شیشه ی ساسانیان در خون نشست
شیشه ی ساسانیان در خون نشست
رونق خمخانه یونان شکست
ترجمہ
ساسانیوں کا جام خون میں ڈوب گیا، اور یونان کے مے خانے کی رونق ٹوٹ گئی۔
تشریح
اس شعر میں علامہ اقبال دو عظیم تہذیبی استعاروں کے ذریعے ایک بڑے تاریخی انقلاب کی تصویر کھینچتے ہیں۔ “ساسانیان” ایران کی شاہانہ سلطنت، طبقاتی جاہ و جلال اور آتش پرست تمدن کی علامت ہیں، جبکہ “خمخانه یونان” یونانی فکر، فلسفیانہ سرمستی، اور ایک ایسے تہذیبی ذوق کی علامت ہے جو اپنے عقل پرور غرور میں مگن تھا۔ اقبال کہتے ہیں کہ اسلام کے ظہور اور اس کی انقلابی روح کے سامنے ساسانی اقتدار کا جام خون میں جا بیٹھا اور یونانی خم خانے کی سابقہ رونق بھی ٹوٹ گئی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر فکری یا تاریخی ورثہ یکسر مٹ گیا، بلکہ یہ کہ ان تہذیبوں کی خود مختار مرکزیت اور حاکمانہ دعوے کو ایک نئی توحیدی قوت نے چیلنج کر دیا۔ شعر کے مطابق:
شیشۂ ساسانیان:
شیشہ یہاں عیش، لطافت، نازک وقار اور شاہانہ زندگی کی علامت ہے۔ ساسانی سلطنت ظاہری شان و شوکت، درباری نظام اور نسلی امتیاز پر قائم تھی۔ اقبال جب کہتے ہیں کہ اس کا شیشہ خون میں بیٹھ گیا تو وہ اس شان کے خونی انجام اور اس کے سیاسی زوال دونوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یعنی وہ جام جو کبھی اقتدار کی سرشاری کا نشان تھا، اب خون آلود تاریخ کا استعارہ بن گیا۔
اس میں ایک تہذیبی تبصرہ بھی ہے: ایسی عظمت جو عدل، توحید اور انسانی برابری سے خالی ہو، آخرکار اپنے ہی غرور کے خون میں بیٹھ جاتی ہے۔
خمخانهٔ یونان:
خم خانہ سرمستی، فکری لذت اور تہذیبی ذوق کی علامت ہے۔ یونان اقبال کے ہاں محض ایک قوم نہیں بلکہ عقلِ مجرد، فلسفیانہ نرگسیت اور ایسے فکری سانچے کی نمائندگی کرتا ہے جو کبھی روحانی حرارت سے کٹ کر محض ذہنی کھیل بن جاتا ہے۔ “رونق خمخانه یونان شکست” کا مطلب یہ ہے کہ وہ پرانی مرکزیت، وہ خود اعتمادی اور وہ تہذیبی چمک باقی نہ رہی جس پر یونانی روایت نازاں تھی۔
اسلام نے محض تلوار سے نہیں بلکہ ایک زندہ توحیدی تصورِ انسان، اخلاق اور اجتماع کے ذریعے اس خم خانے کی یک طرفہ مرکزیت توڑ دی۔
اسلامی انقلاب کی نوعیت:
یہ شعر ہمیں بتاتا ہے کہ اسلام کا تاریخی ظہور صرف ایک نئی حکومت کا قیام نہ تھا، بلکہ اس نے دو بڑی دنیاؤں کو چیلنج کیا: ایک شاہانہ جبر اور طبقاتی امتیاز کی دنیا، دوسری فکری نخوت اور روح سے کٹی ہوئی ذہانت کی دنیا۔ اسلام نے انسان کو خدا کے سامنے برابر کھڑا کیا، ذمہ داری اور آزادی کو جوڑا، اور زندگی کے عملی میدان میں وحی کو مرکز بنا دیا۔
اسی لیے ساسانی جام بھی بے رنگ ہوا اور یونانی خم خانے کی قدیم رونق بھی ماند پڑ گئی۔ یہ انقلاب محض تخریب نہیں بلکہ ایک نئے توازن کی تعمیر تھا۔
تہذیبوں کا محاسبہ:
اقبال کسی تہذیب کو یکسر رد نہیں کرتے، مگر وہ اس کے باطل مرکز کو ضرور توڑتے ہیں۔ ایران کی قوت اگر ظلم اور طبقاتی سختی میں ڈھل جائے، یا یونان کی دانش اگر وحی سے بے نیاز ہو جائے، تو دونوں اپنی حد سے بڑھ جاتے ہیں۔ اسلام ان دونوں کو ایک بڑے توحیدی میزان پر پرکھتا ہے۔
اس لیے شعر میں فتح کا مفہوم صرف عسکری نہیں بلکہ فکری اور اخلاقی بھی ہے۔ ایک نئی امت نے دو قدیم روایتوں کے مرکزی غرور کو چیلنج کیا اور دنیا کو نئی سمت دی۔
آج کے لیے سبق:
آج بھی دنیا میں ساسانی اور یونانی علامتیں نئی شکلوں میں موجود ہیں: کہیں طاقت اور طبقاتی برتری کا غرور، کہیں عقلِ بے مہار اور روح سے کٹا ہوا علم۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ امت کی اصل ذمہ داری صرف سیاسی بقا نہیں بلکہ ان سب کے مقابلے میں ایک متوازن، توحیدی اور اخلاقی نظامِ حیات پیش کرنا ہے۔
اگر مسلمان اپنی اصل روح کے ساتھ اٹھے تو وہ آج بھی بہت سے باطل مراکز کی رونق توڑ سکتا ہے، مگر شرط یہ ہے کہ وہ خود بھی محض نعرے پر نہ رہے بلکہ حقیقتاً توحیدی عدل اور زندہ فکر کا حامل ہو۔
مثال
جیسے ایک نئی سچی روشنی آنے پر پرانے محل کے جھوٹے چراغ بھی ماند پڑ جاتے ہیں اور سرمستی کی محفل کی اصل کمزوری بھی کھل جاتی ہے، ویسے ہی اسلام کے ظہور نے ساسانی اقتدار اور یونانی مرکزیت کے دعووں کو بے نقاب کر دیا۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ اسلام کے انقلابی ظہور نے ساسانی شاہانہ نظام اور یونانی فکری مرکزیت دونوں کے غرور کو توڑ دیا۔ یہ محض سیاسی غلبہ نہیں بلکہ ایک توحیدی تہذیبی انقلاب کی علامت ہے جس نے دنیا کے پرانے مراکز کو نئے میزان پر پرکھا۔