رموز بے خودی

ساز پردازی کہ از آوازہ ئی

ساز پردازی کہ از آوازہ ئی

خاک را بخشد حیاتِ تازہ ئی

ترجمہ

ایسا نغمہ ساز (کامل رہنما) جو ایک ہی آواز اور صدا سے مٹی کو ایک نئی زندگی عطا کر دیتا ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں کامل رہنما یعنی نبی کی اس قوت کو بیان کرتے ہیں جو بے جان اور خام انسانیت کو نئی زندگی عطا کرتی ہے۔ شعر کے مطابق:

نغمہ ساز رہنما:

اقبال اس کامل رہنما کو ایک نغمہ ساز اور ساز پرداز سے تشبیہ دیتے ہیں، جو خاموش اور بے حرکت وجود میں نغمہ اور حرکت پیدا کر دیتا ہے۔

جیسے ایک ماہر فنکار خاموش ساز کو چھیڑ کر اس میں نغمہ پیدا کرتا ہے، ویسے ہی رہنما خام افراد کے دلوں میں مقصد اور جوش کی لے پیدا کر دیتا ہے۔

ایک آواز سے زندگی بخشنا:

شاعر کہتے ہیں کہ وہ ایک ہی آواز اور صدا سے مٹی کو نئی زندگی عطا کر دیتا ہے۔ یعنی اس کی پکار اور پیغام مردہ دلوں اور بے جان قوموں کو زندہ کر دیتا ہے۔

یہ اشارہ نبی کی اس روحانی قوت کی طرف ہے جو اپنے پیغام سے ایک پوری قوم کو بیدار اور زندہ کر دیتی ہے۔

مردہ کو زندہ کرنا:

اقبال یہ باور کراتے ہیں کہ کامل رہنما کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ بے جان اور مایوس انسانوں میں زندگی اور امید کی روح پھونک دیتا ہے۔

پیغام کی قوت:

اس شعر میں اقبال بتاتے ہیں کہ رہنما کے پیغام کی قوت اتنی عظیم ہوتی ہے کہ وہ مٹی جیسے بے حیثیت وجود کو بھی حیاتِ تازہ عطا کر دیتا ہے۔

مثال

جیسے بہار کی آمد سے خزاں رسیدہ اور سوکھی زمین دوبارہ سرسبز اور شاداب ہو جاتی ہے، ویسے ہی کامل رہنما کی پکار سے بے جان اور خام انسانیت نئی زندگی اور جوش پا لیتی ہے۔

خلاصہ

اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ کامل رہنما ایک نغمہ ساز کی مانند اپنی پکار سے بے جان اور خام انسانیت کو نئی زندگی اور مقصد عطا کر دیتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button