رشتہ ی این قوم مثل انجم است
رشتہ ی این قوم مثل انجم است
چون نگہ ہم از نگاہ ما گم است
ترجمہ
اس قوم کا رشتہ ستاروں کی طرح ہے، کیونکہ ان کے درمیان تعلق نگاہ میں پورا نہیں آتا مگر حقیقت میں موجود ہوتا ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں ملت کے باطنی ربط کی ایک نہایت حسین تمثیل پیش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس قوم کا تعلق ستاروں کی مانند ہے۔ بظاہر ستارے ایک دوسرے سے جدا دکھائی دیتے ہیں، مگر آسمانی نظم میں وہ ایک نسبت، ایک ترتیب اور ایک بڑی معنویت کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ امت کا رشتہ بھی ایسا ہی ہے۔ شعر کے مطابق:
ستاروں کی مثال کیوں:
ستارے بظاہر آسمان میں دور دور ہوتے ہیں، مگر انسان جب آسمان کو دیکھتا ہے تو اسے ایک نظم، ایک حسن اور ایک ترتیب محسوس ہوتی ہے۔ اقبال اسی کیفیت کو امت کے لیے مثال بناتے ہیں۔ مسلمان مختلف ملکوں، نسلوں، زبانوں اور حالات میں ہو سکتے ہیں، مگر ان کے درمیان ایک ایسا روحانی ربط موجود ہے جو صرف ظاہری پیمانوں سے پوری طرح دکھائی نہیں دیتا۔
یہ مثال بتاتی ہے کہ دوری ہمیشہ جدائی نہیں ہوتی، اور ظاہری انتشار کے باوجود باطنی وحدت قائم رہ سکتی ہے۔
نگاہ سے اوجھل رشتہ:
“چون نگہ ہم از نگاہ ما گم است” میں بڑا لطیف نکتہ ہے۔ بعض رشتے ایسے ہوتے ہیں جو آنکھ سے نہیں ناپے جا سکتے۔ نہ ان کی حقیقت سرحدوں سے معلوم ہوتی ہے، نہ بازار سے، نہ دنیاوی طاقت کے پیمانوں سے۔ یہ دل کا، ایمان کا، دعا کا، تاریخ کا اور مقصد کا رشتہ ہوتا ہے۔
اقبال یہی کہنا چاہتے ہیں کہ ملت کا حقیقی بندھن نظر کی سطح پر نہیں، باطن کی سطح پر قائم ہوتا ہے۔ اسی لیے کمزور آنکھیں اسے نہیں دیکھتیں، مگر بیدار دل اسے محسوس کرتے ہیں۔
وحدت کی غیر مرئی بنیاد:
یہ شعر ایک اہم بات سکھاتا ہے کہ امت کی وحدت کا راز ہمیشہ ظاہری اداروں یا سیاسی طاقت میں نہیں ہوتا۔ وہ ایمان کی مشابہت، عبادت کی یکسانی، اخلاقی شعور، مشترک قبلہ اور ایک بڑے تاریخی نصب العین میں بھی رہتا ہے۔ یہ سب چیزیں اکثر آنکھ کو تو نہیں دکھتیں، مگر قوم کے ضمیر کو جوڑے رکھتی ہیں۔
یوں اقبال ملت کو بتاتے ہیں کہ اپنی وحدت کو صرف ظاہری پیمانوں سے نہ پرکھو، کیونکہ اس کی جڑ بہت گہری اور غیر مرئی بھی ہو سکتی ہے۔
فرد کی ذمہ داری:
چونکہ یہ رشتہ نگاہ سے اوجھل ہے، اس لیے اسے زندہ رکھنے کے لیے دل کی بیداری ضروری ہے۔ اگر فرد اپنی ایمانی نسبت، اپنی اخلاقی ذمہ داری اور اپنے روحانی شعور کو کمزور ہونے دے تو یہ آسمانی ترتیب اس کے لیے بےمعنی ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر دل بیدار ہو تو انسان خود کو ایک عظیم تر برادری کا زندہ حصہ محسوس کرتا ہے۔
یہ احساس تنہائی کو بھی کم کرتا ہے اور خدمت و وفاداری کے جذبے کو بھی بڑھاتا ہے۔
ملت کی امید:
یہ شعر مایوسی کے زمانوں میں امید بھی دیتا ہے۔ بظاہر اگر امت بکھری ہوئی نظر آئے تو بھی ضروری نہیں کہ اس کا رشتہ ٹوٹ گیا ہو۔ اگر اس کے دلوں میں ایمان، دعا، قبلہ، تاریخ اور مقصد کی مشترک یاد باقی ہے تو اس کا نظم پھر سے نمایاں ہو سکتا ہے، جیسے ستارے بکھرے دکھ کر بھی آسمان کی ایک ہی زینت ہوتے ہیں۔
پس اقبال امت کو اس کی غیر مرئی مگر حقیقی وحدت کا شعور دلاتے ہیں۔
مثال
موتیوں کی مالا میں دھاگا اکثر نظر نہیں آتا، مگر وہی سب کو جوڑتا ہے۔ اگر کوئی صرف موتی دیکھے تو اسے بکھراؤ محسوس ہو سکتا ہے، لیکن حقیقت میں انہیں ایک پوشیدہ رشتہ تھامے رکھتا ہے۔ ملت کی وحدت بھی اسی طرح کبھی کبھی غیر مرئی ہوتی ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق امت کا رشتہ ستاروں کی مانند ہے: بظاہر دور، مگر حقیقت میں مربوط۔ یہ وحدت آنکھ سے پوری طرح دکھائی نہیں دیتی، کیونکہ اس کی بنیاد ایمان، دل اور روحانی نسبت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
