رموز بے خودی

خفتہ با غم در تہ یک چادر است

خفتہ با غم در تہ یک چادر است

غم رگ جان را مثال نشتر است

ترجمہ

غم کے ساتھ لیٹا ہوا انسان گویا ایک ہی چادر کے نیچے دبکا ہوا ہے، اور غم تو رگِ جاں کے لیے نشتر کی مانند ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں غم کے مسلسل ساتھ رہنے والی کیفیت کو بیان کرتے ہیں۔ یہاں صرف ایک وقتی اداسی مراد نہیں، بلکہ وہ غم مراد ہے جو انسان کے وجود پر اس طرح چھا جائے کہ وہ اس کا ہم بستر، ہم لباس اور ہم سایہ بن جائے۔ پھر یہی غم رگِ جاں میں نشتر کی طرح چبھتا رہتا ہے۔ شعر کے مطابق:

غم کے ساتھ سونا:

“خفتہ با غم” ایک بہت گہری تصویر ہے۔ اس میں یہ معنی ہے کہ غم اب محض آنے جانے والی کیفیت نہیں رہا، بلکہ زندگی کے ساتھ لپٹ گیا ہے۔ انسان جاگے تو غم، بیٹھے تو غم، سوئے تو غم۔ اقبال یہ بتاتے ہیں کہ جب غم اس درجہ حاوی ہو جائے تو وہ انسان کی شخصیت کی فضا بدل دیتا ہے۔

اسی لیے “یک چادر” کی تعبیر بھی آئی ہے۔ گویا انسان اور غم ایک ہی لپیٹ میں آ گئے ہیں، اور دونوں میں فاصلہ باقی نہیں رہا۔

غم اور حزن میں فرق:

اقبال ہر قسم کے غم کی مذمت نہیں کرتے۔ دردِ حق، غمِ امت اور توبہ کا احساس بعض اوقات زندگی بخش بھی ہوتا ہے۔ لیکن یہاں وہ اس غم کی بات کر رہے ہیں جو انسان کو مفلوج کر دے، اسے حرکت سے روکے، اور اس کی رگِ جاں کو زخمی کرتا رہے۔ یہ وہ غم ہے جو امید نہیں دیتا، عمل نہیں جگاتا، بلکہ دل کو نیچے دباتا ہے۔

اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ ہر آنسو زندگی کُش نہیں ہوتا، مگر وہ غم جو ناامیدی میں بدل جائے ضرور تباہ کن ہوتا ہے۔

نشتر کا استعارہ:

نشتر ایک تیز آلہ ہے جو چیرتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ غم رگِ جاں کے لیے نشتر ہے، یعنی وہ بار بار چبھتا ہے، زندگی کی نازک نس پر اثر ڈالتا ہے، اور انسان کے باطن کو زخمی رکھتا ہے۔ یہ تشبیہ اس لیے مؤثر ہے کہ غم اکثر ایک بڑے حادثے کے بعد ختم نہیں ہو جاتا، بلکہ چھوٹے چھوٹے وار کرتا رہتا ہے۔

یہ مسلسل زخم انسان کی قوت، خوشی، اعتماد اور تعلقات سب پر اثر انداز ہو سکتا ہے، اگر اسے سنبھالا نہ جائے۔

روحانی نجات کا راستہ:

چونکہ یہ `بخش` مسلسل “لاتحزن” اور توحیدی امید کی طرف لے جا رہا ہے، اس لیے اس شعر میں بھی علاج پوشیدہ ہے۔ انسان کو غم کے ساتھ ایسا لپٹنے نہیں دینا چاہیے کہ وہ اس کی شناخت بن جائے۔ غم کو دعا، صبر، ذکر، صحبتِ خیر اور عمل کے ذریعے ایک مثبت رخ دینا ضروری ہے۔

توحید انسان کو یہ حوصلہ دیتی ہے کہ غم آخری حقیقت نہیں، بلکہ ایک مرحلہ ہے۔ اگر دل خدا کے ساتھ بندھا رہے تو یہ نشتر شفا کی طرف بھی موڑ سکتا ہے۔

ملت پر اطلاق:

قومیں بھی کبھی اپنے غم کے ساتھ اس قدر مانوس ہو جاتی ہیں کہ وہ اس سے نکلنے کی کوشش کم کر دیتی ہیں۔ شکست، پسماندگی یا ماضی کے زخم ان کے اجتماعی شعور پر اس طرح چھا جاتے ہیں کہ وہ اپنے غم کو تقدیر سمجھنے لگتی ہیں۔ اقبال امت کو اس کیفیت سے نکالنا چاہتے ہیں۔

وہ چاہتے ہیں کہ غم کو احساسِ ذمہ داری میں بدلا جائے، نہ کہ مستقل بستر اور چادر بنا لیا جائے۔ یہی فرق زندہ امت اور پژمردہ امت میں ہوتا ہے۔

مثال

اگر کوئی شخص اپنے زخم کی دیکھ بھال کے بجائے اسے مسلسل کریدتا رہے، تو زخم بھرنے کے بجائے بڑھتا رہتا ہے۔ اسی طرح غم اگر بےامیدی کے ساتھ جڑ جائے تو رگِ جاں کے لیے نشتر بنتا ہے، مگر اگر صبر اور امید کے ساتھ سنبھالا جائے تو شفا کی راہ کھل سکتی ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک وہ غم جو انسان کے ساتھ لپٹ کر اس کی رگِ جاں کو زخمی کرتا رہے، زندگی کے لیے خطرناک ہے۔ نجات اس میں ہے کہ غم کو یأس میں نہیں بلکہ صبر، ذکر اور توحیدی امید میں تبدیل کیا جائے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button