رموز بے خودی

پنجه ی گردون چو انگورش فشرد

پنجه ی گردون چو انگورش فشرد

یادگار موسی و هارون نمرد

ترجمہ

جب آسمان کے پنجے نے اسے انگور کی طرح نچوڑ ڈالا، تب بھی موسیٰ اور ہارون کی یادگار مٹ نہ سکی۔

تشریح

یہ شعر بنی اسرائیل کی تاریخ کی ایک نہایت پُر درد مگر معنی خیز تصویر پیش کرتا ہے۔ علامہ اقبال کہتے ہیں کہ زمانے کے سخت ہاتھ نے اس قوم کو اس شدت سے دبایا جیسے انگور نچوڑا جاتا ہے، مگر اس سب کے باوجود “یادگار موسیٰ و ہارون” زندہ رہی۔ یعنی انبیائی نسبت، مذہبی حافظہ، شریعت کا اثر اور تاریخی شناخت پوری طرح فنا نہ ہوئے۔ اقبال اس مثال کو اس لیے لاتے ہیں کہ امت سمجھے: شدید جبر کے باوجود اگر مرکزِ نسبت باقی رہے تو قوم کی روح مکمل نہیں مرتی۔ شعر کے مطابق:

پنجه ی گردون:

“گردون کا پنجہ” تقدیر کے سخت تھپیڑوں، زمانے کے جابرانہ دباؤ، سیاسی زوال، جلا وطنی، ذلت اور مسلسل آزمائشوں کی علامت ہے۔ پنجہ میں گرفت، سختی اور بے رحمی تینوں معانی جمع ہیں۔ اقبال دکھاتے ہیں کہ قوموں پر تاریخ کبھی کبھی صرف مشکل نہیں لاتی، بلکہ انہیں چُور کرنے کے قریب پہنچا دیتی ہے۔

یہاں شاعر تاریخ کی شدت کو نرم الفاظ میں نہیں بلکہ ایک جسمانی دباؤ کی صورت میں محسوس کراتا ہے۔

انگور کی طرح نچوڑا جانا:

انگور کو نچوڑنے کی مثال نہایت بلیغ ہے۔ انگور اپنی اصل حالت میں باقی نہیں رہتا؛ اس کا رس الگ ہو جاتا ہے اور اس کی ہیئت بدل جاتی ہے۔ اقبال کہنا چاہتے ہیں کہ بنی اسرائیل پر ایسے دور بھی آئے کہ ان کی اجتماعی حالت بری طرح دبی، ٹوٹی اور بدلی گئی۔ یہ محض ایک سیاسی شکست نہ تھی بلکہ وجودی سطح کی آزمائش تھی۔

مگر سوال یہ ہے کہ ایسی حالت میں کیا چیز باقی رہی۔ یہی اگلی سطر کا مرکز ہے۔

یادگار موسیٰ و ہارون:

“یادگار موسیٰ و ہارون” سے مراد صرف تاریخی قصے نہیں بلکہ وہ دینی نسبت، نبوی میراث، قانونی روایت اور روحانی شعور ہے جو ایک قوم کو اس کے انبیاء سے جوڑے رکھتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ یہی یادگار ان کی اصل بقا کا سبب بنی۔ جسمانی و سیاسی زخم آئے، مگر نسبتِ نبوت کی یاد پوری طرح بجھ نہ سکی۔

یہاں اقبال بالواسطہ امت محمدیہ کو متنبہ کرتے ہیں کہ تمہاری سب سے بڑی پناہ بھی تمہاری نبوی نسبت اور قرآنی مرکزیت ہے۔

بقا کا اصلی سرمایہ:

اس شعر سے معلوم ہوتا ہے کہ قومیں محض طاقت سے نہیں بچتیں۔ بڑی طاقتیں بھی مٹ جاتی ہیں اگر ان کے پاس کوئی زندہ معنوی مرکز نہ ہو۔ اس کے برعکس ایک مظلوم قوم بھی زندہ رہ سکتی ہے اگر اس کے اندر انبیائی یاد، مذہبی نظم اور تاریخی وفاداری باقی ہو۔ اقبال اسی اصول کو اپنے باب کے بنیادی استدلال میں استعمال کرتے ہیں۔

یعنی جب زمانہ نچوڑ ڈالے تب سب سے پہلے مرکز کی حفاظت ضروری ہے، کیونکہ قوت پھر اسی سے لوٹے گی۔

آج کے لیے سبق:

آج امت کے لیے یہ شعر بہت بڑا سبق رکھتا ہے۔ سیاسی کمزوری، معاشی دباؤ اور فکری حملوں کے زمانے میں اگر امت اپنی نبوی نسبت، قرآنی تربیت، دینی شعائر اور اخلاقی روایت سے کٹ جائے تو پھر اس کے پاس بچنے کو کچھ نہیں رہتا۔ لیکن اگر یہ مرکز محفوظ رہے تو شکست کے بعد بھی احیا کا در کھلا رہتا ہے۔

اقبال ہمیں بتاتے ہیں کہ بقا کا پہلا راز طاقت نہیں، وفادار نسبت ہے۔

مثال

جیسے سخت بارش اور آندھی میں بہت سی شاخیں ٹوٹ جاتی ہیں مگر اگر جڑ زندہ رہے تو درخت پھر سنبھل سکتا ہے، ویسے ہی قوموں کے لیے بھی اصل جڑ ان کی معنوی نسبت ہوتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں دکھاتے ہیں کہ شدید تاریخی جبر کے باوجود بنی اسرائیل کی انبیائی یادگار باقی رہی۔ یہی مثال بتاتی ہے کہ قوم کی اصل بقا اس کے مرکزِ نسبت اور دینی حافظے میں ہوتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button