اسلام اور مسلمانعلامہ اقبال شاعری

احکام الہی


Deprecated: preg_split(): Passing null to parameter #3 ($limit) of type int is deprecated in /home/u500905684/domains/urdupoetrylibrary.com/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/functions/post-functions.php on line 805

پابندی تقدیر کہ پابندیِ احکام
یہ مسئلہ مشکل نہیں اے مردِ خردمند

معانی: پابندیَ تقدیر: تقدیر کی پابندی یعنی حکم الہٰی کو ماننا ۔ خردمند: عقل مند ۔
مطلب: اے عقل مند شخص اس بات کا جواب مشکل نہیں ہے کہ تجھے تقدیر کے احکام کی پابندی کرنی چاہیے یا اللہ کے احکام کی ۔

اک آن میں سو بار بدل جاتی ہے تقدیر
ہے اس کا مقّلِد ابھی ناخوش، ابھی خورسند

معانی: مقلد: تقلید کرنے والا، ماننے والا ۔ ناخوش: ناراض ۔ خورسند: خوش ۔
مطلب: تقدیر تو مستقل کسی کی بھی نہیں ہوتی ۔ ایک لمحہ میں سو بار بدل سکتی ہے ۔ تقدیر کے احکام کی پیروی کرنے والا اگر تقدیر کا فیصلہ اس کی پیروی کرنے والے کے حق میں نہیں تو وہ اس سے ناراض ہو جاتا ہے ۔ تقدیر کی پابندی دھوکہ ہے ۔ اصل پابندی اللہ کے احکام کی ہے جس کے تقدیر بھی تابع ہے ۔

تقدیر کے پابند نباتات و جمادات
مومن فقط احکامِ الہٰی کا ہے پابند

معانی: نباتات: جڑی بوٹیاں ۔ جمادات: پتھر ریت ۔ پابند: یعنی تسلیم کرنے والا ۔
مطلب: تقدیر کی پابندی کرتے تو ہم نے جمادات (زمین، پہاڑ، پتھر، سونا، موتی وغیرہ بے جان اشیا) کو دیکھا ہے یا نباتات کو جو گھاس پھوس فصلوں وغیرہ پر مشتمل ہے ۔ مومن کوئی جماداتی یا نباتاتی مخلوق نہیں ہے وہ حرکی مخلوق ہے ۔ اور سوائے اللہ کے احکام کے کسی اور کے حکم کو تسلیم نہیں کرتی ۔ تقدیر کو تو مومن احکام الہٰی کے تحت سمجھتا ہے اس لیے وہ اس کی پابندی نہیں کرتا ۔


Deprecated: preg_split(): Passing null to parameter #3 ($limit) of type int is deprecated in /home/u500905684/domains/urdupoetrylibrary.com/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/functions/post-functions.php on line 805

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button