از زیان گنج فراوانش همان
از زیان گنج فراوانش همان
محفل گلہای خنداںش همان
ترجمہ
اس کے بڑے خزانے میں کچھ کمی واقع ہو بھی جائے تو بھی اس کی ہنستے ہوئے پھولوں کی محفل ویسی ہی رہتی ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں کثرت، فراوانی اور داخلی غنا کا مضمون بیان کرتے ہیں۔ بہار کا خزانہ اتنا وسیع ہے کہ اگر اس میں کچھ نقصان بھی ہو جائے تب بھی اس کی گلستانی محفل قائم رہتی ہے۔ پھولوں کی ہنستی ہوئی مجلس میں کوئی ایسی ویرانی نہیں آتی جو اصل حسن کو توڑ دے۔ اقبال اس تصویر کو ملتِ محمدیہ کے دوام پر منطبق کرتے ہیں۔ اگر اس امت کے بعض افراد، بعض قوتیں یا بعض ظاہری سرمایہ گھٹ بھی جائیں تو اس کی اصل فراوانی، اس کی باطنی دولت اور اس کے اندر حیات پیدا کرنے کی صلاحیت باقی رہتی ہے۔ شعر کے مطابق:
گنجِ فراواں کا مفہوم:
گنجِ فراواں محض مالی کثرت کا نام نہیں بلکہ ایسی وسیع دولت کا نام ہے جو ختم ہونے والی نہ ہو۔ ملت کے لیے یہ دولت ایمان، علم، ذکر، اخلاق، قربانی، تاریخ، صالح روایت اور باہمی ربط کی صورت میں ہوتی ہے۔ اگر کوئی قوم ان حقیقی خزانوں سے مالا مال ہو تو ظاہری نقصانات اسے کلی طور پر مفلس نہیں کر سکتے۔
اقبال امت کو اس کی باطنی دولت کا شعور دلانا چاہتے ہیں، کیونکہ جس قوم کو اپنے خزانے کا اندازہ نہ ہو وہ معمولی نقصان پر بھی دیوالیہ محسوس کرنے لگتی ہے۔
زیان کی حقیقت:
شعر زیان کا انکار نہیں کرتا۔ نقصان ہوتا ہے، جدائی ہوتی ہے، کمزوری آتی ہے، کچھ پھول جھڑتے ہیں، کچھ قوتیں کم ہوتی ہیں۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ کیا یہ زیان اصل خزانے کو ختم کر دیتا ہے یا نہیں۔ اقبال کا جواب ہے: نہیں۔ اگر اصل سرچشمہ زندہ ہو تو نقصان ایک جزوی واقعہ رہتا ہے، فیصلہ کن حقیقت نہیں بنتا۔
یہ نقطہ ملت کے نفسیاتی استحکام کے لیے بہت ضروری ہے۔ ہر کمی کو آخری تباہی سمجھ لینا کم ظرفی ہے، جبکہ اس کے باوجود اصل دولت کو دیکھنا بالغ نظری ہے۔
محفلِ گلہای خنداں:
ہنستے ہوئے پھولوں کی محفل اس اجتماعی طراوت کی تصویر ہے جو نقصان کے باوجود برقرار رہتی ہے۔ اقبال یہاں باغ کی فضا کو ویران یا ماتمی نہیں دکھاتے، بلکہ خنداں دکھاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی کا اصل مزاج غلبۂ حیات ہے، نہ کہ غلبۂ شکست۔
ملت بھی اسی وقت زندہ ملت ہے جب وہ ہر نقصان کے بعد دوبارہ مسکرانے، دوبارہ تعمیر کرنے اور دوبارہ نئے پھول پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
اجتماعی غنا کا راز:
اجتماعی غنا اس وقت پیدا ہوتی ہے جب زندگی ایک فرد یا ایک وسیلے پر منحصر نہ رہے۔ باغ اگر صرف ایک پھول پر قائم ہو تو اس کے ٹوٹنے سے باغ کا حسن ختم ہو جائے۔ مگر اگر باغ اندر سے زرخیز ہو تو نقصان بھی اس کے حسن کو مکمل طور پر مٹا نہیں سکتا۔ ملت کی اصل طاقت بھی اس کی اسی زرخیزی میں ہے۔
یہ زرخیزی صرف نعروں سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ نسل در نسل منتقل ہونے والی تربیت، سچے مقاصد اور ربانی تعلق سے پیدا ہوتی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج امت کو چاہیے کہ وہ اپنے نقصانات کا ماتم کرتے ہوئے اپنی اصل دولت کو نہ بھولے۔ اگر کسی دور میں قیادت کمزور ہو، وسائل محدود ہوں یا حالات سخت ہوں تب بھی ایمان، علم، عبادت، اخلاقی رشتے اور زندہ روایت جیسے خزانے باقی رہ سکتے ہیں۔ انہی سے نئی گلستانی محفل دوبارہ روشن ہوتی ہے۔ جس قوم کو اپنے گنجِ فراواں پر یقین ہو، وہ ہزیمت کے وقت بھی امید اور عمل نہیں چھوڑتی۔
مثال
ایک خاندان اگر مالی نقصان اٹھا لے مگر اس کے افراد کا باہمی اعتماد، تعلیم کا ذوق اور محنت کی روایت باقی ہو تو وہ دوبارہ سنبھل جاتا ہے۔ اصل دولت وہی تھی جو اندر موجود تھی، صرف ظاہری سرمایہ ہی سب کچھ نہ تھا۔ ملت کا حال بھی ایسا ہی ہے۔
خلاصہ
اقبال کے نزدیک ملت کا اصل خزانہ اتنا وسیع ہے کہ جزوی نقصان اسے خالی نہیں کر سکتا۔ اگر کچھ کم بھی ہو جائے تو اس کی زندہ اور خنداں محفل باقی رہتی ہے، کیونکہ اس کی حیات باطنی غنا اور مسلسل پیداواری قوت پر قائم ہے۔