رموز بے خودی

از تف او خویش را سوزد حیات

از تف او خویش را سوزد حیات

آتشی چون لاله اندوزد حیات

ترجمہ

اس کی تپش سے زندگی خود کو جلاتی ہے، اور لالہ کی طرح ایک آگ اپنے اندر جمع کر لیتی ہے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال مدعا کی حرارت کو اور زیادہ جمالیاتی اور باطنی انداز میں بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مقصد کی تپش سے زندگی خود کو جلاتی ہے، اور لالہ کی مانند ایک آگ اپنے اندر اندوز کرتی ہے۔ یہاں “سوختن” ہلاکت کے معنی میں نہیں بلکہ تطہیر، تربیت اور بیداری کے معنی میں ہے۔ زندگی جب کسی بڑے مقصد سے جڑتی ہے تو آرام طلب نہیں رہتی۔ وہ اپنے اندر کے جمود، غفلت، سستی اور بے سمت خواہشات کو جلا کر ایک نئی کیفیت پیدا کرتی ہے۔ یہی وہ سوز ہے جس کے بغیر بڑی زندگی پیدا نہیں ہوتی۔

“لالہ” اقبال کی شاعری میں بار بار آنے والی علامت ہے۔ لالہ کی سرخی، اس کے باطن کی آگ، اور اس کی تنہائی میں کھلنے والی شان، سب سوزِ دروں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اقبال جب کہتے ہیں کہ حیات لالہ کی طرح آگ اندوز کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مقصد والی زندگی اپنے اندر ایک تخلیقی تپش جمع کرتی ہے۔ یہ آگ اسے جلاتی بھی ہے اور چمکاتی بھی ہے، آزماتی بھی ہے اور سنوارتی بھی ہے۔ مقصد کی تپش کے بغیر زندگی میں رنگ کم رہ جاتا ہے؛ اس کے ساتھ وہ جاندار، گرم اور باوزن ہو جاتی ہے۔

تپش کا مفہوم:

ہر بڑی چیز کسی نہ کسی تپش سے پیدا ہوتی ہے۔ سونا آگ میں تپ کر خالص ہوتا ہے، لوہا بھٹی میں جا کر ڈھلتا ہے، اور بیج زمین کے اندر خاموش جدوجہد کے بعد پھوٹتا ہے۔ اقبال اس کائناتی قانون کو حیات پر لاگو کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ مقصد انسان کو ایک ایسی تپش دیتا ہے جو اسے سطحی راحت سے نکال کر گہری پختگی کی طرف لے جاتی ہے۔

یہ تپش اس لیے ضروری ہے کہ انسان کا نفس آسانی پسند ہے۔ اگر کوئی چیز اسے اندر سے نہ جلائے تو وہ جلد آرام اور عادت کے قالب میں ڈھل جاتا ہے۔ مدعا اسی جمود کو توڑتا ہے۔

خود کو جلانا:

“خویش را سوزد” کا مطلب یہ ہے کہ زندگی اپنی تعمیر کے لیے اپنی ہی بعض شکلوں کو قربان کرتی ہے۔ وہ اپنی سستی کو چھوڑتی ہے، اپنی کم ہمتی کو جلاتی ہے، اپنے خوف سے لڑتی ہے، اور اپنی خواہشات کو مقصد کے تابع کرتی ہے۔ اس جلنے کے بغیر اندر کوئی نئی روشنی پیدا نہیں ہوتی۔

یہ جلنا خود سوزی نہیں، خود سازی ہے۔ اقبال کی زبان میں آگ تباہی کی علامت ہی نہیں، تخلیق کی علامت بھی ہے۔ یہی آگ جب باطن میں سنور جاتی ہے تو انسان کے چہرے، کردار اور تاریخ میں نور بن کر ظاہر ہوتی ہے۔

لالہ کی آگ:

لالہ اپنی ظاہری نرمی کے باوجود باطن میں آگ رکھتا ہے۔ اقبال اسی میں ایک ایسا حسن دیکھتے ہیں جو نازک بھی ہے اور پُر سوز بھی۔ مقصد والی زندگی بھی کچھ ایسی ہی ہوتی ہے۔ وہ باہر سے شاید معمولی نظر آئے، مگر اس کے اندر کی تپش اسے باقی زندگانیوں سے ممتاز کر دیتی ہے۔

یہی آگ فرد کو وقار دیتی ہے اور ملت کو رنگ۔ قومیں صرف اداروں اور نعروں سے زندہ نہیں رہتیں؛ ان کے اندر ایسے دل بھی ہونے چاہییں جن میں لالہ کی طرح سوز جمع ہو۔ اقبال اسی باطنی رنگ اور حرارت کے شاعر ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج ہمارے ہاں بہت جگہ نرمی تو ہے مگر سوز کم، مصروفیت تو ہے مگر آگ کم، اظہار تو ہے مگر اندر کی تپش کم۔ اقبال کا شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بڑی زندگی آرام دہ سردی سے نہیں بنتی۔ اس کے لیے ایک داخلی آگ چاہیے جو انسان کو بہتر بننے، زیادہ سچا ہونے، اور اپنے مقصد کے لیے کچھ کھونے پر آمادہ کرے۔

اگر ہم اپنی انفرادی اور ملی حیات میں یہ لالہ رنگ آگ دوبارہ پیدا کر لیں تو بہت سی مردہ رسمیں دوبارہ معنی پا سکتی ہیں۔ اقبال ہمیں اذیت نہیں، پختگی کی آگ کی طرف بلاتے ہیں۔ یہی آگ زندگی کی اصل آرائش ہے۔

مثال

جیسے مٹی کا برتن بھٹی سے گزرے بغیر مضبوط نہیں ہوتا، ویسے ہی انسان اور قوم مقصد کی تپش کے بغیر پختہ نہیں ہوتے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک سچا مدعا زندگی میں ایسی تپش پیدا کرتا ہے جو اسے خود سازی کی آگ سے گزارتی ہے۔ یہی آگ لالہ کی سرخی کی طرح باطن کو رنگ، وزن اور بیداری عطا کرتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button