نقش او گر سنگ گیرد دل شود
نقش او گر سنگ گیرد دل شود
دل گر از یادش نسوزد گل شود
ترجمہ
اگر اس کا نقش پتھر پر بھی پڑ جائے تو وہ دل بن جاتا ہے، لیکن دل اگر اس کی یاد سے نہ جلے تو وہ مٹی کا ڈھیلا بن رہ جاتا ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں اس حقیقت کو نہایت لطیف انداز میں بیان کرتے ہیں کہ روحانی تاثیر اور یادِ حق ایسی چیز ہے جو سخت سے سخت وجود کو بھی نرم اور زندہ بنا سکتی ہے، جبکہ وہ دل جو اس یاد سے محروم ہو، اپنی ظاہری دھڑکن کے باوجود معنوی طور پر مردہ ہو جاتا ہے۔ شعر کے مطابق:
نقش کی تاثیر:
“نقش او” سے مراد وہ اثر، وہ یاد، وہ نسبت اور وہ شعاع ہے جو حق کی طرف سے یا حق والے باطن سے وجود پر پڑتی ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ اگر یہی نقش پتھر پر بھی ثبت ہو جائے تو پتھر دل بن جاتا ہے۔ یہاں پتھر سختی، بےحسی اور جمود کی علامت ہے، جبکہ دل احساس، سوز، ادراک اور زندگی کی علامت ہے۔
گویا حق کی نسبت میں ایسی تاثیر ہے جو بےجان میں بھی زندگی کی کیفیت پیدا کر سکتی ہے۔
دل کی اصل تعریف:
دوسرے مصرع میں اقبال ایک بڑا معیار قائم کرتے ہیں۔ دل صرف گوشت کا ٹکڑا یا جذبات کا مرکز نہیں، بلکہ وہ باطن ہے جو یادِ حق سے جلتا، نرم ہوتا اور بیدار رہتا ہے۔ اگر دل میں یہ سوز باقی نہ رہے تو وہ دل کہلانے کے باوجود “گل” ہو جاتا ہے، یعنی بےروح مٹی کی طرح محض ظاہری وجود رہ جاتا ہے۔
یہی اقبال کی نظر میں زندہ دل اور مردہ دل کا فرق ہے۔
سوزِ یاد کی ضرورت:
یادِ حق محض زبانی تسبیح یا رسمی ذکر کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسی باطنی کیفیت ہے جو انسان کو اپنے رب، اپنے انجام اور اپنے فرض سے باخبر رکھتی ہے۔ جب یہ یاد دل میں حرارت پیدا کرتی ہے تو وہ ظلم پر بےحس نہیں رہتا، حق سے غافل نہیں رہتا، اور خیر کے لیے سست نہیں رہتا۔
یعنی دل کا جلنا تباہی نہیں بلکہ حقیقی حیات کی شرط ہے، کیونکہ یہی سوز اسے مردہ مادہ بننے سے بچاتا ہے۔
فرد کی اخلاقی تربیت:
اس شعر میں فرد کے لیے بڑا سبق ہے۔ انسان کبھی کبھی اپنے آپ کو نرم دل سمجھتا ہے، مگر اگر اس کی حساسیت صرف ذاتی مفاد یا وقتی جذبات تک محدود ہو تو وہ اقبالی معیار پر ابھی دل نہیں بنا۔ دل وہ ہے جو حق کے حضور نرم ہو، باطل کے سامنے بےحس نہ ہو، اور یادِ خدا سے اپنی اخلاقی حرارت برقرار رکھے۔
اس طرح دل کی تربیت مسلسل بیداری، ذکر اور سچی وابستگی سے ہوتی ہے۔
ملت کی کیفیت:
ایک ملت بھی اسی اصول کے تحت جیتی یا مر جاتی ہے۔ اگر اس کے افراد کے دل یادِ حق سے خالی ہو جائیں تو ان کی اجتماعی زندگی ظاہری ڈھانچے کے باوجود بےروح ہو جاتی ہے۔ مگر اگر حق کی نسبت ان کے پتھر جیسے حالات پر بھی اثر ڈال دے تو وہی امت دوبارہ زندہ ہو سکتی ہے۔ اقبال یہاں اجتماعی احیا کا دروازہ بھی کھول رہے ہیں۔
پس دل کی زندگی اور ملت کی زندگی دونوں کا راز سوزِ یاد میں ہے۔
مثال
کبھی ایک سخت مزاج انسان کسی سچی نصیحت، کسی بڑے صدمے یا کسی روحانی تجربے کے بعد بالکل بدل جاتا ہے۔ وہی شخص جو پہلے بےحس تھا، نرم دل اور ذمہ دار بن جاتا ہے۔ یہ فرق اسی باطنی تاثیر کا نتیجہ ہے جسے اقبال “نقش او” کہہ رہے ہیں۔
خلاصہ
اقبال کے نزدیک حق کی یاد اور اس کی تاثیر پتھر کو بھی دل بنا سکتی ہے، لیکن وہ دل جو اس سوز سے محروم ہو جائے، محض مٹی کی مانند رہ جاتا ہے۔ حقیقی دل وہی ہے جو یادِ حق سے زندہ اور گرم رہے۔
