رموز بے خودی

گفت می خواهم که جان بخشی مرا

گفت می خواهم که جان بخشی مرا

چون مسلمانان امان بخشی مرا

ترجمہ

اس نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ تم میری جان بخش دو، اور مسلمانوں کی طرح مجھے امان دو۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں حکایت کے مرکزی اخلاقی لمحے کو سامنے لاتے ہیں۔ دشمن قیدی، جو اپنی حقیقت چھپا رہا تھا، اب مسلمان سے امان مانگتا ہے اور خاص طور پر “چون مسلمانان” کہہ کر اسلامی کردار سے اپیل کرتا ہے۔ یہی نکتہ پوری حکایت کو عام جنگی معاملے سے اٹھا کر ملت کے اخلاقی وجدان کی سطح پر لے جاتا ہے۔ شعر کے مطابق:

جان بخشی کی درخواست:

جان بخشنے کی درخواست محض خوف کا اظہار نہیں، ایک اخلاقی مخاطبہ بھی ہے۔ قیدی جانتا ہے کہ سامنے والا محض سپاہی نہیں، مسلمان ہے۔ اس لیے وہ صرف رحم نہیں مانگ رہا بلکہ اس معیار سے مخاطب ہو رہا ہے جو اسلام اپنے ماننے والوں کے سامنے رکھتا ہے۔

گویا وہ مسلمان کے سامنے اس کے اپنے دین کا آئینہ رکھ دیتا ہے۔

“چون مسلمانان” کی اہمیت:

یہ الفاظ بہت معنی خیز ہیں۔ قیدی یہ نہیں کہتا کہ انسانیت کے نام پر چھوڑ دو، بلکہ کہتا ہے مسلمانوں کی طرح امان دو۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام کی ایک پہچان، ایک شہرت، ایک اخلاقی ساکھ پہلے ہی قائم تھی: مسلمان امان دیتے ہیں، وعدہ نبھاتے ہیں، اور بے اصول خونریزی نہیں کرتے۔

اقبال کے نزدیک یہی ملت کی اصل عزت ہے کہ دشمن بھی اس کے اخلاقی مزاج کو پہچانتا ہو۔

امان کا مفہوم:

امان صرف جان بچا لینے کا وعدہ نہیں، بلکہ تحفظ، بھروسہ اور حرمت کا اعلان ہے۔ امان ملنے کے بعد دشمن بھی ایک نئے قانونی و اخلاقی دائرے میں آ جاتا ہے جہاں اس کا خون بہانا جائز نہیں رہتا۔ اسی لیے امان کا سوال بہت بھاری سوال ہے۔ اسے دینا محض نرمی نہیں، ایک شرعی و تہذیبی عہد ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بعد کے اشعار میں ملت اور فرد کے عہد کا مسئلہ مرکزی بن جاتا ہے۔

اسلامی ساکھ کی ذمہ داری:

یہاں ایک بڑا سبق یہ بھی ہے کہ مسلمان کی انفرادی حرکت بھی پوری امت کی ساکھ سے جڑی ہوتی ہے۔ جب قیدی “چون مسلمانان” کہتا ہے تو گویا فرد سے زیادہ ملت کو مخاطب کرتا ہے۔ ایک مسلمان اگر وعدہ توڑے تو صرف خود نہیں گرتا، امت کا اخلاقی اعتبار بھی مجروح ہوتا ہے۔

اقبال اسی لیے فردی فعل کو ملت کی امانت کے ساتھ باندھتے ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی دنیا مسلمان کو صرف اس کے عقیدے سے نہیں، اس کے کردار سے جانچتی ہے۔ اگر ہماری زبان پر دین ہو مگر وعدہ، امانت، پناہ اور انصاف کے موقع پر ہم لڑکھڑا جائیں تو “چون مسلمانان” کی یہ ساکھ کمزور ہو جاتی ہے۔

یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دین کی عزت کئی بار ہمارے عملی فیصلوں پر قائم رہتی ہے، بڑے نعروں پر نہیں۔

مثال

کسی ایسے شخص سے ضمانت مانگنا جو دیانت کے لیے معروف ہو، دراصل اس کی ذاتی نہیں بلکہ اس کی پوری ساکھ پر بھروسہ کرنا ہوتا ہے۔ یہی کیفیت یہاں “مسلمانان” کے لفظ میں موجود ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق جب دشمن نے مسلمانوں کی طرح امان مانگی تو مسئلہ محض رحم کا نہ رہا، بلکہ پوری ملت کے اخلاقی اعتبار کا بن گیا۔ اسلامی امان فردی نرمی نہیں، ایک بلند تہذیبی عہد ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button