رموز بے خودی

قتل او از میر عسکر خواستند

قتل او از میر عسکر خواستند

از فریب او سخن آراستند

ترجمہ

لشکر کے سردار سے اس کے قتل کی درخواست کی گئی، اور اس کے فریب کے بارے میں خوب دلائل آراستہ کیے گئے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں وہ ردعمل دکھاتے ہیں جو دنیاوی عقل اور جنگی مصلحت کی سطح پر بالکل متوقع تھا۔ جابان کی چالاکی اور اس کی بڑی حیثیت سامنے آنے کے بعد لوگ اس کے قتل کی سفارش کرتے ہیں، اور اس کے فریب کو جواز کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ملت کے اصول کو فیصلے میں غالب یا مغلوب ہونا ہے۔ شعر کے مطابق:

میر عسکر کے سامنے مسئلہ:

اب معاملہ صرف ایک سپاہی کے رحم کا نہیں رہا۔ اسے لشکر کی بڑی سطح پر لے جایا گیا ہے۔ “میر عسکر” کے سامنے سوال یہ ہے کہ جنگی مصلحت، دشمن کی اہمیت اور اس کے فریب کو دیکھتے ہوئے کیا کیا جائے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں بہت سی تہذیبیں اپنے اصول پیچھے چھوڑ دیتی ہیں۔

اقبال اسی اجتماعی مرحلے پر اسلامی ملت کی روح کا فیصلہ دکھانا چاہتے ہیں۔

فریب بطور دلیل:

قیدی نے اپنی حیثیت چھپائی، نام نہ بتایا، اور اس میں چالاکی بھی تھی۔ لوگ اسی بات کو دلیل بناتے ہیں کہ اب امان کا پابند رہنا ضروری نہیں۔ یہاں اقبال انسانی طبیعت کی ایک عام کمزوری کی طرف اشارہ کرتے ہیں: ہم اکثر دوسرے کی غلطی کو اپنے اصول توڑنے کے جواز میں بدل لیتے ہیں۔

یعنی مسئلہ صرف دشمن کا فریب نہیں، بلکہ ہمارا ردعمل بھی ہے۔

دلائل آراستن کا نکتہ:

“سخن آراستند” بہت معنی خیز ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قتل کے حق میں باتیں محض جذبات سے نہیں کی جا رہیں، بلکہ انہیں خوب صورت، معقول اور جنگی منطق کے مطابق پیش کیا جا رہا ہے۔ اقبال اس سے بتاتے ہیں کہ غلط فیصلے ہمیشہ برہنہ صورت میں نہیں آتے، وہ اکثر عقل، مصلحت اور دلیل کے لباس میں بھی سامنے آتے ہیں۔

اسی لیے ملت کا اصولی شعور صرف دل نہیں، فہم بھی مانگتا ہے۔

قانون اور مصلحت کی کشمکش:

یہ شعر ہمیں اس بنیادی سوال تک لے آتا ہے کہ کیا جنگی فائدہ دی گئی امان کو توڑ سکتا ہے؟ اقبال کی پوری حکایت اس کے جواب میں ہے: اگر ملت کی روح زندہ ہے تو نہیں۔ دشمن کا فریب، اس کی اہمیت، اور قتل کے حق میں دلائل، سب اپنی جگہ؛ مگر ایک مسلمان کی امان پوری ملت کے اخلاقی وزن سے جڑی ہوئی ہے۔

یہی وہ فرق ہے جو تہذیب کو طاقت کے اندھے استعمال سے بچاتا ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی بہت سے معاہدے، وعدے اور اخلاقی پابندیاں بعد میں “اچھی دلیلوں” سے توڑی جاتی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں حالات بدل گئے، سامنے والا چالاک تھا، فائدہ ہمارے حق میں ہے، اس لیے اصول کو موڑ لیا جائے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ دلیل کی خوب صورتی ہمیشہ حق کی علامت نہیں ہوتی۔

اصل سوال یہ ہے: کیا دلیل ہمیں ملت کے عہد کے قریب لے جا رہی ہے یا اس سے دور؟

مثال

کاروبار، سیاست یا ذاتی تعلقات میں ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ وعدہ توڑنے کے لیے بہت “اچھی” وجوہات پیش کی جاتی ہیں۔ مگر اچھا عذر ہمیشہ اچھا کردار نہیں بنتا۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق جابان کے قتل کے حق میں مضبوط دلائل پیش کیے گئے، مگر یہی حکایت کا اصل امتحان تھا۔ اسلامی ملت کا وقار اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب وہ خوب صورت مصلحت کے مقابل بھی اپنے عہد کو نہ توڑے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button