علامہ اقبال شاعریبال جبریل (حصہ اول)

دگرگوں ہے جہاں ، تاروں کی گردش تيز ہے ساقی

دگرگوں ہے جہاں تاروں کی گردش تیز ہے ساقی
دل ہر ذرہ میں غوغائے رستاخیز ہے ساقی

معانی: دگرگوں : خراب حال ۔ گردش: چکر لگانا ۔ غوغائے رستاخیز: اٹھو اٹھو کا شور ۔
مطلب: اس عالم انتشار میں ملت اسلامیہ کی مخالف قوتوں نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں جن کے پنجے میں پورا ماحول عرصہ قیامت بنا ہوا ہے ۔

متاعِ دین و دانش لُٹ گئی اللہ والوں کی
یہ کس کافر ادا کا غمزہَ خوں ریز ہے ساقی

معانی: متاعِ دین و دانش: مذہب اور عقل کی دولت ۔ غمزدہَ خوں ریز: خون بہانے کی ادا ۔
مطلب: وہ لوگ جو خداوند ذوالجلال کے حقیقی نام لیوا ہیں اب وہ ایسی مشکلات سے دوچار ہو چکے ہیں کہ انھوں نے اپنے حقیقی منصب کو بھی فراموش کر دیا ۔

وہی دیرینہ بیماری وہی نامحکمی دل کی
علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے ساقی

معانی: نامحکمی: کچا پن ۔ نشاط انگیز: عیش دینے والا پانی یعنی شراب ۔
مطلب: امت مسلمہ میں عقیدے اور جذبات کی سطح پر ماضی کی طرح ایک بے یقینی کی کیفیت طاری ہے ۔ اس مسئلے کا حل ایک انقلاب نامہ میں مضمر ہے ۔ ایسا انقلاب جو سرور کائنات کے فرمودات سے ہم آہنگ ہو ۔

حرم کے دل میں سوزِ آرزو پیدا نہیں ہوتا
کہ پیدائی تری اب تک حجاب آمیز ہے ساقی

معانی: سوزِ آرزو: خواہش کی گرمی ۔ پیدائی: ظاہر ہونا ۔ حجاب آمیز: پردے میں ۔
مطلب: اس شعر میں بھی اقبال خدا وند تعالیٰ سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں کہ مسلم امہ کے دل جذب و کیف سے خالی ہو چکے ہیں ۔ حوصلہ اور بیداری کی قوت ناپید ہو چکی ہے ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ تیرے مظاہر پردہَ حجاب میں ہیں ۔ اگر تری تجلیات ان کے دلوں کو منور کر دیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ان میں وہ جذبہ پیدا نہ ہو جائے جو ابتدائے اسلام کا آئینہ دار تھا ۔

نہ اٹھا پھر کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے
وہی آب و گلِ ایراں ، وہی تبریز ہے ساقی

معانی: کوئی رومی: مولانا جلال الدین رومی ۔ لالہ زاروں : پھولوں کے باغ ۔ آب و گل: پانی اور مٹی ۔ تبریز: ایران کا شہر ۔
مطلب: اس حقیقت کا کسے علم نہیں کہ اقبال کا شمار مولانا روم کے مداحوں میں ہوتا ہے وہ ان کے افکار و نظریات کو اپنی سوچ کا مرکز و محور تصور کرتے ہیں ۔ دوسری مولانا روم کے استاد شمس تبریز کا تعلق بھی ایران سے ہی تھا یہی وجہ تھی کی اقبال مملکت ایران اور اس کے دانشوروں کی صلاحیت کے ہمیشہ قائل تھے ۔ اس امر پر کبیدہ خاطر ہیں کہ مولانا روم کے بعد ایران کی سرزمین سے کوئی دوسرا ایسا دانشور پیدا نہیں ہوا جو مسلمانان عالم کی رہنمائی کر سکے ۔

نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

معانی: کشتِ ویراں : اجڑی ہوئی کھیتی ۔ زرخیز: اچھی پیداوار دینے والی ۔
مطلب: اس شعر میں علامہ اقبال کی رجائیت پسندی پھر سے لوٹ آئی ہے اور کسی نوع کی نا امیدی کا شکار ہونے کے بجائے حوصلہ مندی کا مظاہری کرتے ہوئے یقین ظاہر کرتے ہیں کہ ذرا حالات سازگار ہوں تو ہم ہر مرحلہ جاں گداز سے گزر سکتے ہیں ۔

فقیرِ راہ کو بخشے گئے اسرارِ سلطانی
بہا میری نوا کی دولتِ پرویز ہے ساقی

معانی: بہا میری نوا: میری آواز کی قیمت ۔ دولتِ پرویز: پرویز، ایرانی بادشاہ کی سلطنت کے برابر ہے ۔
مطلب: قدرت نے مجھے ایسے درویش کو جن رازہائے درون پردہ سے آشنا کیا ہے اور میں جس انداز سے ان کو عام لوگوں پر منکشف کرتا ہوں اس پر بادشاہوں کے خزانے بھی نچھاور کئے جا سکتے ہی ۔

————————–

Translation

Dirgargoon Hai, Jahan, Taaron Ki Garzish Taiz Hai Saqi
Dil Har Zarra Mein Ghogha’ay Rasta Khaiz Hai Saqi

Mataa-e-Deen-o-Danish Lut Gyi Allah Walon Ki
Ye Kis Kafir Ada Ka Ghamzada’ay Khoonraiz Hai Saqi

Wohi Daireena Bemari, Wohi Na-Mehkami Dil Ki
Ilaj Iss Ka Wohi Aab-e-Nishaat Anghaiz Hai Saqi

Haram Ke Dil Mein Souz-e-Arzoo Payda Nahin Hota
Ke Paidai Teri Ab Tak Hijab Amaiz Hai Saqi

Na Utha Phir Koi Rumi Ajam Ke Lala-Zaaron Se
Wohi Aab-o-Gill-e-Iran, Wohi Tabraiz Hai Saqi

Nahin Hai Na-Umeed Iqbal Apni Kisht-e-Weeran Se
Zara Nam Ho To Ye Mitti Bohat Zarkhaiz Hai Saqi

Faqeer-e-Rah Ko Bakhshe Ga’ay Asrar-e-Sultani
Baha Meri Nawa Ki Doulat-e-Pervaiz Hai Saqi

———————-

Contrary runs our planet, the stars whirl fast, oh Saki!
In every atom’s heartbeat a Doomsday blast, oh Saki!

Torn from God’s congregation its dower of faith and reason,
And godlessness in fatal allurement dressed, oh Saki!

For our inveterate sickness, our wavering heart, the cure—
That same joy‐dropping nectar as in the past, oh Saki.

Within Islam’s cold temple no fire of longing stirs,
For still your face is hidden, veiled and unguessed, oh Saki.

Unchanged is Persia’s garden: soil, stream, Tabriz, unchanged;
And yet with no new Rumi is her land graced, oh Saki.

But of his barren acres Iqbal will not despair:
A little rain, and harvests shall wave at last, oh Saki!

On me, a beggar, secrets of empire are bestowed;
My songs are worth the treasures Parvez amassed, oh Saki.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button