فصل گل از نسترن باقی تر است
فصل گل از نسترن باقی تر است
از گل و سرو و سمن باقی تر است
ترجمہ
فصلِ گل نسترن سے زیادہ باقی رہنے والی ہے، اور گل و سرو و سمن سے بھی زیادہ پائیدار ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں فرد اور مجموعہ، جز اور کل، مظہر اور اصل کے درمیان نسبت کو نہایت خوبصورتی سے واضح کرتے ہیں۔ نسترن، گل، سرو اور سمن سب اپنی اپنی جگہ خوبصورت اور معنی خیز مظاہر ہیں، مگر فصلِ گل ان سب سے زیادہ باقی رہنے والی ہے۔ یعنی پورا موسم، پورا نظام اور پورا اجتماعی حسن کسی ایک پھول یا ایک درخت سے زیادہ وسیع اور زیادہ پائیدار ہے۔ اقبال ملتِ محمدیہ کے دوام کو بھی اسی اصول سے سمجھاتے ہیں کہ اس کی اصل زندگی انفرادی مظاہر سے بڑی اور دیرپا ہے۔ شعر کے مطابق:
فصلِ گل اور فردی مظاہر:
نسترن، گل، سرو اور سمن باغ کی دلکشی کے الگ الگ مظاہر ہیں۔ ہر ایک میں حسن کا ایک خاص پہلو موجود ہے۔ لیکن فصلِ گل ان سب کا محیط ہے۔ اقبال یہ دکھاتے ہیں کہ جزئی حسن اپنی جگہ اہم ہے، مگر اصل حقیقت وہ جامع فضا ہے جس میں یہ سب حسن پیدا ہوتے ہیں۔
ملت کے اندر بھی افراد، جماعتیں، ادارے اور مخصوص ادوار اسی طرح مختلف مظاہر ہیں۔ ان کی قدر ضروری ہے، مگر ان سے بڑھ کر وہ اجتماعی روح ہے جو ان سب کو پیدا کرتی ہے۔
بقا کا اصل مرکز:
اقبال کا زور اس بات پر ہے کہ بقا کی نسبت اصل سے ہونی چاہیے، مظاہر سے نہیں۔ اگر ہم کسی ایک پھول کو ہی پورا باغ سمجھ بیٹھیں گے تو اس کے مرجھانے پر ہمیں ویرانی محسوس ہوگی۔ لیکن اگر ہم فصلِ گل کو اصل سمجھیں گے تو جان لیں گے کہ ایک شے کا زوال پورے نظام کا زوال نہیں۔
اسی اصول کو ملت پر منطبق کریں تو واضح ہوتا ہے کہ کوئی ایک نسل، ایک قیادت، ایک مکتب یا ایک عہد ملت کے ساتھ عینیت نہیں رکھتا۔ ملت ان سب سے بڑی حقیقت ہے۔
اجتماعی شعور کی ضرورت:
یہ شعر دراصل اجتماعی شعور کی تربیت ہے۔ اقبال فرد کو اس کی جگہ بتاتے ہیں اور ملت کو اس کی۔ فرد اپنی انفرادیت کے باوجود ملت کے بڑے موسم میں معنی پاتا ہے۔ جیسے ایک پھول اپنی رونق فصلِ گل سے لیتا ہے، ویسے ہی ایک فرد اپنی حقیقی زندگی ملت کے زندہ ربط سے پاتا ہے۔
جو فرد اپنے آپ کو کل سمجھنے لگے یا جو قوم کسی ایک مظہر کو اپنی پوری حقیقت بنا لے، اس میں توازن باقی نہیں رہتا۔ اقبال اس توازن کو بحال کرتے ہیں۔
دوامِ ملت کی دلیل:
اگر فصلِ گل گل و سمن سے زیادہ باقی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل قوت کسی ایک ظاہری وجود میں نہیں بلکہ اس پیداواری نظم میں ہے جو مسلسل نئے مظاہر پیدا کرتا رہتا ہے۔ ملتِ محمدیہ کی بقا بھی اسی طرح ہے۔ اس کے اندر ایسے اصول موجود ہیں جو ہر دور میں نئے رجال، نئے اعمال اور نئی صورتیں پیدا کر سکتے ہیں۔
یہی وعدۂ دوام ہے: ملت کی زندگی ایک مسلسل موسم ہے، نہ کہ صرف چند چمکتے ہوئے پھولوں کا مجموعہ۔
آج کے لیے سبق:
آج امت کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی ایک شخصیت، کسی ایک ادارے یا کسی ایک تاریخی مرحلے کو اپنی کل حقیقت نہ بنا دے۔ اصل تو وہ فصلِ گل ہے جو ایمان، اخلاق، علم، تعلق باللہ اور اجتماعی مقصد سے بنتی ہے۔ اگر یہ باقی ہے تو نئے نسترن، نئے گل، نئے سرو اور نئی خوشبوئیں پھر پیدا ہوں گی۔
مثال
جیسے ایک زبان کی اصل قوت کسی ایک شاعر میں نہیں ہوتی، بلکہ اس پوری ادبی روایت میں ہوتی ہے جو نئے شعرا کو جنم دیتی رہتی ہے، ویسے ہی ملت کی اصل طاقت بھی اس کی جامع روح میں ہے، نہ کہ صرف انفرادی جلووں میں۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق فصلِ گل اپنے انفرادی مظاہر سے زیادہ باقی اور زیادہ وسیع حقیقت ہے۔ یہی اصول ملتِ محمدیہ پر بھی لاگو ہوتا ہے: اس کی زندگی افراد اور وقتی صورتوں سے بڑھی ہوئی ایک جامع اور پائیدار حقیقت ہے۔
