رموز بے خودی

چون کسی گردد مزاحم بی سبب

چون کسی گردد مزاحم بی سبب

با مسلمان در ادای مستحب

ترجمہ

جب کوئی شخص بلا وجہ کسی مسلمان کے مستحب عمل ادا کرنے میں مزاحم بن جائے۔

تشریح

اس شعر میں علامہ اقبال ایک نہایت عملی، باریک اور تہذیبی مسئلہ اٹھاتے ہیں۔ وہ ایک ایسی صورت بیان کرتے ہیں جہاں کوئی شخص کسی مسلمان کے مستحب عمل میں بلا وجہ مزاحمت کرتا ہے۔ بظاہر یہ بات ایک جزوی فقہی مسئلہ لگتی ہے، مگر اقبال نے اسے شریعت کی حکمت اور امت کی زندگی کے تناظر میں رکھا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین میں صرف بڑے عنوانات ہی اہم نہیں، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ ہم دینی اختلافات، ترجیحات اور اعمال کے مراتب کو کیسے سمجھتے ہیں۔ شعر کے مطابق:

مستحب کی حیثیت:

مستحب وہ عمل ہے جو پسندیدہ، باعثِ اجر اور دینی ذوق کی علامت ہو، مگر فرض اور واجب کے درجے میں نہ ہو۔ شریعت نے اس کے لیے گنجائش، وسعت اور حوصلہ رکھا ہے۔ مستحب کا حسن یہی ہے کہ وہ محبت، رغبت اور نفاستِ بندگی سے پیدا ہوتا ہے، نہ کہ جبر سے۔ اقبال ایسے اعمال کی فضا میں نرمی، ادب اور باہمی وسعت چاہتے ہیں۔

مستحب کی دنیا شریعت کے جمالی پہلو کی بھی علامت ہے، اس لیے اس میں توازن بہت ضروری ہے۔

بلا وجہ مزاحمت:

شعر میں اصل تنبیہ “بی سبب” مزاحمت پر ہے۔ یعنی ایسی رکاوٹ جو کسی حقیقی مصلحت، شرعی ضرورت یا بڑے خیر کی بنیاد پر نہ ہو، بلکہ تعصب، تنگ نظری، ذوقی سختی، خود رائی یا فضول نزاع کی وجہ سے ہو۔ اقبال کے نزدیک ایسی مزاحمت دین کی حکمت کے خلاف ہے، کیونکہ یہ مستحب کے حسن کو جھگڑے میں بدل دیتی ہے۔

جہاں وسعت مطلوب ہو وہاں تنگی پیدا کرنا شریعت کے مزاج سے ناواقف ہونا ہے۔

مراتبِ اعمال کی پہچان:

شریعت کی ایک بڑی حکمت یہ ہے کہ اس نے اعمال کے درجات رکھے ہیں: فرض، واجب، سنت، مستحب، مباح۔ جو شخص ان مراتب کو خلط ملط کر دیتا ہے وہ امت کے اندر غیر ضروری کشمکش پیدا کرتا ہے۔ اگر مستحب کے معاملے میں آدمی ایسی شدت پیدا کرے جیسے یہ فرض ہو، یا اس کی ادائیگی میں اس طرح مزاحمت کرے گویا یہ جرم ہو، تو وہ شریعت کے توازن کو نقصان پہنچاتا ہے۔

اقبال اسی درجہ شناسی کو دین کی حکمت کا حصہ سمجھتے ہیں۔

اجتماعی اثر:

مستحب کے مسئلے میں بے سبب مزاحمت سے امت کے اندر دل آزاری، گروہی سختی، بدگمانی اور چھوٹی باتوں پر بڑے جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔ پھر عبادت کی لطافت کم ہو جاتی ہے اور لوگ عمل کے حسن کے بجائے نزاع کے بوجھ کو محسوس کرنے لگتے ہیں۔ اقبال کی نظر میں یہ دینی ذوق کے لیے نقصان دہ ہے، کیونکہ دین کے حسن کو حفظ کرنے کے لیے مراتب اور وسعت دونوں ضروری ہیں۔

اسی لیے وہ اس جزوی مسئلے کو باب کے بڑے استدلال کے اندر جگہ دیتے ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج دینی معاشرے میں بہت سی کشیدگیاں ایسے ہی مسائل سے پیدا ہوتی ہیں جہاں اصل اختلاف فرض و حرام کا نہیں بلکہ آداب، سنت یا مستحب کی ادائیگی کے ذوق کا ہوتا ہے۔ اگر وہاں تحمل، علم اور وسعت نہ ہو تو چھوٹی بات بڑے افتراق میں بدل جاتی ہے۔ اقبال ہمیں سکھاتے ہیں کہ مراتب کا احترام اور بے سبب مزاحمت سے بچنا بھی شریعت کی حکمت ہے۔

یہ شعر امت کو نرمی، توازن اور شرعی مراتب کی سوجھ بوجھ کی طرف بلاتا ہے۔

مثال

جیسے کسی باغ میں خوشبو دار پودے کو صرف اس لیے اکھاڑ دینا کہ وہ ضروری درخت نہیں، باغبانی کی بے ذوقی ہے، ویسے ہی مستحب کے باب میں بے سبب مزاحمت دینی ذوق کو زخمی کرتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں متنبہ کرتے ہیں کہ مستحب اعمال کے باب میں بے وجہ مزاحمت شریعت کے توازن کے خلاف ہے۔ دینی مراتب کی صحیح پہچان امت کے حسن اور باہمی نرمی کو محفوظ رکھتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button