رموز بے خودی

گوشمال جستجو نا خوردہ ئی

گوشمال جستجو نا خوردہ ئی

زخمہ ہائے آرزو نا خوردہ ئی

ترجمہ

اسے ابھی تلاش و جستجو کی تربیت (گوشمالی) نہیں ملی، اور آرزو کے مضراب کی چوٹ بھی ابھی اس پر نہیں پڑی۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں خام فرد کی اس کیفیت کو بیان کرتے ہیں جس میں ابھی نہ اس کے اندر تلاش کا جذبہ بیدار ہوا ہے اور نہ آرزو کی تڑپ۔ شعر کے مطابق:

جستجو کی تربیت کا فقدان:

اقبال کہتے ہیں کہ اس فرد کو ابھی جستجو اور تلاش کی گوشمالی یعنی تربیت نہیں ملی۔ اس کے اندر سچائی اور مقصد کو تلاش کرنے کا جذبہ ابھی بیدار نہیں ہوا۔

جیسے ساز کو درست کرنے کے لیے اس کے کان مروڑے (گوشمالی) جاتے ہیں، ویسے ہی فرد کو بھی جستجو کی تربیت درکار ہے، جو ابھی اسے میسر نہیں آئی۔

آرزو کی چوٹ کا نہ لگنا:

شاعر کہتے ہیں کہ آرزو کے مضراب کی چوٹ ابھی اس پر نہیں پڑی۔ یعنی کسی بلند مقصد یا تڑپ نے ابھی اس کے دل کو نہیں چھیڑا۔

جس طرح مضراب کی چوٹ سے ساز میں نغمہ پیدا ہوتا ہے، اسی طرح آرزو کی تڑپ سے فرد کے اندر عمل اور جوش پیدا ہوتا ہے، جو ابھی اس میں موجود نہیں۔

خام فرد کی خاموشی:

اقبال یہ باور کراتے ہیں کہ جب تک فرد کے اندر جستجو اور آرزو بیدار نہ ہو، وہ ایک خاموش اور بے حرکت وجود ہی رہتا ہے۔

بیداری کی ضرورت:

اس کیفیت کا علاج یہ ہے کہ کوئی رہنما اس کے اندر جستجو اور آرزو کا شعلہ بھڑکائے، تاکہ اس کی خفتہ صلاحیتیں بیدار ہوں۔

مثال

جیسے ایک نیا ساز اس وقت تک خاموش رہتا ہے جب تک اسے درست کر کے مضراب سے نہ چھیڑا جائے، ویسے ہی خام فرد اس وقت تک بے حرکت رہتا ہے جب تک اس کے اندر جستجو اور آرزو بیدار نہ ہو۔

خلاصہ

اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ خام فرد میں ابھی نہ جستجو کی تربیت ہے اور نہ آرزو کی تڑپ، اور اسی لیے اس کی صلاحیتیں خاموش اور خفتہ ہیں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button