عیشت از عیشش غم تو از غمش
عیشت از عیشش غم تو از غمش
زندہ ای از انقلاب ہر دمش
ترجمہ
تیرا آرام اسی (خودی) کے آرام سے ہے اور تیرا غم اسی کے غم سے ہے۔ اسی کے ہر لمحے کے انقلاب کی بدولت تو زندہ ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں انسان کی خوشی، غم اور زندگی کو خودی کی مسلسل حرکت اور انقلاب سے وابستہ کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک خودی کی بے قراری ہی دراصل زندگی کی علامت ہے۔ شعر کے مطابق:
آرام اور غم کا سرچشمہ:
انسان کی خوشی اور غم دونوں کا تعلق اس کی خودی سے ہے۔ جب خودی مطمئن اور توانا ہو تو انسان مطمئن رہتا ہے، اور جب خودی مضطرب ہو تو انسان غمگین ہو جاتا ہے۔
یعنی انسان کے تمام جذبات اور کیفیات کا مرکز اس کی خودی ہے، اور اسی کے حال پر اس کی اندرونی دنیا کا انحصار ہے۔
خودی کا مسلسل انقلاب:
خودی میں ہر لمحہ ایک نیا انقلاب، ایک نئی حرکت اور ایک نئی تڑپ رہتی ہے۔ یہی مسلسل حرکت انسان کو زندہ، فعال اور بیدار رکھتی ہے۔
یہ انقلاب رک جائے تو زندگی جمود کا شکار ہو جاتی ہے، اور جمود دراصل ایک طرح کی موت ہے۔
زندگی کا راز:
خودی کی یہ بے قراری اور حرکت ہی دراصل زندگی کی اصل علامت ہے۔ ٹھہراؤ موت ہے اور مسلسل حرکت و جدوجہد زندگی۔
حرکت میں دوام:
اقبال کے نزدیک انسان کی حقیقی زندگی اسی میں ہے کہ اس کی خودی مسلسل حرکت اور انقلاب میں رہے، اور کبھی ٹھہراؤ کا شکار نہ ہو۔
مثال
جیسے دل کی مسلسل دھڑکن انسان کو زندہ رکھتی ہے اور اس کے رک جانے سے زندگی ختم ہو جاتی ہے، ویسے ہی خودی کا ہر لمحہ انقلاب اور حرکت انسان کی زندگی کا ضامن ہے۔
خلاصہ
اس شعر میں اقبال بتاتے ہیں کہ انسان کا آرام، غم اور زندگی سب اس کی خودی کے مسلسل انقلاب سے وابستہ ہیں، اور یہی مسلسل حرکت زندگی کا اصل راز ہے۔

