ملت ار گردد اساس جان فرد
ملت ار گردد اساس جان فرد
عهد ملت می شود پیمان فرد
ترجمہ
اگر ملت فرد کی جان کی بنیاد بن جائے، تو ملت کا عہد ہی فرد کا پیمان بن جاتا ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں پچھلے اصول کو ایک اور درجے کی گہرائی دیتے ہیں۔ اگر ملت فرد کے وجود کی بنیاد بن جائے، تو فرد کے وعدے اور عہد بھی ملت کے عہد سے الگ نہیں رہتے۔ اس طرح شخصی اخلاق اور اجتماعی روح ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں۔ شعر کے مطابق:
اساسِ جان فرد:
ملت اگر محض بیرونی شناخت ہو تو فرد ضرورت پڑنے پر اس سے الگ بھی ہو سکتا ہے۔ مگر اگر ملت اس کی “جان” کی بنیاد بن جائے، یعنی اس کی خودی، اس کے شعور، اس کے اخلاق اور اس کے خدا سے تعلق کی زندہ صورت بن جائے، تو وہ فرد خود کو ملت سے الگ سمجھ ہی نہیں سکتا۔
اقبال کے نزدیک یہی زندہ نسبت ہے جس سے اسلامی جماعت محض تنظیم نہیں رہتی بلکہ روحانی وجود بن جاتی ہے۔
عہدِ ملت اور پیمانِ فرد:
اس مصرعے میں حکایت کا قانونی و اخلاقی نتیجہ آتا ہے۔ ایک مسلمان اگر امان دے دے تو چونکہ وہ ملت کے باطن سے جڑا ہوا ہے، اس لیے اس کا پیمان ملت کے عہد کے حکم میں آ جاتا ہے۔ یہ صرف ایک شخص کی نرمی یا رائے نہیں، ملت کے اخلاقی و شرعی دائرے کا اظہار بن جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اقبال فردی وعدے کو اتنا وزن دیتے ہیں۔
خودی اور اجتماع کا تعلق:
اقبال کے فلسفے میں فرد اور ملت ایک دوسرے کے مخالف نہیں۔ فرد ملت میں گم ہو کر مٹتا نہیں، بلکہ ملت کے اندر اپنی بلند تر معنی پاتا ہے۔ جب ملت اس کی جان کا حصہ بنے، تو اس کے افعال میں خود بخود زیادہ سنجیدگی، وفا اور وسعت آتی ہے۔
اس لیے ملت کا ربط فرد کی آزادی کو ختم نہیں کرتا، اسے باوقار بناتا ہے۔
اسلامی تہذیب کا راز:
یہ شعر بتاتا ہے کہ اسلامی تہذیب محض ادارہ جاتی قانون سے قائم نہیں رہتی، بلکہ افراد کے اندر ملت کے عہد کے زندہ احساس سے قائم رہتی ہے۔ اگر فرد کے باطن میں یہ شعور نہ ہو تو وہ ملت کے نام پر بھی خود غرضی کر سکتا ہے۔ مگر اگر ملت اس کی جان کی بنیاد ہو تو وفا اور امان داری فطری بن جاتی ہے۔
اسی بنیاد پر ابوعبید کے بعد کے الفاظ پورا تہذیبی وزن حاصل کرتے ہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج بہت سے لوگ امت کا نام لیتے ہیں مگر اپنے عملی فیصلوں کو خالصتاً ذاتی سمجھتے ہیں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اگر ملت واقعی تمہاری جان کی بنیاد ہے تو تمہاری زبان، وعدہ، تجارت، تعلق اور دشمنی سب اس نسبت کے تابع ہونی چاہیے۔
امت کا نام لینا آسان ہے، اسے جان کی بنیاد بنانا اصل کام ہے۔
مثال
ایک سچا سپاہی یا جج اپنے منصب کے اصول کو اپنے ذاتی مزاج سے الگ نہیں رکھتا۔ اس کا ضمیر اتنا ڈھل چکا ہوتا ہے کہ اصول ہی اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ملت کے باب میں بھی یہی کیفیت مطلوب ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق جب ملت فرد کی جان کی بنیاد بن جائے تو اس کے وعدے بھی ملت کے عہد کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہی زندہ نسبت فردی اخلاق کو اجتماعی وفاداری میں بدل دیتی ہے۔