تحقیر یا انتقام آ جائے تو وہ نفس کو دفاع پر لگا دیتی ہے۔ لیکن جب ملامت رحمت سے آلودہ ہو تو وہ دل کے اندر اترتی ہے۔ اقبال اسی بات کو محسوس کر رہے ہیں کہ سوال بہت سخت ہے، مگر اس کی زبان میں کرم ہے۔ اسی لیے وہ صرف زخمی نہیں ہوتے، بیدار بھی ہوتے ہیں۔

رسول اکرم کی سیرت کا یہی حسن ہے کہ آپ کی تنبیہ بھی دلوں کو راہ دیتی تھی۔ آپ خطا دکھاتے تھے، مگر خطا کار کو امید سے محروم نہیں کرتے تھے۔ امت کے حسنِ سیرت کی بنیاد بھی یہی ہے کہ وہ اصلاح میں قساوت کے بجائے کریمانہ نرمی اختیار کرے۔

خجلت، امید اور بیم:

یہ تینوں کیفیتیں ایک زندہ باطن کی علامت ہیں۔ خجلت سے پتا چلتا ہے کہ خطا محسوس ہوئی۔ بیم سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ سنجیدہ ہے۔ اور امید سے معلوم ہوتا ہے کہ رابطہ ابھی ٹوٹا نہیں۔ اقبال کے نزدیک یہی توازن مسلمان کی اخلاقی زندگی میں بہت ضروری ہے۔ اگر صرف بیم ہو تو مایوسی پیدا ہو سکتی ہے، اور اگر صرف امید ہو تو بے فکری آ سکتی ہے۔ مگر جب دونوں خجلت کے ساتھ جمع ہوں تو انسان اصلاح کے راستے پر چلنے لگتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ شاعر اپنے آپ کو “رهین” کہتے ہیں، یعنی ان کی جان ان کیفیتوں کے قبضے میں ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تربیتی لمحہ سطحی نہ تھا۔ باطن پوری طرح اس کے زیرِ اثر آ چکا تھا۔

نبوی اخلاق کا اندازِ اصلاح:

اس شعر کا ایک بڑا سبق یہ ہے کہ امت اگر نبوی آداب کی امین بننا چاہتی ہے تو اسے اپنے اصلاحی رویوں پر غور کرنا ہوگا۔ کیا ہم غلطی کرنے والے کو صرف ڈانٹتے ہیں؟ کیا ہم اس میں امید کا دروازہ باقی رکھتے ہیں؟ کیا ہماری ملامت میں بھی وہ نرمی ہے جو انسان کو دوبارہ سنورنے کے قابل چھوڑ دے؟ اقبال ہمیں بتاتے ہیں کہ کریمانہ ملامت ہی حقیقی ملامت ہے۔

اس سے والد کی تربیت کا مزاج بھی سمجھ آتا ہے۔ وہ بیٹے کو رسوا نہیں کر رہا، بلکہ اسے ایسی فضا میں لا رہا ہے جہاں وہ اپنی غلطی سے شرمندہ بھی ہو اور سنورنے کی طلب بھی پیدا کرے۔

آج کے لیے سبق:

آج ہمارے معاشرے میں اصلاح دو انتہاؤں میں بٹ جاتی ہے: یا تو اتنی سختی کہ آدمی نفسیاتی طور پر ٹوٹ جائے، یا اتنی نرمی کہ خطا کی سنجیدگی ہی ختم ہو جائے۔ اقبال اس شعر میں اس کے برعکس نبوی توازن سکھاتے ہیں۔ سچ کو چھپانا نہیں، مگر اس طرح کہنا کہ دل پر اثر ہو اور امید باقی رہے۔

یہ شعر ہمیں اپنی ذاتی توبہ کے لیے بھی راہ دیتا ہے۔ اگر ہمیں اپنی خطا پر خجلت ہو، ساتھ ہی خدا اور نبی کی رحمت سے امید بھی ہو، اور انجام کا خوف بھی، تو یہی کیفیت انسان کو سیدھا کرتی ہے۔ بے حسی اور مایوسی دونوں نقصان دہ ہیں؛ زندہ دل وہ ہے جو امید و بیم کے درمیان سنورے۔

مثال

جیسے ایک شفیق استاد شاگرد کی غلطی پر اسے شرمندہ تو کرتا ہے مگر اس کی ہمت نہیں توڑتا، ویسے ہی کریمانہ ملامت انسان کو بیدار کر کے سنوارتی ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق نبوی ملامت میں سخت سچائی کے ساتھ رحمت بھی ہوتی ہے۔ اسی لیے خجلت، امید اور خوف ایک ساتھ پیدا ہوتے ہیں، اور یہی کیفیت حقیقی اصلاح کی بنیاد بنتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button