رموز بے خودی

مایہ دار سیرت دیرینہ او

مایہ دار سیرت دیرینہ او

رفت و آئندہ را آئینہ او

ترجمہ

وہ (فرد) اپنی پرانی سیرت اور روایات کا سرمایہ رکھتا ہے۔ وہ ملت کے ماضی اور مستقبل دونوں کا آئینہ ہوتا ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں فرد کو ملت کی روایت، تاریخ اور تسلسل کا امین قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک فرد محض ایک لمحے کی پیداوار نہیں بلکہ ماضی اور مستقبل کو جوڑنے والی کڑی ہے۔ شعر کے مطابق:

پرانی روایات کا سرمایہ:

فرد تنہا ہونے کے باوجود اپنی ملت کی صدیوں پرانی سیرت اور روایات کا حامل ہوتا ہے۔ یہی ورثہ اس کی پہچان اور اس کے کردار کی بنیاد بنتا ہے۔

یہ سرمایہ اسے اکیلا ہونے کے باوجود ایک عظیم تاریخ سے جوڑ دیتا ہے، اور وہ اپنے اسلاف کی امانت کو اگلی نسلوں تک منتقل کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔

ماضی کا آئینہ:

فرد کے کردار اور اطوار میں ملت کا گزرا ہوا کل جھلکتا ہے۔ اس کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی قوم کا ماضی کیسا رہا اور اس نے کیا اقدار سنبھالی ہیں۔

مستقبل کا آئینہ:

اسی طرح فرد کے اعمال، سوچ اور کردار میں ملت کا آنے والا کل بھی دکھائی دیتا ہے۔ آج کا فرد جیسا ہوگا، کل کی ملت ویسی ہی تعمیر ہوگی۔

اس طرح فرد بیک وقت ماضی کا وارث اور مستقبل کا معمار ہے، اور دونوں زمانے اس کی ذات میں جھلکتے ہیں۔

تسلسل کی کڑی:

اقبال یہ باور کراتے ہیں کہ فرد ملت کے تسلسل کی وہ کڑی ہے جس کے ذریعے روایت زندہ رہتی ہے اور نسل در نسل منتقل ہوتی ہے۔

مثال

جیسے ایک بیج میں پورے درخت کا ماضی (اس کی جڑ اور اصل) اور مستقبل (اس کے پھل اور شاخیں) پوشیدہ ہوتا ہے، ویسے ہی فرد میں ملت کا ماضی اور مستقبل دونوں موجود رہتے ہیں۔

خلاصہ

اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ فرد اپنی ملت کی روایات کا امین اور اس کے ماضی و مستقبل کا آئینہ ہے، اور اسی تسلسل سے قوم کی زندگی قائم رہتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button