رموز بے خودی

آشکارا شد که جابان است او

آشکارا شد که جابان است او

میر سربازان ایران است او

ترجمہ

پھر کھلا کہ وہ جابان ہے، اور ایران کے سپاہیوں کا بڑا سردار ہے۔

تشریح

علامہ اقبال حکایت کے اس موڑ پر قیدی کی اصل شناخت ظاہر کرتے ہیں۔ اب معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی معمولی سپاہی نہیں بلکہ جابان نامی بڑا ایرانی سپہ سالار ہے۔ اس انکشاف سے حکایت کی اخلاقی پیچیدگی کئی گنا بڑھ جاتی ہے، کیونکہ اب ایک فرد کو دی گئی امان پوری جنگی سیاست پر اثر ڈال سکتی ہے۔ شعر کے مطابق:

سچائی کا دیر سے کھلنا:

اب تک قیدی نے اپنی حقیقت چھپائے رکھی تھی، مگر آخرکار یہ حقیقت سامنے آتی ہے۔ اقبال اس انکشاف کو اس لیے مؤخر کرتے ہیں تاکہ مسلمان کی ابتدائی امان کسی مصلحت، خوف یا مقام شناسی پر مبنی محسوس نہ ہو۔ پہلے فیصلہ ہوا، پھر معلوم ہوا کہ قیدی کتنا بڑا آدمی تھا۔ یہی ترتیب اخلاقی عظمت کو اور نمایاں کرتی ہے۔

اگر پہلے معلوم ہوتا تو شاید نیتوں کے بارے میں شبہ پیدا ہوتا، مگر اب اصول کی خالص حیثیت زیادہ صاف دکھائی دیتی ہے۔

جابان کی حیثیت:

“میر سربازان ایران” کا مطلب یہ ہے کہ یہ شخص جنگ کے لحاظ سے نہایت اہم تھا۔ اس کے قتل یا نجات دونوں کے بڑے سیاسی اثرات ہو سکتے تھے۔ اقبال اس سے واضح کرتے ہیں کہ اسلامی امان کسی چھوٹے، بے اثر یا غیر اہم موقع پر نہیں آزمائی گئی، بلکہ ایک ایسے شخص کے بارے میں دی گئی جسے مار دینے سے دنیاوی اعتبار سے بہت فائدہ سمجھا جا سکتا تھا۔

اسی لیے بعد کے اشعار میں میرِ عسکر کے مطالبے کو ہم زیادہ سنجیدگی سے سمجھتے ہیں۔

امتحان کی شدت:

اب اصل سوال یہ ہے کہ جب حقیقت کھل گئی تو کیا پہلی دی ہوئی امان قائم رہے گی؟ یہاں اصول اور مصلحت آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ اسلامی تاریخ کی عظمت یہی ہے کہ ایسے مواقع پر بھی بعض فیصلے محض جنگی فائدے کے تحت نہیں کیے گئے، بلکہ ملت کے اخلاقی عہد کو مقدم رکھا گیا۔

اقبال اسی مقام پر فرد کے وعدے اور ملت کی روح کو ایک دوسرے سے باندھنے والے ہیں۔

شخص سے علامت تک:

جابان اب صرف ایک شخص نہیں رہتا، بلکہ شکست خوردہ مگر اہم دشمن کی علامت بن جاتا ہے۔ اس کے ساتھ برتا جانے والا سلوک اس بات کی علامت بنے گا کہ اسلامی اخوت اور امان کی قوت کس درجے کی ہے۔ دشمن بھی اگر امان پا لے تو یہ طاقت کے اخلاقی تابع ہونے کا اعلان ہے۔

گویا تاریخ یہاں ایک شخصیت کے ذریعے تہذیب کی روح کو پرکھ رہی ہے۔

آج کے لیے سبق:

بہت سی اخلاقی باتیں اس وقت آسان لگتی ہیں جب معاملہ چھوٹا ہو۔ مگر جب سامنے والا بڑا نام، بڑا مفاد، بڑی سیاسی حیثیت یا بڑا خطرہ رکھتا ہو تو اصول پر قائم رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اصول کی اصل عظمت بڑے مواقع پر ظاہر ہوتی ہے، چھوٹے مواقع پر نہیں۔

اگر عہد بڑا آدمی دیکھ کر بدل جائے تو وہ عہد نہیں رہتا، مصلحت رہ جاتا ہے۔

مثال

کبھی کسی معاہدے یا وعدے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ سامنے والا شخص غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اصل امتحان یہی ہوتا ہے کہ کیا وعدہ اب بھی اپنی حیثیت رکھتا ہے یا نہیں۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق جب معلوم ہوا کہ قیدی جابان جیسا بڑا سردار ہے، تو حکایت کی اخلاقی اہمیت اور بڑھ گئی۔ اسلامی امان کی عظمت اسی وقت کھلتی ہے جب وہ بڑے مفاد اور بڑی مصلحت کے مقابل بھی برقرار رہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button