رموز بے خودی

مدعای ما مآل ما یکیست

مدعای ما مآل ما یکیست

طرز و انداز خیال ما یکیست

ترجمہ

ہمارا مقصد بھی ایک ہے اور ہمارا انجام بھی ایک، اور ہماری سوچ کا طرز و انداز بھی ایک ہی بنیاد پر قائم ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں ملت کی وحدت کو صرف حال کے دائرے تک محدود نہیں رکھتے بلکہ اس کے مقصد اور اس کے انجام دونوں کو ایک سلسلے میں دیکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ایک امت کا مدعا ایک ہو، اس کا مآل ایک ہو، اور اس کی سوچ کی ساخت ایک ہو، تب اس کے اندر حقیقی روحانی اور تاریخی وحدت پیدا ہوتی ہے۔ شعر کے مطابق:

مدعا کی وحدت:

مدعا سے مراد وہ مقصد ہے جس کے لیے قوم جیتی ہے، قربانی دیتی ہے اور اپنے نظام بناتی ہے۔ اگر ہر فرد، ہر طبقہ اور ہر گروہ اپنا الگ مدعا لے کر چلے تو قوم بظاہر موجود ہونے کے باوجود اندر سے بکھر جاتی ہے۔ اقبال اس کے برعکس ایک ایسے اجتماعی مقصد کی بات کر رہے ہیں جو امت کے افراد کو ایک ہی بڑے نصب العین کے تحت جمع کرے۔

یہ مقصد محض دنیاوی مفاد یا وقتی غلبہ نہیں بلکہ وہ بڑی سچائی ہے جو ایمان، اخلاق اور خدمتِ حق سے جڑی ہوتی ہے۔ اسی سے ملت کی زندگی میں وزن آتا ہے۔

مآل کا ایک ہونا:

مآل یعنی انجام، آخری رخ، یا وہ منزل جس کی طرف سفر جاری ہے۔ اقبال فرماتے ہیں کہ ہماری منزل بھی ایک ہے۔ یہ بہت اہم بات ہے، کیونکہ کبھی لوگ ایک سفر میں ساتھ ہوتے ہیں مگر ان کے دل میں آخری منزل الگ الگ ہوتی ہے۔ ایسی رفاقت دیرپا نہیں رہتی۔

جب قوم کا مآل ایک ہو تو اس کے موجودہ فیصلے بھی اس آخری مقصد کے تابع ہوتے ہیں۔ پھر آج کی جدوجہد اور کل کی امید ایک ہی لڑی میں بندھ جاتی ہے۔

خیال کے طرز و انداز کی ہم آہنگی:

اقبال صرف نتیجے پر بات نہیں کرتے، بلکہ اس ذہنی ساخت پر بھی توجہ دیتے ہیں جس سے نتائج نکلتے ہیں۔ “طرز و انداز خیال” سے مراد وہ بنیادی فکری سانچہ ہے جس میں قوم دنیا کو سمجھتی، خیر و شر کو پرکھتی، اور اپنے مسائل کا حل سوچتی ہے۔ اگر یہ طرزِ فکر ایک بڑے اصول سے مربوط نہ ہو تو قوم کی سوچوں میں تضاد پیدا ہوتا ہے۔

اسی لیے شاعر کہتے ہیں کہ ہمارا اندازِ خیال بھی ایک ہے، یعنی ہماری فکری بنیاد ایک ہی اصل سے روشنی لیتی ہے۔

تاریخی اور تہذیبی اثر:

ایسی قوم جس کا مقصد، انجام اور بنیادی اندازِ فکر ہم آہنگ ہو، وہ تہذیب پیدا کرتی ہے، مسلسل تاریخ بناتی ہے، اور اپنے افراد کو گہری شناخت عطا کرتی ہے۔ اس کے برعکس وہ قومیں جن کے مقصد بدلتے رہتے ہوں اور جن کی سوچ دوسروں سے مستعار ہو، وہ اپنے مرکز سے دور ہوتی جاتی ہیں۔

اقبال امت کو اسی اندرونی ہم آہنگی کی طرف بلا رہے ہیں، کیونکہ یہی ہم آہنگی اسے بقا، اعتماد اور معنوی قوت دیتی ہے۔

فرد کے لیے رہنمائی:

فرد کی سطح پر بھی یہی اصول سچا ہے۔ اگر انسان کا مقصد کچھ ہو، اس کا عملی رخ کچھ اور، اور اس کا سوچنے کا انداز تیسرا، تو وہ اندر سے بکھرا ہوا رہتا ہے۔ لیکن جب مقصد، انجام اور فکر ایک مرکزی سچ کے تحت جمع ہو جائیں تو شخصیت میں طاقت اور استقامت پیدا ہوتی ہے۔

یوں اقبال ملت کی وحدت کا راز فرد کے باطن کے نظم سے بھی وابستہ کر دیتے ہیں۔

مثال

ایک عمارت تبھی خوب صورت اور مضبوط بنتی ہے جب اس کا نقشہ، اس کی بنیاد اور اس کی آخری شکل ایک ہی منصوبے کے تحت ہوں۔ اگر بنیاد کچھ اور ہو، نقشہ کچھ اور، اور تعمیر کا مقصد کچھ اور، تو عمارت کمزور ہو جاتی ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک ملت کی قوت اس بات میں ہے کہ اس کا مقصد، اس کا انجام اور اس کی فکری ساخت ایک ہو۔ یہی ہم آہنگی اسے بکھراؤ سے بچاتی اور اس کی تاریخ و تہذیب کو زندہ رکھتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button